مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 30 از 33

2: اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بصرہ کے سفر پر جہاں جنگِ جمل کا واقعہ پیش آیا، ندامت کا اظہار فرمایا اور جب وہ اس واقعے کو یاد کرتی تھیں تو اتنا روتی تھی کہ ان کا دوپٹہ تر ہو جاتا تھا۔(شرح عقیدہ واسطیہ)

3:حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اپنے اس قصور پر ندامت کا اظہار فرماتے تھے کہ ان سے حضرت عثمانؓ کی مدد کرنے میں کوتاہی ہوئی۔ (ایضاً)

4: حضرت زبیرؓ نے اپنے سفر پر ندامت کا اظہار کیا جس میں جنگ جمل کا حادثہ پیش آیا۔ (ایضاً)

5: حضرت علیؓ نے (اس قتال میں حق پر ہونے کے باوجود) بہت سے پیش آنے والے واقعات پر ندامت کا اظہار فرمایا۔(ایضاً)

حضرت علیؓ کا یہ واقعہ، حضرت اسحاق بن راہویہؒ نے اپنی سند سے نقل کیا ہے کہ جنگِ جمل اور جنگِ صفین کے موقع پر آپؓ نے ایک شخص کو سنا کہ وہ مخالف لشکر والوں کے حق میں غلو آمیز باتیں کہ رہا ہے، آپؓ نے فرمایا: ان کے بارے میں بھلائی کے سوا کچھ نہ کہو، ان لوگوں نے سمجھا ہے کہ ہم نے ان کے خلاف بغاوت کی ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے خلاف بغاوت کی ہے، اس لیے ہم ان سے قتال کر رہے ہیں۔(منہاج السنۃ: جلد 2، صفحہ 61)

نیز ایک مرتبہ علیؓ سے پوچھا گیا کہ جنگِ جمل اور جنگِ صفین میں قتل ہونے والوں کا انجام کیا ہوگا؟حضرت علیؓ نے دونوں فریقوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

لا یموتن احد من ھؤلاء وقلبہ نقی الا دخل الجنۃ(مقدمہ ابن خلدون: صفحہ 385، فصل نمبر 30)

ترجمہ: ان میں سے جو شخص بھی صفائی قلب کے ساتھ مرا ہوگا، وہ جنت میں جائے گا۔

اور جنگِ صفین کے دوران راتوں میں یہ فرمایا کرتے تھے کہ: اچھا مقام وہ تھا جو عبداللہ بن عمرؓ اور سعد بن مالکؓ نے اختیار کیا کہ اس جنگ سے علیحدہ رہے، کیونکہ یہ کام اگر انہوں نے صحیح کیا تب تو ان کے اجرِ عظیم میں کیا شبہ ہے؟ اور اگر اس جنگ سے علیحدہ رہنا کوئی گناہ بھی تھا تو اس کا معاملہ بہت ہلکا ہے اور حضرت حسنؓ کو مخاطب کر کے فرمایا کرتے تھے:یا حسن! یا حسن! ما ظن ابوک ان الامر یبلغ الی ھذا ود ابوک لو مات قبل ھذا بعشرین سنہ

یعنی اے حسن! تیرے باپ کو یہ گمان کبھی نہ تھا کہ معاملہ یہاں تک پہنچ جائے گا، تیرے باپ کی تمنا یہ ہے کہ کاش وہ اس واقعے سے 20 سال پہلے فوت ہو گیا ہوتا۔

اور جنگِ صفین سے واپسی کے بعد لوگوں سے فرماتے تھے کہ امارتِ معاویہؓ کو بھی برا نہ سمجھو کیونکہ وہ جس وقت نہ ہوں گے تو تم سروں کو گردنوں سے اڑتے ہوئے دیکھو گے۔(شرح عقیدہ واسطیہ: صفحہ 458، 459)

معجمِ طبرانی کبیر میں طلحہ بن مصرف سے روایت ہے کہ جب واقعہ جمل میں حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ ؓحضرت علیؓ کے لشکر کے ہاتھوں شہید ہو گئے، حضرت علیؓ اپنے گھوڑے سے اترے اور ان کو اٹھایا اور ان کے چہرے سے غبار صاف کرنے لگے اور رو پڑے اور کہنے لگے کہ: کاش! میں اس واقعے سے 20 سال پہلے مر گیا ہوتا۔(از جمع الفوائد: جلد 2، صفحہ 214)

سنن بیہقی میں ان کی سند کے ساتھ یہ روایت ہے کہ جنگِ جمل میں حضرت علیؓ کے مقابلے پر قتال کرنے والے حضرات کے بارے میں حضرت علیؓ سے سوال کیا کہ کیا یہ لوگ مشرک ہیں؟ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ:  شرک سے بھاگ کر ہی تو وہ اسلام میں آئے ہیں۔ پھر پوچھا گیا کہ کیا وہ منافق ہیں؟ تو فرمایا: ان المنافقین لا یذکرون اللہ الا قلیلا

یعنی منافقین تو اللہ کو بہت کم یاد کرتے ہیں (اور یہ لوگ تو بکثرت اللہ کو یاد کرنے والے ہیں)

پھر پوچھا گیا کہ پھر یہ کیا ہیں؟ تو فرمایا: ہمارے بھائی ہیں، جنہوں نے ہمارے خلاف بغاوت کی ہے۔

(سنن بیہقی: جلد8، صفحہ 172، طبع دائرۃ المعارف دکن)

اور اسی سننِ بیہقی میں حضرت ربعی بن خراش رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا:

انی لأرجوا ان اکون وطلحہ و زبیر ممن قال اللہ عزوجل: ونزعنا ما فی صدورھم من غل(سنن بیہقی: جلد 8، صفحہ 173)

ترجمہ: مجھے امید ہے کہ قیامت کے روز میں اور طلحہ ؓو زبیر رضی اللہ عنہما ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ: (جنت میں) ان کے دلوں کی باہمی کدورتیں نکال دیں گے۔

6: اسی طرح معاویہؓ سے منقول ہے کہ انہوں نے قسم کھا کر فرمایا کہ: علیؓ مجھ سے بہتر اور مجھ سے افضل ہیں اور میرا ان سے اختلاف صرف حضرت عثمانؓ کے قصاص کے مسئلے میں ہے اور اگر وہ خونِ عثمانؓ کا قصاص لے لیں تو اہلِ شام میں ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے والا سب سے پہلے میں ہوں گا۔(البدایہ والنہایہ: جلد 7، صفحہ 139 و صفحہ 259 )

7: جب حضرت معاویہؓ کے پاس علیؓ کی شہادت کی خبر پہنچی تو وہ رونے لگے، اہلیہ نے پوچھا کہ آپ زندگی میں ان سے لڑتے رہے، اب روتے ہیں؟حضرت معاویہؓ نے فرمایا: کہ تم نہیں جانتیں کہ ان کی وفات سے کیا فقہ اور کیسا علم دنیا سے رخصت ہو گیا۔ (البدایہ والنہایہ: جلد 8، صفحہ 129)

8: ایک مرتبہ حضرت معاویہؓ نے ضرار صدائی سے کہا کہ میرے سامنے علیؓ کے اوصاف بیان کرو اس پر انہوں نے غیر معمولی الفاظ میں حضرت علیؓ کی تعریف کی، حضرت معاویہؓ نے فرمایا: اللہ، ابوالحسن (علیؓ) پر رحم کرے، خدا قسم! وہ ایسے ہی تھے۔ (الاستیعاب تحت الاصابہ: جلد 3، صفحہ 43،44)

9: قیصرِ روم نے مسلمانوں کی باہمی خانہ جنگی سے فائدہ اٹھا کر ان پر حملہ آور  ہونے کا ارادہ کیا، حضرت معاویہؓ کو اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے  قیصر کے نام ایک خط میں لکھا:

اگر تم نے اپنا ارادہ پورا کرنے کی ٹھان لی تو میں قسم کھاتا ہوں کہ میں اپنے ساتھی (حضرت علیؓ) سے صلح کر لوں گا، پھر تمہارے خلاف ان کا جو لشکر روانہ ہوگا اس کے ہر اول دستے میں شامل ہو کر قسطنطنیہ کو جلا کر کوئلہ بنا دوں گا اور تمہاری حکومت کو گاجر مولی کی طرح اکھاڑ پھینکوں گا۔(تاج العروس: جلد 7، صفحہ 208، مادة: اصطفلین)

10:متعدد مؤرخین نے نقل کیا ہے کہ جنگِ صفین وغیرہ کے موقعے پر دن کے وقت فریقین میں جنگ ہوتی اور رات کے وقت ایک لشکر کے لوگ دوسرے لشکر میں جا کر ان کے مقتولین کی تجہیز و تکفین میں حصہ لیا کرتے تھے۔(البدایہ والنہایہ: جلد 7، صفحہ 227)

صفحہ 30 از 33