1: آنحضرتﷺ نے اپنی صاحبزادی محترمہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح سیدنا عثمانِ غنی اموی رضی اللہ عنہ سے کیا تھا۔
(اسد الغابہ: جلد 3 صفحہ،607 تحت عثمان بن عفانؓ)
2: جب سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو آنحضرتﷺ نے اپنی دوسری صاحبزادی سیدہ اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح سیدنا عثمان اموی رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔
(طبقات ابنِ سعد: جلد8 صفحہ 30، 31 ترجمہ سیدہ اُمِّ کلثوم بنتِ رسول اللہﷺ)
3: سیدنا امیرِ معاویہؓ کی بہن اُمُّ المؤمنین سیدہ اُمِّ حبیبہؓ بنتِ ابی سفیان اموی رضی اللہ عنہ سرکارِ دو عالمﷺ کے عقد میں تھیں۔
(ایضاً: جلد8 تحت رملہ بنتِ ابی سفیان)
4: سیدنا عثمانِ غنیؓ کی نانی محترمہ آنحضرتﷺ کی پھوپھی محترمہ تھیں، ان کا نام اُمِّ حکیم البیضاء بنتِ عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف ہے۔
(مستدرک حاکم: جلد3 صفحہ94 کتاب معرفۃ الصحابہ)
5: حضرت عثمانؓ کے والد اور والدہ دونوں کی طرف سے بالترتیب چھٹی اور پانچویں پشت میں سرورِ دو عالمﷺ سے مل جاتے ہیں۔
(مروج الذہب: جلد2 صفحہ 341 تحت ذکر نسبہ، و مع من اخباره و سیره)
6: حضرت امیرِ معاویہ بن ابی سفیان اموی رضی اللہ عنہما آنحضرتﷺ کے ہم زلف ہیں، اُمُّ المؤمنین سیدہ اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا کی بہن قریبۃ الصغریٰ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے نکاح میں تھیں۔
(الخبر: صفحہ 102 تحت اسلاف رسول اللہﷺ)
7: حضرت جعفر طیار بن ابی طالب کی پوتی حضرت اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا حضرت عثمانؓ کے صاحبزادے ابان بن عثمان بن عفان کے نکاح میں تھیں۔
(المعارف لابنِ قتیبہ: صفحہ 90 اخبار علی بن ابی طالب)
8: سیدنا حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کی صاحبزادی حضرت سکینہ بنتِ سیدنا حسینؓ حضرت عثمانؓ کے پوتے زید بن عمرو بن عثمان اموی کے نکاح میں تھیں۔
(طبقات ابنِ سعد: جلد8 صفحہ 347 ترجمہ سکینہ بنت حسینؓ)
9: حضرت حسینؓ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ بنت الحسین بن علی بن ابی طالب کا نکاح حضرت عثمانِ غنیؓ کے پوتے عبداللہ بن عمرو بن عثمان بن عفان اموی کے ساتھ ہوا۔
(ایضاً: صفحہ346 ترجمہ فاطمہ بنتِ حسینؓ)
10: حضرت حسنؓ کی پوتی ام القاسم بنت الحسن بن الحسن بن علی بن ابی طالب کا نکاح حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے پوتے مروان بن ابان بن عثمان بن عفان اموی کے ساتھ ہوا۔
(جمہرۃ الانساب العرب: جلد1 صفحہ85 تحت ولد ابی العاص بن امیہ)
11: ہند بنتِ ابی سفیان اموی کا نکاح حضرت علی ہاشمی رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے حارث بن نوفل بن عبدالمطلب بن ہاشم سے ہوا۔
(الاصابہ: جلد8 صفحہ345 حرف ہاء تحت ہند بنتِ ابی سفیان)
12: حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے صاحبزادہ علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب کی نانی میمونہ بنتِ ابی سفیان بن حرب اموی ہیں۔ گویا دوسرے لفظوں میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی ساس میمونہ بنتِ ابی سفیان اموی ہیں اور یہی حضرت علی اکبر شہیدِ کربلا کی نانی محترمہ ہیں۔
(نسب قریش: صفحہ 57 تحت ولد حسین بن علی بن ابی طالب)
13: آنحضرتﷺ کے چچا سیدنا عباسؓ بن عبدالمطلب کی پوتی لبابہ بنتِ عبید اللہ بن عباس سیدنا ابو سفیان اموی رضی اللہ عنہ کے پوتے ولید بن عتبہ بن ابی سفیان کے نکاح میں تھیں۔
(المحبر: صفحہ441 تحت اسماء من تزوج ثلاثہ ازواج فصاعداً من النساء)
14: حضرت امیرِ معاویہ امویؓ کے بھتیجے ابو القاسم بن ولید بن عتبہ بن ابی سفیان کا نکاح حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی پوتی رملہ بنتِ محمد بن جعفر بن ابی طالب سے ہوا۔
(المحبر: صفحہ441 تحت اسماء من تزوج ثلاثہ ازواج فصاعداً من النساء)
15: حضرت حسنؓ کی پوتی نفیسہ بنتِ زید بن الحسن بن علی بن ابی طالب کا نکاح حضرت امیرِ معاویہ اموی رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ولید بن عبد الملک بن مروان بن الحکم بن ابی العاص بن امیہ سے ہوا۔
(طبقات ابنِ سعد: جلد5 صفحہ 234)
16: حضرت علیؓ کی صاحبزادی رملہ بنتِ علی بن ابی طالب کا نکاح مروان کے لڑکے معاویہ بن مروان بن الحکم بن ابی العاص بن امیہ سے ہوا۔
(نسب قریش: صفحہ45)
17: حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی پوتی زینب بنتِ حسن بن حسن بن علی بن ابی طالب کا نکاح مروان کے پوتے ولید بن عبد الملک بن مروان سے ہوا۔
(نسب قریش، المصعب الزبیری: صفحہ 52)
18: مروان کے بھائی الحارث بن الحکم کے پوتے اسماعیل بن عبد الملک بن الحارث بن الحکم بن ابی العاص بن امیہ کے نکاح میں حضرت حسن بن علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہما کی پوتی خدیجہ بنتِ حسین بن حسن بن علی بن ابی طالب تھیں۔
(ایضاً: صفحہ171)
19: آنحضرتﷺ نے فرمایا: اگر میری چالیس بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں باری باری سب کو سیدنا عثمان اموی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دے دیتا۔
(اسد الغابہ: جلد 3 صفحہ 376 تحت عثمان بن عفانؓ)
جو قبیلہ مبغوض ہوا اور جس کے درمیان قبائلی تعصب اور نسلی عصبیت کار فرما ہو، کیا اس سے اسی طرح کے نسبی روابط رکھے جاتے ہیں؟