مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 4 از 33

تاریخ کا یہ حصہ جس کا تعلق حدیث کے راویوں اور ان کے ثقہ و غیر ثقہ، قوی یا ضعیف ہونے سے ہے ایک حیثیت سے حدیث ہی کا جزء سمجھا گیا ہے اور ائمہ حدیث ہی نے اس حصے کے لکھنے کا اہتمام فرمایا، اس کا نام بھی مستقل”فنِ اسمائے رجال“رکھا گیا، اس کے ضروری اور واجب ہونے میں کس کو کلام ہو سکتا ہے؟ علمائے امت میں جس کسی نے راویوں پر جرح و تعدیل کی بحث کو غیبت میں داخل کر کے اعتراض کیا ہے، وہ صرف اس صورت سے متعلق ہے جس میں جرح و تعدیل کی حدودِ شرعیہ سے تجاوز کیا گیا ہو، بے ضرورت بے مقصد عیب چینی اور کسی کو رسوا کرنا مقصود ہو، یا جرح و تعدیل میں اعتدال و انصاف سے کام نہ لیا گیا ہو، ورنہ رواۃِ حدیث کی ضروری اور معتدل تنقید تو ایسی چیز ہے کہ اس کے بغیر ذخیرہ حدیث ہی کا اعتبار نہیں رہ سکتا، جبکہ کوئی نیک دل انسان حفاظتِ حدیث کی نیت سے غلط کار یا ضعیف راویوں پر معتدل تنقید کرتا ہے تو وہ حدیثِ رسولﷺ کا حق ادا کر رہا ہے۔

جرح و تعدیل کے مشہور امام یحییٰ بن سعید قطان رحمۃاللہ سے کسی نے کہا کہ آپ خدا سے نہیں ڈرتے کہ جن لوگوں کو آپ کذاب یا غیر ثقہ یا ضعیف کہتے ہیں وہ قیامت کے روز آپ کے خلاف مخاصمہ کریں؟ تو فرمانے لگے کہ: قیامت کے روز یہ لوگ میرے خلاف احتجاج کریں، یہ اس سے بہتر ہے کہ رسول اللہﷺ مجھ سے یہ مطالبہ فرماویں کہ میری حدیث میں جن لوگوں نے کمی بیشی کی تھی تم نے اس کی مدافعت کیوں نہیں کی؟ ( سخاویؒ، رسالہ مذکورہ: صفحہ 53) البتہ حضراتِ محدثینؒ نے جس طرح اس ضرورت کا احساس کیا کہ حدیث کے راویوں کی پوری چھان بین کی جائے، صادق، کاذب، ثقہ، غیر ثقہ، قوی، ضعیف کو کھول کر واضح کر دیا جائے، اسی طرح اس کام کو حدودِ شرعیہ میں رکھنے کے لیے چند ضروری شرائط بھی رکھی ہیں، جن کو حافظ عبد الرحمٰن سخاوی رحمۃاللہ نے تاریخ کے موضوع پر اپنی مستقل کتاب "الاعلان بالتوبيخ لمن ذم التواريخ" میں تفصیل سے بیان کر دیا ہے، جن میں سب سے پہلی شرط صحتِ نیت ہے کہ کسی راوی کا عیب ظاہر کرنا، اس کو بدنام کرنا فی نفسہ مقصود نہ ہو بلکہ مقصد اس کی خیر خواہی اور حدیث کی حفاظت ہو۔ دوسرے یہ کہ صرف اس شخص کے متعلق یہ کام کیا جائے جس کا تعلق کسی حدیث کی روایت سے یا کسی فرد یا جماعت کے نفع نقصان سے ہے اور جس کے اظہار سے اس شخص کی اصلاح یا لوگوں کا اس کے ضرر سے بچنا متوقع ہو، ورنہ فضول کسی کے عیوب کو مشغلہ بنانا کوئی دین کا کام نہیں۔

تیسرے یہ کہ اس میں بھی صرف قدر ضرورت پر اکتفا کرے کہ فلاں ضعیف یا غیر ثقہ ہے، یا روایت گھڑنے والا ہے، ضرورت سے زائد الفاظِ عیب سے اجتناب کیا جائے۔

اور جو کچھ کہا جائے مقدور بھر پوری تحقیق کے بعد کہا جائے۔

جرح و تعدیل کے بڑے امام ابن المدینی رحمۃاللہ سے کچھ لوگوں نے ان کے باپ کے متعلق پوچھا کہ وہ روایت حدیث میں کس درجے کے ہیں؟ تو فرمایا کہ: یہ بات میرے سوا کسی اور آدمی سے پوچھو، مگر ان لوگوں نے اصرار کیا کہ ہم آپ ہی کی رائے معلوم کرنا چاہتے ہیں، تو کچھ دیر سر جھکا کر بیٹھ گئے سوچتے رہے اس کے بعد سر اٹھا کر فرمایا:

هو الدين، انہ ضعيف.

(رسالہ سخاوی: صفحہ 66)

ترجمہ: یہ دین کی بات ہے (اس لیے کہتا ہوں کہ) وہ

ضعیف ہیں۔

یہ حضرات ہیں جو دین کے ادب کے ساتھ رِجال کے ادب اور حدود کی رعایت کے جامع تھے، ان کے والد روایتِ حدیث میں ضعیف تھے، شروع میں چاہا کہ اس سوال کا جواب ان کی زبان سے نہ ہو، جب اصرار کیا گیا تو ادبِ دین کی روایت مقدم ہو گئی، حقیقت کا اظہار کیا مگر صرف بقدرِ ضرورت لفظوں میں، ضرورت سے زائد ایک لفظ نہیں بولا۔

خلاصہ یہ ہے کہ تاریخ کا وہ حصہ جس کا تعلق حفاظتِ حدیث سے ہے، یعنی اس کے راویوں پر تنقید اور جرح و تعدیل اور ان کے حالات کا بیان، یہ تو ان علومِ ضروریہ میں سے ہے جس پر حدیثِ رسول اللہﷺ کا حجتِ شرعی ہونا موقوف ہے، اس لیے اس کے واجب اور ضروری ہونے میں کسی کو کلام نہیں ہوسکتا، اور تاریخ کا یہ خاص حصہ اپنی مخصوص اہمیت کے پیشِ نظر مؤرخین کے نزدیک یہی ایک مستقل قسم ”اسماء الرجال" کے نام موسوم ہو کر علیحدہ کر دیا گیا ہے۔ اب کلام اس تاریخِ عام میں رہ گیا جس کو عرفِ عام میں "تاریخ" کہا جاتا ہے، جس میں تخلیقِ کائنات اور ہبوطِ آدم علیہ السلام سے لے کر اپنے وقت تک تمام زمینی اور آسمانی واقعات، اقالیمِ عالم اور ملکوں، خطوں اور ان میں پیدا ہونے والے اچھے برے لوگوں کے، خصوصاً انبیاء و صلحاء اور ملوک و روساء کے عام اچھے بُرے حالات، دُنیا کے انقلابات، جنگیں اور فتوحات وغیرہ کا ایک جہان ہوتا ہے، یہ تاریخی حکایات جمع کرنے اور رکھنے کا دستور تو بہت پرانا ہے، ہر ملک، ہر خطے اور طبقے کے لوگوں میں اس طرح کی حکایات سینہ بہ سینہ بھی اور کچھ کتاب میں بھی منقول چلی آتی ہیں، لیکن عام طور پر اسلام سے پہلے یہ بغیر کسی تنقیح و تحقیق کے سنی سنائی باتوں اور افسانوں اور کہانیوں کے ایک غیر مستند مجموعے کے سوا کچھ نہ تھا۔

اسلام نے دُنیا میں سب سے پہلے کسی روایت کے لیے سند و اسناد کی ضرورت اور اس کی تنقیح و تحقیق کو ضروری قرار دیا، قرآنِ کریم نے خود اس کی ہدایت کی: اِنۡ جَآءَكُمۡ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوۡۤا(سورۃ الحجرات آیت: 6)یعنی کوئی غیر معتبر آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کرلو۔

رسول اللہﷺ کی تعلیمات اور آپ کے اقوال و افعال کو کتابوں میں منضبط کرنے والوں نے اس خاص طریق کے ایک سے زیادہ فنون بنا دیئے جس سے حدیثِ رسول اللہﷺ کی حفاظت تو ہو ہی گئی، دوسری چیزوں میں بھی نقل و روایت کے اُصول بن گئے، دنیا کی عام تاریخیں بھی جو مسلمانوں نے لکھنا شروع کیں ان میں بھی جہاں تک ممکن ہوا ان اُصولِ روایت کی رعایت رکھی گئی۔

صفحہ 4 از 33