سوال شیعہ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہآیت یُوۡصِيۡكُمُ اللّٰهُ فِىۡۤ اَوۡلَادِكُمۡ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَيَن عام ہے۔
پھر رسول اللہﷺ اس سے کس طرح مستثنیٰ ہو سکتے ہیں حالانہ کوئی استثنی نہیں اور حدیث صحیح بھی ہو تو آیت کی ناسخ نہیں ہو سکتی۔
جواب: کئی آیات میں جو بظاہر عام ہوتی ہیں لیکن رسول اس حکم سے مستثنیٰ ہوتے ہیں جیسے آیت: فَانْكِحُوۡا مَا طَابَ لَـكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثۡنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت )
عام ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ چار بیویاں کرنا جائز ہے اس سے زائد نہیں رسول اللہﷺ ایسے مستثنیٰ ہیں چنانچہ آپﷺ کے نکاح میں نو بیویاں تھیں پھر جیسے آیتِ نکاح میں باوجود کسی استثناء کے نہ ہونے کے رسول مستثنیٰ ہیں اسی طرح يُوۡصِيۡكُمُ اللّٰهُ الخ۔
(سورۃ النساء آیت 11) سے بھی آپ مستثنیٰ ہیں اور احادیث ناس غائب نہیں ہیں بلکہ حدیث مذکور سے تخصیص مطلوب ہے اور حدیث مخصص آیت ہو سکتی ہے۔