مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 31 از 33

خلاصہ یہ ہے کہ جتنے حضراتِ صحابہؓ اس باہمی قتال میں وجوہِ شرعیہ کی بناء پر پیش پیش تھے اور ہر ایک اپنے آپ کو حق پر سمجھ کر مقابل سے لڑنے پر مجبور تھا، انہوں نے عین قتال کے وقت بھی حدودِ شرعیہ سے تجاوز نہیں کیا اور فتنہ فرو ہونے کے بعد ایک دوسرے کے متعلق ان کی روش بدل گئی اور جو کچھ نقصان دوسرے فریق کے لوگوں کو ان کے ہاتھ سے پہنچا، باوجود یہ کہ وہ شرعی وجوہ  کی بناء پر تھا، پھر بھی اس پر ندامت و افسوس کا اظہار کیا۔

اللہ تعالیٰ کو ان واقعات کے پیش آنے سے پہلے اس مقدس گروہ کے قلوب اور ان کے اخلاص کا اور اپنی کوتاہیوں پر نادم و تائب ہونے کا حال معلوم تھا، اس لیے پہلے ہی یہ سب کچھ معلوم ہوتے ہوئے ان سب سے راضی ہونے کا اور ان کے ابدی جنتی ہونے کا اعلان قرآن میں نازل فرما دیا تھا، جو درحقیقت اس کا اعلان ہے کہ اگر ان میں سے کسی  سے کوئی  گناہ سرزد بھی ہوا ہے تو اس پر قائم نہیں رہے تائب ہو گئے اور ان کے نامہ اعمال سے اس کو محو کر دیا گیا، کس قدر حیرت ہے کہ ”اسلام کی خدمت“ کا نام لینے والے بعض حضرات ان سب چیزوں سے آنکھیں بند کر کے مستشرقین و ملحدین کے طریقے پر چل پڑے، ان حضرات کی شخصیات و ذات پر تاریخ کی غلط سلط اور غلط ملط روایات سے الزامات تراشنے لگے، جن کو اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیا، انہوں نے ان کو معاف نہیں کیا، جن سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے راضی ہونے کا اعلان کر دیا، یہ ان سے راضی نہیں ہوئے۔

اور جب ان سے کہا گیا تو جواب میں یہ کافی سمجھ لیا کہ ہم نے تو ایسے ثقہ اور مستند علماء اور محدثین کی کتبِ تاریخ سے نقل کیا ہے جن کے ثقہ اور معتمد علیہ ہونے میں کسی کو کلام نہیں اور یہ نہ سوچا کہ ان حضرات نے فنِ تاریخ کو فنِ حدیث سے الگ کیوں کیا، ان کا کلام فنِ حدیث میں جس معیار تنقید و تحقیق پر ہوتا ہے فنِ تاریخ میں وہ معیار نہیں ہوتا، اس میں نہ سند مکمل ہونے کی ضرورت سمجھی جاتی ہے، نہ راویوں پر جرح و تعدیل کی، ان کی نظر میں خود یہ تاریخی روایات کا ذخیرہ اس کام کے لئے نہیں کہ ان سے کوئی عقیدے کا مسئلہ ثابت کیا جائے یا کسی کی ذات و شخصیت کو ان کی بناء پر بلا تحقیق مجروح قرار دے دیا جائے۔ صحابہ کرامؓ کا معاملہ تو بہت بالا و بلند ہے، عام مسلمانوں میں سے بھی کسی کو ان تاریخی روایات کی بناء پر بلا تحقیق کے مجروح، قابلِ سزا یا فاسق کہنے کی یا ایسے انداز میں پیش کرنے کی اجازت کسی کے نزدیک نہیں دی جا سکتی جس سے پڑھنے والے ان کو اقتدار پرست اور شریعت کے جائز و ناجائز سے بے فکر قرار دے۔

*تنبیہ*

یہ بات مقدمہ کتاب میں وضاحت سے لکھی جا چکی ہے کہ اس سے ہرگز لازم نہیں آتا کہ فنِ تاریخ کسی معاملے میں قابلِ اعتماد نہیں، وہ فضول و بےکار ہے۔ علمائے اسلام نے اس فن کی جو خدمتیں کی ہیں وہ اس کی اسلامی اہمیت کی شاہد ہیں اور مسلمان ہی درحقیقت اس فن کو باقاعدہ فن بنانے والے ہیں، مگر ہر فن کا ایک مقام اور درجہ ہوتا ہے، فنِ تاریخ کا یہ درجہ نہیں کہ صحابہ کرامؓ کی ذوات و شخصیات کو قرآن و سنت کی نصوص سے صَرفِ نظر کر کے صرف تاریخی روایات کے آئینے میں دیکھا جائے اور اس پر عقیدے کی بنیاد رکھی جائے۔ جس طرح فنِ طب کی کتابوں سے اشیاء کے حلال و حرام یا پاک و ناپاک ہونے کے مسائل و احکام ثابت نہیں کیے جا سکتے، اگرچہ طب کی یہ کتابیں اکابر علماء ہی کی تصنیف ہوں۔ 

*مشاجراتِ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور کتب تاریخ*

یہاں یہ بات بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ عام واقعات و معاملات میں تاریخی روایات پر جتنا اعتماد کیا جا سکتا ہے، مشاجراتِ صحابہؓ کا معاملہ ایسا ہے کہ اس میں ان تاریخی روایات کے اعتماد کا وہ درجہ بھی قائم نہیں رہ سکتا۔ وجہ یہ ہے کہ اول تو مشاجرات جس حدِ قتل و قتال تک پہنچے ان میں بنیادی طور پر منافقین کی سبائی تحریک کا ہاتھ تھا جن کی اسلام دشمنی کھلی ہوئی ہے، پھر اسی تحریک کے نتیجے میں خود عہدِ صحابہؓ ہی کے اندر روافض و خوارج دو فرقے پیدا ہو گئے تھے، جو بعض صحابہؓ سے عداوت رکھتے تھے اور اس زمانے میں جیسے منافقین مسلمانوں کے ہر طبقہ، کام میں اسلامی شکل و صورت اور اسلامی رفتار و گفتار کے ساتھ شریک رہتے تھے اسی طرح یہ صحابہ کرامؓ کے مخالف گروہ بھی اس وقت آج کی طرح کسی ممتاز فرقے کے حیثیت میں نہ تھے کہ ان کی کتابیں حدیث و فقہ کی الگ ممتاز ہیں، ان کے سارے کام اہلِ سنت والجماعت سے الگ ہیں، اس وقت یہ صورت نہ تھی جس سے عام مسلمان متنبہ ہو سکتے، یہ سب کے سب مسلمانوں کی ہر جماعت، ہر طبقے میں ملے جلے تھے، بہت سے مسلمان بھی اپنے حسنِ ظن اور ان کے عدمِ امتیاز کی وجہ سے ان کی باتوں اور روایتوں پر اعتماد کر لیتے تھے، خود قرآنِ کریم نے ایک تفسیر کے مطابق بعض مسلمانوں کا منافقین کی باتوں سے متاثر ہونے کی تصریح فرمائی: 

وَفِيۡكُمۡ سَمّٰعُوۡنَ لَهُمۡ‌۔ سَمّٰعُوۡنَ کے معنیٰ جاسوس کے ہیں۔ اس طرح منافقین اور روافض و خوارج کی گھڑی ہوئی روایتیں بہت سے ثقہ اور معتمد علیہ مسلمانوں کی زبانوں پر بھی اعتماد کے ساتھ جاری تھیں۔ یہ معاملہ حدیثِ رسول اللہﷺ کا تو تھا نہیں کہ اس میں روایات قبول کرنے میں کڑی احتیاط اور تیقظ کا مظاہرہ کیا جاتا، فتنوں اور ہنگاموں کے حالات اور ان میں مشہور ہونے والی روایات کا جن لوگوں کو تجربہ ہے وہ جانتے ہیں کہ شہر میں کسی جگہ کوئی ہنگامہ پیش آ جائے تو اسی زمانے اور اس کے شہر کے رہنے والے بڑے بڑے ثقہ لوگوں کی روایتوں کا بھروسہ نہیں رہتا، کیونکہ جس شخص سے انہوں نے سنا تھا اس کو ثقہ و معتمد سمجھ کر اس کی روایت بیان کر دی، مگر ہوتا یہ ہے کہ اس معتمد نے بھی خود واقعہ دیکھا نہیں، کسی دوسرے سے سنا اور یوں روایت در روایت ہو کر ایک بالکل بے سروپا افواہ ایک معتمد علیہ روایت کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

صفحہ 31 از 33