لفظ مولیٰ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہشیعہ کہتے ہیں کہ لفظ مولیٰ سے مراد اولیٰ بالتصرف ہے اور اسی لفظ سے ولایتِ علی کا استدلال کیا جا سکتا ہے لیکن جہاں تک کتبِ لغت کا مطالعہ کیا گیا ہے ہمیں تو اس کا ثبوت نہیں مل سکا۔ قاموس جو لغت عربی کی مستند کتاب ہے اس میں لکھا ہے:
الْمَوْلَى الْمَالِكُ وَالْعَبُدُ والصَّاحِبُ وَ الْقَرِيبُ كَابْنِ الْعَمِ ونَحِوهِ وَالْجَارُ وَ الْحَلِيفُ وَالابُنُ وَالْعَمُ وَالشَّرِيكَ وَالرَّبُ وَالنَّاصِرُ وَالْمُحِبُّ وَالتَّابِعُ والصَّحْرُ۔
(قاموس: جلد 4، صفحہ 302)
ترجمہ: مولیٰ کے معنیٰ مالک اور غلام اور صاحب اور قریبی رشتہ دار جیسے چچا زاد بھائی وغیرہ اور پڑوسی اور حلیف اور بیٹا اور چچا اور سانجھی اور آقا اور مددگار اور داماد ہے۔
اب بتائیے اولیٰ بالتصرف کون سی کتاب میں لکھا ہے اور ایسے مشترک لفظ سے جس کے اس قدر مختلف معانی ہوں حتیٰ کہ غلام تابع حکم اور پسر پر بھی اس کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ استدلال کس طرح صحیح ہو سکتا ہے؟ اس جگہ سوائے محبت کے اور کوئی معنیٰ موزوں نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ وَالِ مَنْ وَآلَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ اس بات کا قرینہ موجود ہے کہ مولیٰ کا معنیٰ محبت اور دوست کا ہی ہے۔