مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 33

قرآن وسنت کی نصوص اور اُمت کے اجماعی عقیدے نے جو امتیاز صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ذات و شخصیات کو عطا کیا ہے، وہ نظر انداز کر دیا گیا، وہ امتیازی خصوصیت حضراتِ صحابہؓ کی یہ ہے کہ قرآنِ کریم نے ان سب کے بارے میں رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ کا، اور ان کا مقام جنت ہونے کا اعلان کر دیا، اور جمہور امت نے ان کی ذات و شخصیات کو اپنی جرح و تنقید سے بالاتر قرار دیا۔ ان کے مختلف مسائل و مسالک میں سے عمل کے لیے شرعی حدود اجتہاد کے دائرے میں کسی ایک کو ترجیح دے کر اختیار کر لینا اور دوسرے کو مرجوح قرار دے کر ترک کر دینا دوسری چیز ہے، اس سے جس کے مسلک کو مرجوح قرار دیا گیا ہے اس کی ذات اور شخصیت نہ مجروح ہوتی ہے اور نہ ایسا کرنا ان کے ادب کے خلاف ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ پر عمل فرض ہے اور اختلافِ اقوال کے وقت دو متضاد چیزوں پر عمل ناممکن ہے، شرعی فریضے کی ادائیگی کے لیے اقوالِ مختلفہ میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا ناگزیر ہے، بشرطیکہ دوسرے کی ذات اور شخصیت کے بارے میں کوئی ادنیٰ بے ادبی یا کسرِ شان کا پہلو اختیار نہ کیا جائے۔

فنِ تاریخ کی اہمیت اور اس کا درجہ

اوپر جو یہ لکھا گیا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ذات و شخصیات اور ان کے مقام کا تعین صرف تاریخی روایات کی بنیاد پر کر لینا درست نہیں، کیونکہ یہ حضرات رسالت اور امت کے درمیانی واسطہ ہونے کی حیثیت سے از روئے قرآن و سنت ایک خاص مقام رکھتے ہیں، تاریخی روایات کا یہ درجہ نہیں ہے کہ ان کی بناء پر ان کے اس مقام کو گھٹایا بڑھایا جاسکے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں سمجھنا چاہیے کہ فنِ تاریخ بالکل نا قابلِ اعتبار و بیکار ہے، (آگے اسلام میں اس کی ضرورت و اہمیت واضح کی جائے گی) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اعتبار و اعتماد کے بھی مختلف درجات ہوتے ہیں۔

اسلام میں اعتبار و اعتماد کا جو مقام قرآنِ کریم اور احادیثِ متواترہ کا ہے وہ عام احادیث کا نہیں، جو حدیثِ رسولﷺ کا درجہ ہے وہ اقوالِ صحابہؓ کا نہیں۔ اسی طرح تاریخی روایات کے اعتماد و اعتبار کا بھی وہ درجہ نہیں ہے جو قرآن وسنت یا سندِ صحیح سے ثابت شدہ اقوالِ صحابہؓ کا ہے۔

بلکہ جس طرح نصِ قرآنی کے مقابلے میں اگر کسی غیر متواتر حدیث سے اس کے خلاف کچھ مفہوم ہوتا ہو تو اس کی تاویل واجب ہے، یا تاویل سمجھ میں نہ آئے تو نصِ قرآنی کے مقابلے میں اس حدیث کا ترک واجب ہے۔ اسی طرح تاریخی روایات اگر کسی معاملے میں قرآن وسنت سے ثابت شدہ کسی چیز سے متصادم ہوں تو وہ بمقابلہ قرآن و سنت کے متروک یا واجب التاویل قرار دی جائے گی خواہ وہ تاریخی اعتبار سے کتنی ہی معتبر و مستند روایات ہوں۔

اعتبار و اعتماد کی یہ درجہ بندی کسی فن کی عظمت و اہمیت کو گھٹاتی نہیں، البتہ شریعت اور اس کے احکام کی عظمت کو بڑھاتی ہے کہ ان کے ثبوت کے لئے اعتماد و اعتبار کا نہایت اعلیٰ درجہ لازم قرار دیا گیا ہے، پھر احکامِ شرعیہ میں بھی تقسیم کر کے عقائدِ اسلامیہ کے ثبوت کے لیے ہر شرعی دلیل بھی کافی نہیں سمجھی جاتی جب تک قطعی الثبوت اور قطعی الدلالت نہ ہو، باقی احکامِ عملیہ کے لیے عام احادیث جو قابلِ اعتماد سند کے ساتھ منقول ہوں وہ بھی کافی ہوتی ہیں۔

فنِ تاریخ کی اسلامی اہمیت

فنِ تاریخ کی اسلامی اہمیت کے لیے تو اتنی ہی بات کافی ہے کہ تاریخ و قصص قرآنِ کریم کے علومِ خمسہ کا ایک اہم جزء ہیں، قرآنِ کریم نے ایامِ ماضیہ اور اقوامِ سابقہ کے اچھے برے حالات بیان کرنے کا خاص اہتمام فرمایا، البتہ قرآنِ کریم نے جس طرح تاریخ و قصص کو بیان فرمایا ہے وہ ایک انوکھا انداز ہے کہ کسی قصے کو ترتیب کے ساتھ اول سے آخر تک پورا بیان کرنے کے بجائے اس کے ٹکڑے کر کے مختلف مضامینِ قرآنیہ کے ساتھ لائے گئے ہیں اور صرف ایک جگہ نہیں بلکہ بار بار اس کا اعادہ فرمایا ہے۔

اس خاص طرز سے فنِ تاریخ کی اہمیت کے ساتھ اس کے اصلی مقصود کو بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ اقوامِ سابقہ کے قصے بحیثیت قصہ کہانی کے کوئی انسانی اور اسلامی مقصد نہیں، بلکہ ان سے اصل مقصد و غرض وہ عبرتیں اور نتائج ہیں جو اُن میں غور کرنے سے حاصل ہوتے ہیں۔ اچھے کاموں کے اچھے نتائج دیکھ کر ان کی طرف رغبت، اور بُرے کاموں کے بُرے نتائج معلوم کر کے ان سے نفرت، اور زمانے کے انقلابات سے حق تعالیٰ کی قدرت و حکمت کے مضامین حاصل کرنا ان کا اہم مقصد ہے۔

قدیم زمانے سے افسانوں اور کہانیوں اور پچھلے قصوں کو محض ایک دل بہلانے کے مشغلے کے طور پر پڑھا اور سنا جاتا تھا، اسلام نے اول تو تاریخ لکھنے کے خاص آداب سکھائے پھر یہ بھی بتلا دیا کہ تاریخ بحیثیت تاریخ خود کوئی مقصد نہیں بلکہ اس کا مقصد عبرت و نصیحت حاصل کرنا ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہؒ نے”الفوز الکبیر“ میں بعض عارفین کا یہ قول نقل کیا ہے کہ لوگوں نے جب تجوید وقراءة کے قواعد کا شغل اختیار کیا تو اس میں ایسے منہمک ہو گئے کہ ساری توجہ حروف ہی کے درست کرنے پر رہنے لگی، نماز میں خشوع اور تلاوتِ قرآن سے تذکر جو اصل مقصد تھا اس کو فوت کر دیا۔ اسی طرح بعض مفسرین نے جب قصص پر زور دیا اور پوری تفصیلات لکھ دیں تو ان کی کتابوں میں اصل علمِ تفسیر ان قصوں میں گم ہو گیا۔

بہر حال قرآن کے علومِ خمسہ میں سے قصص و تاریخ بھی ایک اہم علم ہے جس کی تحصیل اپنی حد کے اندر واجب اور بہت بڑی طاعت ہے، پھر ذخیرہ حدیث اور سیرتِ رسول اللہﷺ پر غور کیا جائے تو وہ پورا ذخیرہ ہی آنحضرتﷺ کے اقوال و اعمال کی تاریخ ہے اور حدیث کے راویوں میں جب غلط کار یا جھوٹی حدیثیں بنانے والے لوگ شامل ہو گئے تو پورے ذخیرہ حدیث کے روایت کرنے والے راویوں کی تاریخ اور ان کے صحیح اور اصل حالات کا معلوم کرنا حدیث کی حفاظت کے لیے ضروری ہو گیا، حضراتِ ائمہ حدیث نے اس کا بڑا اہتمام فرمایا۔

سفیان ثوریؒ نے فرمایا کہ جب راویوں نے جھوٹ سے کام لیا تو ہم نے ان کے مقابلے میں تاریخ کو سامنے کر دیا۔

(الاعلان بالتوبيخ لمن ذم التواريخ للحافظ السخاوىؒ: صفحہ 9) 

صفحہ 3 از 33