مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 29 از 33

اگر عقل و انصاف آج بھی کسی چیز کا نام ہے تو ایک کام کر دیکھیے کہ مشاجراتِ صحابہؓ اور ان کی باہمی جنگوں میں جو حضرات پیش پیش ہیں، حضرت علی،  حضرت معاویہ، حضرت طلحہ و زبیر حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم وغیرہ ان حضرات کے حالات اور ایک دوسرے کے خلاف مقالات کچھ حدیث کی کتابوں میں بھی روایتِ حدیث کے اصول پر پرکھ کر جمع شدہ موجود ہیں اور انہیں حضرات کے کچھ حالات و مقالات تاریخی روایت میں آئے ہیں، ان دونوں قسم کی روایات کو الگ الگ پڑھ کر اپنے دلوں اور دماغوں کا جائزہ لیں کہ علمِ حدیث میں آئی ہوئی روایات انہیں معاملات کے متعلق کیا تاثر دیتی ہیں؟ اور تاریخی روایات ان کے بلمقابل کیا تاثر چھوڑتی ہیں؟ ذرا سا تقابل کر کے دیکھیں تو کوئی شک نہیں رہے گا کہ حدیث میں جمع شدہ روایات سے اگر کسی صحابی کی کوئی زیادتی یا لغزش بھی معلوم ہوتی ہے تو اس کا مجموعی تاثر یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ اس کی شخصیت مجروح، ناقابلِ اعتماد ہو جائے، بخلاف تاریخی روایت کے کہ ان کو پڑھ کر ایک انسان دونوں فریق کو یا کم از کم ایک فریق کو غلط کار، اقتدار پسند اور اقتدار ہی کے پیچھے جنگ لڑنے والا قرار دے گا۔ مستشرقین کا تو مقصد ہی یہ تھا کہ مسلمانوں کی صفوں میں انتشار و اختلاف پیدا کریں، صحابہ کرامؓ کے سب گروہ نہیں تو بعض ہی کو مجروح، غیر معتمد بنا دیں، انہوں نے اگر قرآن و سنت کی نصوص و روایات سے آنکھیں بند کر کے صرف تاریخی روایات کی بنا پر حضراتِ صحابہؓ کے بارے میں کچھ فیصلے کیے تو کوئی بعید نہیں تھا، افسوس ان مسلم اہلِ قلم  پر ہے جنہوں نے اس میدان میں قدم رکھنے کے ساتھ اسلام کے عادلانہ اصولِ تنقید اور حکیمانہ جرح و تعدیل کے اصول کو نظر انداز کر کے انہیں تاریخی روایت کو مدارِ کار بنا لیا۔ قرآن و حدیث کی نصوصِ صریحہ قطعیہ نے جن بزرگوں کی تعدیل نہایت وزن دار الفاظ میں فرمائی اور دین کے معاملے میں ان کے معتمد و معتبر ہونے کی گواہی دی، جن کے بارے میں قرآن و سنت ہی کے نصوص نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ ان سے کوئی گناہ یا لغزش ہوئی بھی ہے تو وہ اس پر قائم نہیں رہے، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مغفور و مرحوم اور مقبول ہیں، اس کے بعد تاریخی روایات سے ان کو جرح و الزام کا نشانہ بنانا اسلام کے تو خلاف ہے ہی عقل و انصاف کے بھی خلاف ہے۔ 

امت کے اسلاف و اخلاف صحابہؓ و تابعینؒ اور بعد کے علمائے امت کا جو اجماع اوپر نقل کیا گیا ہے کہ مشاجراتِ صحابہؓ اور باہم ایک دوسرے کے خلاف پیش آنے والے واقعات میں سکوت اور کفِ لسان ہی شیوہ اسلاف ہے، اس معاملے میں جو روایات و حکایات  منقول چلی آتی ہیں ان کا تذکرہ بھی مناسب نہیں۔

یہ کوئی”اندھی عقیدت مندی“ یا ”تحقیق سے راہِ فرار“ نہیں، بلکہ صحیح تحقیق کا عادلانہ اور محتاط فیصلہ ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے کہ قرآن و سنت کی نصوصِ قطعیہ کی رو سے یہ وہ مقدس گروہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ اور امت کے درمیان واسطہ بنانے کے لیے منتخب فرمایا اور رسولاللہﷺ کی صحبتِ کیمیاء اثر نے ان کے اعتقادات، اعمال، اخلاق و عادات میں وہ انقلابِ عظیم برپا کیا کہ باوجود غیر معصوم ہونے کے ان کا قدم شریعتِ اسلام کے خلاف نہ اٹھتا تھا۔ رسول اللہﷺ اور دینِ اسلام کی نصرت میں ان کی خدمات حیرت انگیز ہیں، جن کو دشمنانِ اسلام نے بھی حیرت کے ساتھ سراہا ہے، ان کی طرف جو قابلِ اعتراض بعض اعمال منسوب ہیں ان کا بہت بڑا حصہ تو وہ ہے جو سراسر جھوٹ و افتراء، سبائی تحریک کی سازش اور روافض و خوارج کی گھڑی ہوئی خرافات ہیں اور کچھ وہ ہیں جو بظاہر خلافِ شرع ہیں مگر حقیقتاً خلافِ شرع نہیں، بلکہ شرع پر عمل کرنے کی ایک خاص صورت ہے جس کو انہوں نے اپنے اجتہادِ شرعی سے تجویز اور دین کے لیے ضروری سمجھا، اگر اس میں ان سے خطاء بھی ہوئی ہو تو وہ گناہ نہیں بلکہ اس پر ان کو حسبِ تصریحِ  حدیث ایک اجر بھی ملے گا۔

اور اگر کوئی ایسا کام بھی کبھی کسی سے سرزد ہوا ہے جو خطاءِ اجتہادی نہیں بلکہ حقیقتاً گناہ ہے تو اولاً ایسا کام ان کی پوری اسلامی زندگی میں اتنا شاذ و نادر ہے کہ ان کے لاکھوں حسنات اور اسلام کی اہم خدمات کے مقابلے میں قابلِ ذکر بھی نہیں، پھر ان کے خوفِ خدا اور علمِ بصیرت کے پیشِ نظر یہ ظاہر ہے کہ وہ اس پر قائم نہیں رہے بلکہ تائب ہوئے اور یہ بھی نہ ہو تو شاذ و نادر خطاء و گناہ ان کے عظیم الشان اسلامی خدمات اور لاکھوں حسنات کی وجہ سے معاف ہو گیا، جس کی معافی کا اعلان حق تعالیٰ کی رضا و رضوان کے عنوان سے قرآنٹ کریم میں کر دیا گیا ہے۔ ان حالات میں کیا عقل اور عدل و انصاف کا  یہ تقاضا نہیں کہ تاریخی روایات کو منافقین و مخالفین کی روایات اور جھوٹی حکایات سے خالی بھی تسلیم کر لیا جائے تو یہ روایات بمقابلہ روایاتِ حدیث اور آیاتِ قرآن کے مجروح واجب الترک ہیں۔

*عین جنگ کے وقت بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی رعایت حدود*

جماعتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ مقدس اور خدا ترس گروہ ہے جو اپنے جائز اعمال بلکہ طاعات و عبادات پر بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا اور خائف رہتا ہے کہ جب اپنی کسی اجتہادی خطاء پر تنبہ ہو جاتا ہے تو ندامت کے ساتھ اس کا اعتراف اور اس پر استغفار کرنا ان کا معمول ہے۔ مشاجراتِ صحابہؓ میں جو حضرات باجماعِ امت حق پر تھے اور حق کی مجبوری سے انہوں نے دوسروں پر تلوار اٹھائی اور فتح بھی پائی، وہ بھی نہ اپنی فتح پر مسرور ہوئے ،نہ مفتوح حضرات کے مغلوب ہونے پر کوئی کلمہ فخر ان کی زبانوں سے نکلا، بلکہ مقابل فریق کو بھی اللہ والا، نیک نیت مگر خطاء اجتہادی میں مبتلا سمجھ کر ان کے قتل اور نقصان پر افسوس و ندامت کا اظہار کیا۔ صحابہ کرامؓ کی بہت بڑی جماعت جو فریقین سے الگ غیر جانبدار رہی ان میں سے کسی کے ساتھ نہ رہی تھی، ان کو معذور قرار دیا بلکہ ان حضرات کی تحسین بھی کی گئی، مندرجہ ذیل روایات اس کے ثبوت کے لیے کافی ہیں۔

1: حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ پر جو الزامات لگائے گئے تھے ان میں جس چیز کا خلافِ شرع ہونا ان کو ثابت ہو گیا اس سے توبہ کا اعلان کھلے طور پر فرمایا۔(شرح عقیدہ واسطیہ)

صفحہ 29 از 33