مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 8 از 33

اس بات کو اس مثال سے سمجھئے کہ ائمہ مجتہدینؒ اور فقہائے امتؒ میں بہت سے ایسے حضرات بھی ہیں خو فنِ طب کے بھی ماہر ہیں، جیسے امام شافعیؒ وغیرہ اور بعض حضرات کی تصانیف بھی فنِ طب میں موجود ہیں، یہ حضرات اگر کسی طب کی کتاب میں اشیاء کے خواص و آثار بیان کرتے ہوئے یہ لکھیں کہ شراب میں فلاں فلاں خواص و آثار ہوتے ہیں، خنزیر کے گوشت پوست اور بال کے فلاں فلاں خواص و آثار ہیں، پھر کوئی آدمی طب کی کتاب میں ان کے کلام کو دیکھ کر ان چیزوں کو جائز قرار دینے لگے اور استدلال میں یہ کہے کہ فلاں امام یا عالم نے اپنی کتاب میں لکھا ہے اور وہاں اس کے حرام ہونے کا ذکر بھی نہیں کیا، تو کیا اس کا یہ استدلال درست ہوگا؟ اور یہ کوئی فرضی مثال ہی نہیں، شیخ جلال الدین سیوطیؒ اُمت کے کیسے بڑے عالم ہیں، علومِ شرعیہ میں سے شاید کوئی فن نہیں چھوڑا جس پر ان کی تصانیف نہ ہوں، ان کی بزرگی اور تقدس میں کسی کو کلام نہیں، مگر موضوعِ طب پر ان کی تصنیف ”کتاب الرحمۃ في الطب والحكمۃ“ دیکھ لیجیے اس میں متعدد امراض کے علاج اور منافع کی تحصیل کے لیے جو نسخے لکھے ہیں، ان میں بہت سی حرام چیزیں بھی شامل ہیں، اب اگر کوئی شخص اس کتاب کے حوالے سے ان کو جائز ثابت کرنے لگے اور سیوطیؒ کی طرف اس کو منسوب کرے تو کیا کوئی صحیح الحواس آدمی اس کو درست باور کر سکتا ہے؟ اسی طرح اور بہت سے علماء و فقہاء جن کی تصانیف فنِ طب وغیرہ میں ہیں، سب میں حرام چیزوں کے خواص و آثار اور طریقِ استعمال ذکر کیا جاتا ہے، خون اور انسانی بول و براز اور شراب اور خنزیر سبھی چیزوں کے خواص لکھے جاتے ہیں اور اس جگہ وہ اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ ان کا حرام یا نجس ہونا بھی اس جگہ لکھ دیں، کیونکہ یہ موضوعِ طب سے خارج ہے اور دوسری کتب میں بیان ہو چکا ہے۔ ان کی کتبِ طب سے کوئی آدمی حرام چیزوں کو ان کا نام لے کر حلال کرنے لگے تو اس میں قصور ان کا یا علامہ سیوطیؒ کا نہیں، کہ انہوں نے فنِ طب کی کتاب میں حرام اشیاء کے خواص کیوں لکھے؟ کیونکہ اس فن کا مقتضا اور موضوع ہی یہ ہے کہ سب چیزوں کے خواص و آثار لکھے جاویں، حلال، حرام ہونے کی بحث کا یہ موقع نہیں اور جہاں اس کا موقع ہے وہ ان کے حرام ہونے کو لکھ چکے ہیں۔ قصور اس عقلمند کا ہے جو اس حقیقت کو نظر انداز کر کے طبی کتاب سے حلال و حرام کے مسائل نکالنے لگے۔ اس طویل تمہید کے بعد میں اپنے اصل موضوعِ کلام کی طرف آتا ہوں کہ جن حضرات نے مشاجراتِ صحابہؓ (یعنی صحابہ کرامؓ کے باہمی اختلافات) کے معاملے کو تاریخی روایات سے چکانے اور انہیں کی بنیاد پر ان کے فیصلے صادر کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے ان کو مغالطہ یہیں سے لگا ہے کہ یہ تاریخی روایات جن کتابوں سے لی گئی ہیں ان کے مصنفین بڑے ثقہ علماء اور حدیث و تفسیر کے امام مانے گئے ہیں، اس پر غور نہیں کیا کہ وہ اس کتاب میں عقائد اور اعمالِ شرعیہ کی بحث لے کر نہیں بیٹھے، بلکہ فنِ تاریخ کی کتاب لکھ رہے ہیں جس میں صحیح و سقیم ہر طرح کی روایات بلا تنقید جمع کر دینے ہی پر اکتفاء کرنے کا معمول معلوم و معروف ہے۔ ہاں! اگر کوئی شخص ان سے عقیدہ یا عمل کا مسئلہ ثابت کرنا چاہے تو روایت اور راوی کی محدثانہ تنقید و تحقیق اس کی اپنی ذمہ داری ہے، وہ ائمہ فن اس سے بری ہیں۔ علمائے محققین نے اس کو پوری طرح واضح کر دیا ہے کہ عقائد و اعمالِ شرعیہ کے معاملے میں تاریخی روایات جو عموماً صحیح و سقیم، معتبر و غیر معتبر کا مخلوط مجموعہ ہوتی ہیں ان کو نہ کسی مسئلے کی سند میں پیش کیا جاسکتا ہے، نہ بلا تحقیق محدثانہ ان سے استدلال کر کے کوئی مسئلہ شرعیہ ثابت کیا جا سکتا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ مشاجراتِ صحابہؓ کا مسئلہ کوئی عام تاریخی مسئلہ ہے یا احکامِ شرعیہ کا ایک اہم باب ہے؟

صحابہؓ اور مشاجراتِ صحابہؓ کا مسئلہ

پوری اُمت کا اس پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی معرفت، ان کے درجات اور ان میں پیش آنے والے باہمی اختلافات کا فیصلہ کوئی عام تاریخی مسئلہ نہیں بلکہ معرفتِ صحابہؓ تو علمِ حدیث کا اہم جزء ہے، جیسا کہ مقدمہ ”اصابہ“ میں حافظ ابنِ حجرؒ نے اور مقدمہ”استیعاب“ میں حافظ ابنِ عبدالبرؒ نے وضاحت سے بیان فرمایا ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مقام اور باہمی تفاضل و درجات اور ان کے درمیان پیش آنے والے اختلافات کے فیصلے کو علمائے امت نے عقیدے کا مسئلہ قرار دیا اور تمام کتبِ عقائدِ اسلامیہ میں اس کو ایک مستقل باب کی حیثیت سے لکھا ہے۔

ایسا مسئلہ جو عقائدِ اسلامیہ سے متعلق ہے اور اسی مسئلے کی بنیاد پر بہت سے اسلامی فرقوں کی تقسیم ہوئی ہے، اس کے فیصلے کے لئے بھی ظاہر ہے کہ قرآن وسنت کی نصوص اور اجماعِ امت جیسی شرعی حجت درکار ہیں، اس کے متعلق اگر کسی روایت سے استدلال کرنا ہے تو اس کو محدثانہ اصولِ تنقید پر پرکھ کر لینا واجب ہے۔ اس کو تاریخی روایتوں میں ڈھونڈنا اور ان پر اعتماد کرنا، اُصولی اور بنیادی غلطی ہے۔ وہ تاریخیں کتنے ہی بڑے ثقہ اور معتمد علمائے حدیث ہی کی لکھی ہوئی کیوں نہ ہوں، ان کی فنی حیثیت ہی تاریخی ہے جس میں صحیح و سقیم روایات جمع کر دینے کا عام دستور ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حافظ الحدیث امام ابنِ عبدالبرؒ نے جو معرفتِ صحابہؓ کے موضوع پر اپنی بہترین کتاب "الاستیعاب في معرفة الاصحاب“ لکھی تو علمائے امت نے اس کو بڑی قدر کی نظر سے دیکھا مگر اس میں مشاجراتِ صحابہؓ کے متعلق کچھ غیر مستند تاریخی روایات بھی شامل کر دیں تو عام علمائے امت اور ائمہ حدیث نے اس عمل کو اس کتاب کے لیے ایک بدنما داغ قرار دیا۔

چھٹی صدی ہجری کے امامِ حدیث ابنِ صلاح رحمۃاللہ جن کی کتاب ”علوم الحديث“ اصولِ حدیث کی رُوح مانی گئی ہے اور بعد میں آنے والے محدثین نے اسی سے اقتباسات لئے ہیں، یہ اپنی کتاب کے انتالیسویں باب میں (جن کو بعنوان ”انواع“ لکھا گیا ہے) معرفتِ صحابہؓ پر کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

صفحہ 8 از 33