مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد شفیع عثمانیؒ (متوفی 1395ھ) لکھتے ہیں:
خصوصاً مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نہیں، تو جس طرح امت کا اس پر اجماع ہے کہ دونوں فریق کی تعظیم واجب ہے، دونوں فریق میں سے کسی کو برا کہنا ناجائز ہے، اسی طرح اس پر بھی اجماع ہے کہ جنگِ صفین میں حضرت علیؓ حق پر تھے اور ان کے مقابل حضرت امیرِ معاویہؓ اور ان کے اصحاب خطاء پر البتہ ان کی خطاؤں کو اجتہادی خطاء قرار دیا گیا، جو شرعاً گناہ نہیں، جس پر اللہ کی طرف سے عتاب ہو، بلکہ اصولِ اجتہاد کے مطابق اپنی کوشش صرف کرنے کے بعد بھی اگر ان سے خطاء ہو گئی تو ایسے خطاء کرنے والے بھی ثواب سے محروم نہیں ہوتے، ایک اجر ان کو بھی ملتا ہے باجماعِ امت ان حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اس اختلاف کو بھی اسی طرح کا اجتہادی اختلاف قرار دیا گیا ہے جس سے کسی فریق کے حضرات کی شخصیتیں مجروح نہیں ہوتیں اس طرح ایک طرف خطاء و صواب کو بھی واضح کر دیا گیا، دوسری طرف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مقام اور درجے کا پورا احترام بھی ملحوظ رکھا گیا، اور مشاجراتِ صحابہؓ میں کفِ لسان اور سکوت کو اسلم قرار دے کر اس کی تاکید کی گئی ہے کہ بلاوجہ ان روایات و حکایات میں خوض کرنا جائز نہیں جو باہمی جنگ کے دوران ایک دوسرے کے متعلق نقل کی گئی ہیں۔
(مقامِ صحابہؓ: صفحہ89، 90 ایک سوال اور جواب)