مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 32 از 33

مشاجراتِ صحابہؓ کا معاملہ اس سے الگ کیسے ہو جاتا؟ جبکہ اس میں سبائی تحریک کے نمائندوں اور  روافض و خوارج کی سازشوں کا بڑا دخل تھا۔ اس لیے اسلامی تواریخ جن کو اکابر علمائے محدثین اور دوسرے ثقہ و معتبر حضرات نے جمع فرمایا اور اصولِ تاریخ کے مطابق ہر طرح کی روایت جو کسی واقعے سے متعلق ان کو پہنچی تاریخی دیانت کے اصول پر سب کو بے کم و کاست درج کر دیا۔

تو اب سمجھ لیجیے کہ روایات کا مجموعہ کس درجہ قابلِ اعتماد ہو سکتا ہے؟ عام دنیا کے واقعات و حالات میں جو تاریخی روایات جمع کی جاتی ہیں ان میں اس طرح کے خطرات عموماً نہیں ہوتے، اس لیے کتبِ تواریخ کا وہ حصہ جو مشاجراتِ صحابہؓ سے متعلق ہے خواہ اس کے لکھنے والے کتنے بڑے ثقہ اور معتمد علماء ہوں ان کے اعتبار کا وہ درجہ بھی ہرگز باقی نہیں رہتا جو عام تاریخی واقعات کا ہوتا ہے۔

حضرت حسن بصریؒ نے ان معاملات میں جو کچھ فرمایا، اگر غور کرو تو اس کے سوا کوئی دوسری بات کہنے اور سننے کے قابل نہیں، حضرت حسن بصریؒ کا  یہ ارشاد پہلے روایت نمبر 14 میں بحوالہ تفسیرِ قرطبی گزر چکا ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں:

وقد سئل الحسن البصریؒ عن قتالھم فقال: قتال شھدہ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم وغبنا وعلموا وجھلنا واجتمعوا فاتبعنا واختلفوا فوقفنا قال المحاسبی فنحن نقول کما قال الحسن ونعلم ان القوم کانوا اعلم بما دخلوا فیہ منا ونتبع ما اجتمعوا علیہ ونقف عند ما اختلفوا ولانبتدع رایا منا ونعلم انھم اجتھدوا وارادوا اللہ عزوجل اذ کانوا غیر متھمین فی الدین ونسال اللہ العافیہ۔(تفسیرِ قرطبی، سورۃ الحجرات: جلد 16، صفحہ  322)

ترجمہ: حضرت حسن بصریؒ سے قتالِ صحابہؓ کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا: اس قتال میں رسول اللہﷺ کے صحابہ کرامؓ حاضر تھے اور ہم غائب، وہ لوگ حالات و واقعات اور اس وقت کی مقتضیاتِ شرعیہ سے واقف تھے، ہم ناواقف، اس لیے جس چیز پر ان کا اتفاق ہوا اس میں ہم نے ان کی پیروی کی، جس چیز میں ان کا اختلاف ہوا اس میں ہم نے توقف اور سکوت اختیار کیا۔

حضرت محاسبیؒ اس قول کو نقل کر کے حضرت حسنؒ  کے قول کو اختیار کرتے ہیں اور آخر میں فرماتے ہیں کہ: ہم پوری طرح جانتے ہیں کہ ان حضرات نے اجتہاد کیا اور اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا ہی کے طالب تھے، کیونکہ دین کے معاملے میں یہ لوگ متہم نہیں تھے۔

*یہ عقل و انصاف کا فیصلہ ہے یا تحقیق حق سے فرار؟*

غور فرمائیں کہ ہنگامی حالات اور منافقین و روافض وخوارج کی روایات کے شیوع نے روایات میں جو تلبیس اور شبہات پیدا کر دیے تھے ایسے حالات میں حضرت حسن بصریؒ نے جو فیصلہ فرمایا وہ عقلِ سلیم اور عین عدل و انصاف کا فیصلہ ہے یا اندھی عقیدت مندی اور تحقیقِ حق سے فرار؟ نعوذ باللہ منہ 

یہاں غور طلب یہ ہے کہ حضرت حسن بصریؒ جو اجلہ  تابعین میں سے صحابہ کرامؓ کو دیکھنے والے ہیں، وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے باہمی اختلافات میں پیش آنے والا ہنگاموں کے بارے میں یہ فرماتے ہیں کہ ”ہمیں ان کے حالات معلوم نہیں“ جس کا حاصل یہی ہو سکتا ہے کہ حالات کا ایسا علم یقینی شرعی اصول کے مطابق نہیں ہے جس کی بناء پر کسی شخصیت پر کوئی الزام لگایا جا سکے۔

تو بعد کے آنے والے مؤرخین خواہ وہ ائمہ حدیث بھی ہوں، جیسے ابن جریر، ابن اثیر وغیرہ ان کو صدیوں کے بعد ان حالات کا علم اس پیمانے پر کیسے ہو سکتا تھا جن پر کسی عقیدے یاعمل کی بنیاد رکھی جا سکے اور نہ انہوں نے اس کا دعویٰ کیا ہے، بلکہ فنِ تاریخ کا جو چلا ہوا دستور ہر طرح کے موافق و مخالف، صحیح و سقیم روایات جمع کر دینا ہے، اس کے مطابق انہوں نے اپنی تاریخ میں ہر طرح کی روایات جمع کی ہیں۔

حضرت حسن بصریؒ کا یہ فیصلہ تو ایسا ہے کہ اس میں کسی عقیدے اور مذہب کا کوئی دخل نہیں، کوئی غیر مسلم بھی اگر انصاف پسند ہو تو اس کو بھی روایاتِ تاریخی کے التباس وتضاد کے عالم میں اس کے سوا کسی فیصلے کی گنجائش نہیں کہ بے خبری اور ضروری قابلِ اعتماد معلومات نہ ہونے کی بناء پر سکوت کو اسلم قرار دے۔

اور جن حضراتِ علماء نے قرآن و سنت کی نصوص کی بناء پر یہ قرار دیا کہ ان میں سے جس کسی پر کوئی واقعی الزام کسی گناہ و خطاء کا ثابت بھی ہو جائے تو انجام کار وہ اس گناہ و خطاء سے بھی عنداللہ بری ہو چکے ہیں، اس لیے اب کسی کے لیے جائز نہیں کہ ان کے ایسے اعمال کو مشغلہ بحث بنائے، اس کا مستشرقین انکار کریں تو کر سکتے ہیں کہ ان کا قرآن و رسولﷺ پر ایمان ہی نہیں، وہ ان کے ارشادات کو بھی غلط بتاتے ہیں، ان کی بناء پر کسی کی توثیق و تعدیل کیسے کریں؟ مگر کسی مسلمان کے لیے تو ان کی مدافعت میں بھی اس کی گنجائش نہیں کہ ان کے اس کفر و انکار کو تسلیم کر کے اس بحث میں الجھ جائے جس کا جال مستشرقین نے اسی لئے پھیلایا ہے کہ قرآن و سنت سے ناواقف یا بے فکر مسلمان اس میں الجھ کر اپنے صحابہ کرامؓ کے مقدس گروہ کا اعتماد کھو بیٹھیں۔ ایسے لوگوں کی مدافعت بھی کرنا ہے تو اس کا محاذ یہ نہیں کہ جہاں وہ مسلمانوں کو کھینچ کر لانا چاہتے ہیں بلکہ ان کی جنگ کا محاذ یہ ہے کہ ان سے قرآن و رسولﷺ کی حقانیت اور صدق پر کلام کیا جائے، جو اس کو نہیں مانتا اس سے مسلمانوں کے کسی گروہ و جماعت کا تقدس منوانے کا کیا راستہ ہے؟ ایسے حالات میں تو مسلمانوں کی راہِ عمل قرآن نے بتلا دی ہے کہ: لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِيَ دِيْنِ 

یعنی تمہارے لیے تمہارا دین ہے، ہمارے لیے ہمارا 

کہ کر اپنے ایمان کی حفاظت اور اس کو مضبوط کرنے کی فکر میں لگ جائیں، مسلمانوں کو قرآن و سنت کی نصوص سے مطمئن کریں اور غیروں کے اعتراضات کی فکر چھوڑ دیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ جمہور علماء امت نے جو مشاجرات صحابہؓ میں کفِ لسان اور سکوت کو اسلم قرار دیا اور  اس میں بحث و مباحثہ کو خطرہ ایمان بتلایا، یہ کورانہ عقیدت مندی کا نتیجہ نہیں بلکہ عقل سلیم اور عدل و انصاف کا فیصلہ ہے۔

صفحہ 32 از 33