مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 5 از 33

اس طرح اگر یہ کہا جائے تو کوئی مبالغہ نہیں کہ تاریخ کو ایک معتبر مستند فن کی حیثیت دینے والے مسلمان ہی ہیں، مسلمانوں ہی نے دنیا کو تاریخ لکھنے اور اس کی تنقیح کا سبق دیا، علمائے امت جنہوں نے قصص الانبیاء اور پھر روایاتِ حدیث کو بہت سی چھلنیوں میں چھان کر نہ صرف جھوٹ سچ کو الگ الگ کر دیا، بلکہ سچ اور معتبر روایات میں بھی درجات اعلیٰ و ادنیٰ قائم کر دیے، اور حدیث سے متعلق تاریخ ”اسمائے رِجال“ کو علیحدہ کر کے مثل جزء حدیث بنا کر دین کی یہ اہم خدمت انجام دی۔ انہیں حضرات نے عام تاریخِ عالم ملکوں اور بادشاہوں اور زمین کے مختلف حصوں کی تاریخ و جغرافیہ لکھنے پر بھی خاص توجہ مبذول فرمائی اور بڑے بڑے ائمہ حدیث و تفسیر اور اکابر علماء و فقہائے امت نے مختلف انواع و اقسام کی تاریخیں لکھیں، جن کی کچھ تفصیلات حافظ عبد الرحمٰن سخاویؒ نے اپنی کتاب "الاعلان بالتوبيخ لمن ذم التواریخ“ کے نوّے صفحات میں جمع فرمائی ہیں، یہ خود ایک دلچسپ اور مفید مجموعہ اور قابلِ دید و مطالعہ ہے، مگر یہاں اس کے نقل کرنے کی گنجائش نہیں۔

میرا مقصد یہاں اس کے ذکر سے صرف اتنا ہے کہ علمائے اُمت نے صرف اس حصہ تاریخ پر بس نہیں کی جس کا تعلق حفاظت اور رجالِ حدیث سے ہے، بلکہ عام دنیا کی تاریخ، جغرافیہ اور ملوک و مشاہیر کے حالات اور انقلابات و حوادث کے لکھنے پر بھی ایسی ہی توجہ دی اور ہزارہا چھوٹی بڑی کتابیں لکھیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں اس تاریخ کا بھی ایک مقام ہے جس کے ساتھ انسان کے بہت سے دینی اور دنیاوی فوائد وابستہ ہیں۔

حافظ سخاویؒ نے اپنی کتابِ مذکور کے ابتدائی چالیس صفحات میں تاریخ کے فوائد و فضائل اور ان کے متعلق علماء و حکمائے اسلام کے اقوال جمع فرمائے ہیں۔

اسلام میں فنِ تاریخ کا درجہ

فنِ تاریخ کے فضائل اور فوائد جن کو سخاویؒ نے بڑی تفصیل سے علماء و حکماء کے اقوال سے ثابت کیا ہے، ان میں سب سے بڑا اور جامع فائدہ عبرت حاصل کرنا، دنیا کے عروج و نزول اور حوادث و انقلابات سے دنیا کی بے ثباتی کا سبق لینا، آخرت کی فکر کو سب چیزوں پر مقدم رکھنا اور اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت اور اس کے انعامات و احسانات کا استحضار، انبیاء اور صلحائے امت کے احوال سے قلب کی نورانیت اور کفار و فجار کے انجامِ بد سے عبرت حاصل کر کے کفر و معصیت سے پرہیز کا اہتمام، حکمائے سابقین کے تجربوں سے دین و دنیا میں فائدہ اُٹھانا وغیرہ ہے۔ مگر فنِ تاریخ کے اتنے فوائد و فضائل اور اس کی اتنی بڑی اہمیت کے باوجود اس فن کو یہ مقام کسی نے نہیں دیا کہ شریعتِ اسلام کے عقائد و احکام اس فن سے حاصل کئے جائیں، حلال و حرام کے مباحث میں تاریخی روایات کو حجت قرار دیا جائے، جن مسائل کے ثبوت کے لیے قرآن وسنت اور اجماع و قیاس کے شرعی دلائل کی ضرورت ہے، ان میں تاریخی روایات کو مؤثر مانا جائے یا تاریخی روایات کی بناء پر قرآن و سنت یا اجماع سے ثابت شدہ مسائل میں کسی شک و شبہ کو راہ دی جائے۔

وجہ یہ ہے کہ اسلامی تاریخ اگرچہ زمانہ جاہلیت کی تاریخوں کی طرح بالکل بے سند، نا قابلِ اعتبار کہانیاں نہیں ہیں بلکہ علمائے اُمت نے تاریخ میں بھی مقدور بھر أصولِ روایت کی رعایت کر کے اسے مستند و معتبر بنانے کی کوشش کی ہے، لیکن فنِ تاریخ کے مطالعے اور اس سے اپنے مقاصد میں کام لینے کے وقت دو باتوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور جس نے ان دو باتوں کو نظر انداز کیا وہ فنِ تاریخ کو غلط استعمال کر کے بہت سے گمراہ کن مغالطوں میں مبتلا ہو سکتا ہے۔

روایاتِ حدیث اور روایاتِ تاریخ میں زمین آسمان کا فرقِ عظیم

پہلی بات یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کی احادیث یعنی آپﷺ کے اقوال و اعمال کو جس صحابی نے سنا یا دیکھا ہے اس کو بحکمِ رسولﷺ خدا کی ایک امانت قرار دیا ہے جس کا اُمت کو پہنچانا ان کی ذمہ داری تھی، رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: بَلِّغُوْا عَنِّى وَلَوْ اٰيَة

یعنی میری احادیث امت کو پہنچا دو اگرچہ وہ ایک آیت ہی ہو۔

یہاں آیت سے آیتِ قرآن بھی مراد ہو سکتی ہے، مگر نسقِ کلام سے ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد آپﷺ کی احادیث کی تبلیغ ہے اور ”وَلَوْ اٰیَۃ“ سے مراد یہ ہے کہ اگرچہ وہ کوئی مختصر جملہ ہی ہو، پھر حجۃ الوداع کے خطبے میں ارشاد فرمایا: فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِب

یعنی حاضرین میری یہ باتیں غائبین تک پہنچا دیں۔

آنحضرتﷺ کے ان ارشادات کے بعد کسی صحابی کی کیا مجال تھی کہ آپﷺ کے کلماتِ طیبات یا اپنی آنکھ سے دیکھے ہوئے اعمال و افعال کی پوری پوری حفاظت نہ کرتا اور اُمت کو پہنچانے کا اہتمام نہ کرتا۔ اس کے علاوہ نبی کریمﷺ کے ساتھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جو والہانہ محبت تھی اس کو صرف مسلمان نہیں کفار بھی جانتے اور حیرت کے ساتھ اعتراف کرتے ہیں کہ وہ آپﷺ کے وضو کا مستعمل پانی بھی زمین پر نہیں گرنے دیتے تھے اپنے چہروں اور سینوں پر ملتے تھے۔ ان کے لیے اگر حدیث کی حفاظت اور تبلیغ کے احکامِ مذکورہ بھی نہ آئے ہوتے تب بھی ان سے یہ کیسے تصور کیا جا سکتا تھا کہ یہ لوگ جو آنحضرتﷺ کے جسدِ مبارک سے علیحدہ ہونے والے بالوں کی، آپﷺ کے پرانے ملبوسات کی جان سے زیادہ حفاظت کریں اور جو آپﷺ کے وضو کے مستعمل پانی کو ضائع نہ ہونے دیں، وہ تعلیماتِ رسول اور آپﷺ کی احادیث کی حفاظت کا اہتمام نہ کرتے؟

خلاصہ یہ ہے کہ اول تو خود صحابہ کرامؓ کی والہانہ محبت اس کی داعی تھی کہ آپﷺ کے ایک ایک کلمے، ایک ایک حدیث کی اپنی جان سے زیادہ حفاظت کریں، اس پر مزید آپﷺ نے احکامِ مذکورہ جاری فرما دیے، اس لیے ایک لاکھ سے زائد تعداد کی یہ فرشتہ صفت مقدس جماعت صرف ایک ذاتِ رسولﷺ کے اقوال و افعال کی حفاظت اور اس کی تبلیغ کے لیے سرگرم عمل ہو گئی۔

صفحہ 5 از 33