مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 6 از 33

ظاہر ہے کہ یہ بات نہ کسی دوسرے بڑے سے بڑے بادشاہ کو نصیب ہو سکتی ہے، نہ آنحضرتﷺ کے سوا کسی اور شخصیت کو کہ اس کی ہر بات کو غور سے سن کر ہمیشہ یاد رکھنے کی اور پھر لوگوں تک پہنچانے کی کسی کو فکر ہو۔ بادشاہوں کے واقعات، ملکوں اور خطوں کے حالات، زمانے کے انقلابات دلچسپی کے ساتھ ضرور دیکھے سنے جاتے ہیں مگر کسی کو کیا پڑی ہے کہ ان کو پورا پورا یاد رکھنے کا بھی اہتمام کرے اور پہنچانے کا بھی۔

خلاصہ یہ ہے کہ حدیثِ رسولﷺ کو چونکہ احکامِ شرعیہ میں عملی قرآن کا درجہ دینا اور حجتِ شرعیہ بنانا اللہ تعالیٰ کو منظور تھا، اس لیے اس کا سب سے پہلا ذریعہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اس ناقابلِ قیاس محبت و اطاعت کو بنا دیا، جو ظاہر ہے کہ دنیا کی کسی دوسری شخصیت کو حاصل نہیں، اس لیے تاریخی واقعات و روایات کو کسی حال وہ درجہ حاصل نہیں ہو سکتا جو روایاتِ حدیث کو حاصل ہے۔

رسول اللہﷺ اس پر مامور تھے کہ قرآن اور تعلیماتِ رسالت کو دنیا کے گوشے گوشے تک اور آنے والی نسلوں تک پہنچائیں، اس کا ایک قدرتی انتظام تو صحابہ کرامؓ کی والہانہ محبت کے ذریعے ہو گیا، دوسرا قانونی انتظام نہایت حکیمانہ اُصول پر رسول اللہﷺ نے یہ فرمایا کہ ایک طرف تو ہر صحابی پر فرض کر دیا کہ جو کچھ دین کی بات رسول اللہﷺ سے سنیں یا عمل کرتے دیکھیں وہ امت کو پہنچائیں، دوسری طرف اس خطرے کا بھی سدِ باب کیا جو کسی قانون کے عام اور شائع کرنے میں عادۃً پیش آتا ہے کہ نقل در نقل میں بات کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے اور اصل حقیقت غائب ہو جاتی ہے، اس کا انتظام آپﷺ نے اس ارشاد سے فرمایا:مَنْ كَذَبَ عَلَىَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّءْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ. یعنی جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی غلط بات منسوب کرے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔

اس وعیدِ شدید نے صحابہ کرامؓ اور مابعد کے علمائے حدیث کو نقلِ روایت میں ایسا محتاط بنا دیا کہ جب تک نہایت کڑی تنقید و تحقیق کے ساتھ کسی حدیث کا ثبوت نہ ملے اس کو آپﷺ کی طرف منسوب کرنے سے گریز کیا۔ بعد میں آنے والے وہ حضراتِ محدثینؒ جنھوں نے حدیث کی ابواب و فصول کی صورت میں تدوین و تصنیف کا کام کیا ان سب حضرات نے اپنی لکھی ہوئی اور یاد کی ہوئی لاکھوں حدیثوں میں سے ایسی کڑی تنقید و تحقیق کے ساتھ صرف چند ہزار حدیثوں کو اپنی اپنی کتابوں میں جگہ دی ”تدریب الراوی“ صفحہ 12 میں علامہ سیوطیؒ نے لکھا ہے کہ:

امام بخاریؒ نے فرمایا کہ: ایک لاکھ حدیث صحیح اور دو لاکھ غیر صحیح حفظ یاد ہیں، انہیں سے صحیح بخاری کا انتخاب کیا ہے، چنانچہ صحیح بخاری میں کل غیر مکرر احادیث چار ہزار ہیں۔

امام مسلمؒ نے فرمایا کہ: میں نے تین لاکھ احادیث میں سے انتخاب کر کے اپنی کتاب صحیح لکھی ہے، اس میں بھی صرف چار ہزار احادیث غیر مکرر ہیں۔

ابو داؤدؒ فرماتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہﷺ کی پانچ لاکھ احادیث لکھی ہیں جن میں سے انتخاب کر کے سنن مرتب کی ہے، جس میں چار ہزار احادیث ہیں۔

امام احمدؒ نے فرمایا کہ: میں نے مسند احمد کی احادیث کو سات لاکھ پچاس ہزار احادیث میں سے انتخاب کیا ہے۔

اس طرح قدرتی اسباب اور رسول اللہﷺ کے حکیمانہ انتظام کے سایہ میں، احادیثِ رسول اللہﷺ کی روایاتِ حدیث، ایک خاص شان احتیاط کے ساتھ جمع ہو کر کتاب اللہ کے بعد دوسرے درجے کی حجتِ شرعی بن گئی۔

*لیکن دنیا کی عام تاریخ کو نہ یہ مقام حاصل ہوسکتا تھا، نہ ہے*

کیونکہ اول تو لوگوں کو عام وقائع اور حوادث کو یاد رکھنے پھر ان کو لوگوں تک پہنچانے کا اتنا اہتمام کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔

دوسرے کتب تاریخ کی تصنیف کرنے والے اگر تاریخی روایات کو اس معیار پر جانچتے جس پر روایاتِ حدیث کو جانچا تولا ہے اور اتنی ہی کڑی تنقید و تحقیق کے ساتھ کوئی تاریخی روایت درجِ کتاب کرتے تو ذخیرۂ حدیث میں اگر چار لاکھ تین چار ہزار کا انتخاب ہوا تھا تو تاریخی روایات میں وہ چار سو بھی نہ رہتی، اس طرح ننانوے فیصد تاریخی روایات نسیاً منسیاً ہو جاتیں اور بہت سے دینی دنیوی فوائد جو ان روایات سے متعلق تھے وہ مفقود ہو جاتے۔

یہی وجہ ہے کہ ائمہ حدیث جن کی کتابیں حدیث میں اُصولِ معتمد علیہ کا درجہ رکھتی ہیں، ان میں وہ جن راویوں کو ضعیف قرار دے کر ان کی روایت چھوڑ دیتے ہیں، جب وہ تاریخ کے میدان میں آتے ہیں تو ان ضعیف راویوں کی روایات بھی شاملِ کتاب کر لیتے ہیں، واقد کی اور سیف بن عمر وغیرہ کو ائمہ حدیث نے حدیث کے معاملے میں ضعیف بلکہ اس سے بھی زیادہ مجروح کہا ہے مگر تاریخی معاملات مغازی و سیر میں وہی ائمہ حدیث ان کی روایات نقل کرنے میں کوئی رکاوٹ محسوس نہیں کرتے۔ حدیث اور تاریخ کے اس فرق کو ان حضرات نے بھی اپنی کتابوں میں تسلیم کیا ہے جنہوں نے تاریخی روایات کے بھروسے صحابہ کرامؓ کا مقام متعین کرنے اور ان کی شخصیتوں پر الزامات لگانے کا غلط راستہ اختیار کیا ہے، اس لیے اس فرق پر مزید بحث کو طول دینے کی ضرورت نہیں۔

صفحہ 6 از 33