مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 7 از 33

خلاصہ یہ ہے کہ عام دنیا کی تاریخ اور اس میں مدون کی ہوئی کتابیں فنِ حدیث، فقہ یا عقائد کی طرح شریعتِ اسلام کے عقائد و احکام سے بحث کرنے والا کوئی فن نہیں ہے، جس کے لیے روایات کی تنقیح و تنقید کی سخت ضرورت ہو اور کھرے کھوٹے کو ممتاز کیے بغیر مقصد حاصل نہ ہو۔ اس لیے فنِ تاریخ میں ہر طرح کی قومی و ضعیف اور صحیح و سقیم روایتیں بغیر نقد و تبصرہ کے جمع کر دینے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا گیا۔ علومِ قرآن وسنت کے ماہر وہی علماء جو تنقید و تحقیق اور جرح و تعدیل کے امام مانے گئے ہیں، جب فنِ تاریخ پر کوئی تصنیف لکھتے ہیں تو اگرچہ زمانہ جاہلیت کی تاریخوں کی طرح بے سروپا افواہوں اور افسانوں کو اپنی کتاب میں جگہ نہیں دیتے بلکہ اصولِ روایت کا لحاظ رکھتے ہوئے سند کے ساتھ روایت نقل کرتے ہیں، اس لیے اسلامی تاریخیں تاریخی حیثیت میں عام دنیا کی تاریخوں سے صدق و اعتماد کے اعتبار سے ایک ممتاز مقام رکھتی ہیں، لیکن تاریخ میں وہ راویوں کے حالات کی چھان بین اور اس جرح و تعدیل سے کام نہیں لیتے جو فنِ حدیث وغیرہ میں استعمال کی جاتی ہے، جیسا کہ اور عرض کیا گیا کہ اگر فنِ تاریخ میں اس طرح کی چھان بین کی جاتی تو ننانوے فیصد تاریخ دنیا سے گم ہو جاتی اور جو فوائد عبرت و حکمت اور تجاربِِ عالم کے اس فن سے وابستہ ہیں ان سے دُنیا محروم ہو جاتی۔ دوسرے جبکہ عقائد و احکامِ شرعیہ کے مقاصد اس سے وابستہ نہیں تو اس احتیاط و تنقید کی ضرورت بھی نہیں تھی ، اس لیے حدیث اور جرح و تعدیل کے ائمہ نے بھی فنِ تاریخ میں توسیع سے کام لیا، ضعیف و قوی اور ثقہ و غیر ثقہ ہر طرح کے لوگوں کی روایتیں اس میں جمع کر دیں، خود ان حضرات کی تصریحات اس پر شاہد ہیں۔

حدیث و اصولِ حدیث کے مشہور امام ابن صلاحؒ نے اپنی کتاب علوم الحدیث میں فرمایا: 

وغالب على الأخباريين الاكثار والتخليط فيما يروونہ.

(علوم الحدیث: صفحہ 263)

ترجمہ: مؤرخین میں یہ بات غالب ہے کہ روایاتِ کثیرہ جمع کرتے ہیں جن میں صحیح و سقیم ہر طرح کی روایات خلط ملط ہوتی ہیں۔

”تدریب الراوی“صفحہ 295 میں سیوطیؒ نے بھی بعینہ یہی بات لکھی ہے، اسی طرح فتح المغیث وغیرہ میں بھی یہی بات نقل کی گئی ہے۔

ابنِ کثیرؒ جو حدیث و تفسیر کے مشہور امام اور بڑے ناقد معروف ہیں، روایات میں تنقید و تحقیق ان کا خاص امتیازی وصف ہے، مگر جب یہی بزرگ تاریخ پر كتاب ”البدايہ والنہايہ“ لکھتے ہیں تو تنقید کا وہ درجہ باقی نہیں رہتا۔ خود ”البدايہ والنہايہ“ جلد 8، صفحہ 202 میں بعض تاریخی روایات درج کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ: اس کی صحت میرے نزدیک مشتبہ ہے، مگر مجھ سے پہلے ابنِ جریرؒ وغیرہ یہ روایت نقل کرتے آئے ہیں، اس لیے میں نے بھی نقل کر دیا، اگر وہ ذکر نہ کرتے تو میں ان کو اپنی کتاب میں نہ لاتا۔

ظاہر ہے کہ کسی حدیث کی تحقیق میں وہ یہ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ اس کی صحت مشتبہ ہونے کے باوجود چونکہ پہلے کسی بزرگ نے لکھا ہے، اس لیے لکھتا ہوں۔ یہ تاریخ ہی کا اپنا مقام تھا کہ اس میں ابنِ کثیرؒ نے اس توسع کو جائز قرار دیا۔

اور یہ اس کے باوجود ہے کہ ابنِ کثیرؒ نے البدایہ میں بہت سے مقامات پر طبریؒ کی روایت پر تنقید کر کے رد بھی کر دیا ہے۔ یہ سب باتیں اس کی شہادت ہیں کہ فنِ تاریخ میں ان حضراتِ ناقدین نے بھی یہی مناسب سمجھا ہے کہ کسی واقعے کے متعلق جتنی روایات ملتی ہیں سب کو جمع کر دیا جائے، ان پر جرح و تعدیل اور نقد و تبصرہ اہلِ علم کے لیے چھوڑ دیا جائے اور یہ کسی خاص شخص کی اتفاقی غلطی نہیں بلکہ تمام ائمہ فن کی سوچی سمجھی روش تاریخ میں یہی ہے کہ فنِ تاریخ میں ضعیف وسقیم روایات کو بلا تنقید ذکر کر دینا کوئی عیب نہیں۔

کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان روایات سے دین کے عقائد و احکامِ شرعیہ تو ثابت کرنا نہیں، عبرت و نصیحت اور تجاربِ اقوام وغیرہ کے فوائد حاصل کرنا ہیں، وہ یوں بھی ہو سکتے ہیں اور اگر کوئی شخص ان تاریخی روایات سے کسی ایسے مسئلے پر استدلال کرنا چاہتا ہے جس کا تعلق اسلامی عقائد یا احکامِ عملیہ سے ہے تو اس کی اپنی ذمہ داری ہے کہ روایات کی تنقید اور راویوں پر جرح و تعدیل کا وہی ضابطہ اختیار کرے جو حدیث کی روایات میں لازم و ضروری ہے، اس کے بغیر اس کا استدلال جائز نہیں اور یہ کہنا کہ کسی بڑے ثقہ اور امامِ حدیث کی کتابِ تاریخ میں یہ روایت درج ہے، اس کو اس ذمہ داری سے سبکدوش نہیں کرتا۔

صفحہ 7 از 33