حضرت حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ (متوفی 852ھ) لکھتے ہیں:
وَ اتَّفَقَ أَهْلُ السُّنَّةِ عَلَى وُجُوبِ مَنْع الطَّعْنِ عَلى أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ بِسَبِ مَا وَقَعَ لَهُمْ مِنْ ذَلِكَ، وَلَوْ عُرِفَ الْمُحق مِنْهُمْ، لِأَنَّهُمْ لَمْ يُقَاتِلُوا فِی تِلْكَ الْحُرُوبِ إِلَّا عَنْ اجْتِهَادٍ، وَقَدْ عَفَا اللهُ تَعَالىٰ عَنِ الْمُخْطِئِ فِی الِاجْتِهَادِ، بَلْ ثَبَتَ أَنَّهُ يُؤْجَرُ أَجْرًا وَاحِدًا، وَأَنَّ الْمُصِيبَ يُؤْجَرُ أَجْرَيْنِ، كَمَا سَيَأْتِی بَيَانُهُ فِی كِتَابِ الْأَحْكَامِ
(فتح الباری: جلد 13 صفحہ34 کتاب الفتن باب اذا التقی المسلمان بسیفیہما)
ترجمہ: اہلِ سنت کا اس امر پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں جو تنازعات پیش آئے ہیں، ان کی وجہ سے کسی پر طعن کرنا منع ہے، اگرچہ یہ معلوم ہو چکا ہے کہ ان میں سے کون حق پر تھا۔ وجہ یہ ہے کہ یہ باہمی جنگ و جدال اجتہاد کی بناء پر تھا، (نہ کہ عناد کی بناء پر) اور اللہ نے اجتہاد میں خطا کرنے والوں کو معاف کر دیا ہے۔ بلکہ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ مجتہدِ مصیب کو دو اجر، اور مجتہدِ مخطئی کو ایک اجر ملتا ہے۔