مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 33 از 33

جن حضرات نے اس زمانے میں پھر ان مشاجراتِ صحابہؓ کو موضوعِ بحث بنا کر کتابیں لکھی ہیں، اگر واقعی ان کا مقصد اس سے ملحدین و مستشرقین کا جواب اور مدافعت ہے تو ان کا فرض ہے کہ یا تو حضرت حسن بصریؒ کے طریق پر ان کو ان کی اس گمراہی پر متنبہ کریں کہ اعمال و اخلاق اور کردار و عمل کے اعتبار سے جن انسانی ہستیوں کو دوست دشمن، موافق مخالف سب نے بڑی حیثیت دی ہے، ان کو بے اعتبار اور مجروح کرنے کے لیے جو ہتھیار تم  استعمال کر رہے ہو وہ ہتھیار کند و ناکارہ ہیں، تاریخ کی بے سند، بے تحقیق روایات سے کسی بھی شخصیت کو ملزم قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک وہ تواتر کی حد کو نہ پہنچ جائے۔

یا پھر ان کو یہ بتلا دینا چاہیے کہ ہم بحمدللہ مسلمان ہیں، اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان رکھتے ہیں، جن شخصیتوں کی تعدیل و توثیق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے کر دی اس کے خلاف اگر کوئی بھی روایت ہمارے سامنے آئے گی، ہم اس کو بمقابلہ قرآن و سنت کی نصوص کے جھوٹ و افتراء یا کم از کم مرجوح اور مجروح قرار دیں گے۔

قُلۡ هٰذِهٖ سَبِيۡلِىۡۤ اَدۡعُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ ‌عَلٰى بَصِيۡرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِىۡ‌ (سورۃ یوسف آیت: 108)

ان دو طریقوں کے سوا کوئی تیسرا طریقہ مستشرقین و ملحدین کی مدافعت کا نہیں ہو سکتا اور اگر خدانخواستہ اس بحث سے مقصود مدافعت نہیں محض ”تحقیق و ریسرچ“ کا شوق پورا کرنا ہے، تو یہ نہ اپنے ایمان کے لیے کوئی اچھا عمل ہے، نہ مسلمانوں کے لیے کوئی اچھی خدمت۔

درد مندانہ گزارش

میں اس وقت اپنی عمر کے آخری ایام، مختلف قسم کے امراض اور روز افزوں ضعف کی حالت میں گزار رہا ہوں، زندگی سے دور، موت سے قریب ہوں، یہ وہ وقت ہے جس میں فاسق و فاجر بھی توبہ کی طرف لوٹتا ہے، جھوٹا آدمی سچ بولنے لگتا ہے، ضدی آدمی اپنی ضد چھوڑ دیتا ہے۔

گریہ شام سے تو کچھ نہ ہوا

ان  تک  اب  نالہ  سحر  جائے

دل  مجروح  کی صدا  ہے  یہ

کاش! دل میں تیرے اتر جائے

اس وقت کسی تصنیف و تالیف کے شوق نے مجھے یہ صفات نہیں لکھوائے، بلکہ امتِ مسلمہ کا وہ سویا ہوا فتنہ جس نے اپنے وقت میں ہزاروں لاکھوں کو گمراہ کر دیا تھا، اس وقت ملحدین اور مستشرقین کی گہری چال سے اس کو پھر بیدار کر کے مسلمانوں کو تباہ کرنے والے بہت سے فتوں میں سے ایک اور نئے فتنے کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ملحدین ومستشرقین کی شرارتوں اور اسلام دشمنی سے ہمارے عوام اور نوتعلیم یافتہ حضرات نہ سہی، مگر علم و بصیرت رکھنے والے مسلمان تو کم از کم واقف ہیں، ان کی باتوں سے اتنے متاثر نہیں ہوئے، مگر ہمارے ہی مسلمان اہلِ قلم حضرات کی ان کتابوں نے وہ کام پورا کر دیا جو مستشرقین نہ کر سکتے تھے کہ خود لکھے پڑھے اہلِ علم اور پختہ ایمان مسلمانوں کے ذہنوں کو صحابہ کرامؓ کے بارے میں متزلزل کر دیا اور حدود مذہب و دین سے آزاد علومِ قرآن و سنت سے بے خبر نو تعلیم یافتہ نوجوانوں میں تو ان حضرات پر اس طرح طعن و تشنیع اور جرح و تنقید ہونے لگی جیسے موجودہ زمانے کے اقتدار پرست لیڈروں پر ہوتی ہے۔

اور یہ گمراہی کا وہ درجہ ہے کہ اس کے بعد قرآن و سنت، توحید و رسالت اور اصولِ دین بھی مجروح و ناقابلِ اعتبار ہو جاتے ہیں۔

اس لیے عام مسلمانوں کی اور اپنے نوخیز تعلیم یافتہ طبقے کی اور خود ان حضراتِ مصنفین کی خیر خواہی اور نصیحت کے جذبے سے یہ صفحات سیاہ کیے ہیں۔ کیا عجیب ہے کہ حق تعالیٰ ان میں اثر دے اور یہ حضرات میری گزارشات کو خالی الذہن ہو کر پڑھ لیں، جواب دہی کی فکر نہ کریں، اپنی آخرت کو سامنے رکھ کر اس پر غور کریں کہ نجاتِ آخرت کا راستہ جمہور امت کی راہ سے الگ نہیں ہو سکتا۔ جس معاملے میں ان حضرات نے سکوت اور کفِ لسان کو اختیار کیا وہ کسی بزدلی یا خوفِ مخالفت سے نہیں بلکہ عقلِ سلیم اور اصولِ دین کے مطابق سمجھ کر اختیار کیا، ان کے طریق سے الگ ہو کر محققانہ بہادری دکھانا کوئی اچھا کام نہیں ہو سکتا۔ اگر اپنی کوئی غلطی واضح ہو جائے تو آئندہ اس سے بچنے اور مسلمانوں کو بچانے کا اہتمام کریں اور جتنا ہو سکے سابقہ غلطی کا تدارک کریں۔ یہ بحثیں اور سوال و جواب کی طمطراق بہت جلد ختم ہونے والی ہے اور اس کا ثواب یا عذاب باقی رہنے والا ہے

مَا عِنْدَکُمْ یَنْفَدُ وَمَا عِنْدَاللّٰہِ بَاقٍ

نہ یہ نقش بستہ مشوشم نہ بہ حرف ساختہ سرخوشم

لفسنےبیاد تو می زنم چہ عبارت و چہ معانیم

آخر میں اپنے لیے اور سب اہلِ علم بھائیوں کے لیے اس  دعا پر ختم کرتا ہوں:

اَللّٰھُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَّ ار٘زُقْنَا اتِّبَاعَهٗ وَ أَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَ ارْزُقْنَا اجْتِنَابَهٗ

وصلی اللہ علی خیر خلقہ وصفوة رسلہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم وعلى اصحابہ خيار الخلائق بعد الانبیاء ونسال اللہ ان یرزقنا حبھم وعظمتھم ویعیذنا من الوقوع فی شیء یشینھم وان یحشرنا فی زمرتھم۔قد اخذت فی تسویدہ لغرة ربیع الاول 1391ھ فجاء بعون اللہ سبحانہ وحمدہ فی احد عشر یوماً کما تراہ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اسئل ان یتقبلہ

بندہ ضعیف و ناکارہ

محمد شفیع عفا اللہ عنہ

خادم دارالعلوم کراچی 

یوم الجمعہ 11 ربیع الاول 1391ھ


صفحہ 33 از 33