مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 28 از 33

وجہ یہ ہے کہ کسی بھی شخصیت کو مجروح کرنے اور اس پر کوئی الزام ثابت کرنے کے لیے اسلام نے جرح و تعدیل کے خاص اصول مقرر فرمائے ہیں جو عقلی بھی ہیں اور شرعی بھی، جب تک الزامات کو جرح و تعدیل کے اس کانٹے میں نہ تولا جائے اس وقت تک کسی بھی شخصیت پر کوئی الزام عائد کرنا، اسلام میں جرم اور ظلم ہے۔ یہاں تک کہ جو شخصیتیں ظلم و جور میں معروف ہیں ان پر بھی کوئی خاص الزام بغیر ثبوت و تحقیق کے لگا دینے کو اسلام میں حرام قرار دیا گیا ہے۔ بعض اکابرِ امت کے سامنے کسی نے حجاج بن یوسف ثقفی پر، جس کا ظلم و جور دنیا میں معروف متواتر ہے، کوئی تہمت لگائی تو اس بزرگ نے فرمایا کہ: تمہارے پاس اس کا ثبوتِ شرعی موجود ہے کہ حجاج بن یوسف نے یہ کام کیا ہے؟ ثبوت کوئی تھا نہیں، نقل کرنے والے نے حجاج کے بدنام اور معروف بالفسق ہونے کی وجہ سے اس کی ضرورت بھی نہیں سمجھی کہ اس کا ثبوت مہیا کرے۔

اس مقدس بزرگ نے فرمایا کہ: خوب سمجھ لو کہ حجاج اگر ظالم ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے ہزاروں کشتگانِ ظلم کا انتقام لے گا تو اس کے ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ حجاج پر اگر کوئی غلط تہمت لگائے تو اس کا بھی انتقام اس سے لیا جائے گا، رب العالمین کا قانونِ عدل اس کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی شخص گنہگار فاسق بلکہ کافر بھی ہے تو اس پر جو چاہو الزام اور تہمت لگا دو۔

اور جب اسلام کا یہ معاملہ عام افرادِ انسان یہاں تک کہ کفار و فجار کے ساتھ بھی ہے تو اندازہ لگائیے کہ جس گروہ یا جس فرد نے اللہ و رسولﷺ پر ایمان لانے کے بعد اپنا سب کچھ ان کی مرضی کے لیے قربان کیا ہو اور اپنے ایک ایک قدم اور ایک ایک سانس میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے احکام کی تعمیل کو وظیفہ زندگی بنایا ہو، جن کے مقامِ اخلاق اور عدل و انصاف کی شہادتیں دشمنوں نے بھی دی ہوں ان کے متعلق اسلام کا عادلانہ قانون اس کو کیسے گوارا کر سکتا ہے کہ ان مقدس ہستیوں کو بدنام کرنے اور ان پر الزامات لگانے کی لوگوں کو کھلی چھٹی دے دے کہ کیسی ہی غلط سلط روایت و حکایت سے بلا تنقید و تحقیق ان کو مجروح قرار دے دیا جائے۔ مستشرقین اور ملحدین تو دشمنِ اسلام ہیں، یہ اگر جان بوجھ کر بھی اسلام کے ساتھ اس عادلانہ اور حکیمانہ اصولِ عدل و انصاف کو نظر انداز کریں تو ان سے کچھ مستعبد نہیں۔

مگر افسوس ان حضرات پر ہے جو ان کی مدافعت کے لیے اس خونی میدان میں اترے تھے، انہوں نے بھی اس اسلامی اصول کو نظر انداز کر کے حضراتِ صحابہؓ ؓ کے بارے میں وہی طریقہ کار اختیار کر لیا جس کو مستشرقین نے اپنی سوچی سمجھی تدبیر سے اسلام اور اسلافِ اسلام کے خلاف اختیار کیا تھا کہ صرف تاریخ کی بے سند اور خلط ملط روایات کو موضوعِ تحقیق اور مدارِ کار بنا کر انہیں روایات و حکایات کی بنیاد پر حضراتِ صحابہؓ کی شخصیتوں پر الزامات عائد کر دیے۔

جبکہ یہ حضرات وہ ہیں کہ ان کی زندگی اور ان کے احوال کا بہت بڑا حصہ رسول اللہﷺ کی احادیثِ مقدسہ کا جزء ہے اور علمِ حدیث میں بڑی احتیاط و تنقید کے ساتھ مدون ہو چکا ہے، اس طرح بہت بڑا حصہ خود قرآنِ کریم میں مذکور ہے، کیونکہ بہت سی آیاتِ قرآن کا نزول خاص خاص صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے واقعات میں ہوا ہے، پھر قرآن میں جو حکم آیا اگرچہ وہ سب مسلمانوں کے لیے عام قرار پایا، مگر یہ صحابی تو خصوصیت سے اس کے مصداق تھے، اس طرح غور کیا جائے تو انہیں آیات کے ضمن میں صحابہ کرامؓ کے بہت سے حالات و معاملات آ جاتے ہیں۔ جن حضرات کی زندگی کو سمجھنے اور ان کے حالات کو معلوم کرنے کے لیے قرآنِ کریم کی محکم آیات اور احادیثِ رسول اللہﷺ میں انتہائی احتیاط و تنقید و تحقیق کے ساتھ مدون کی ہوئی روایات موجود ہوں اور ان کے بالمقابل فنِ تاریخ کی حکایات ہوں جن کے متعلق ائمہ تاریخ کا اتفاق ہے کہ ان حکایات و روایات میں نہ صحتِ سند کا اہتمام ہے، نہ راویوں پر جرح و تعدیل کا محدثانہ دستور ہے، بلکہ ایک مورخ کا دیانت دارانہ کام ہی اتنا ہے کہ کسی واقعے کے متعلق جتنی جس طرح کی روایات اس کو پہنچی ہیں وہ سب کو جمع کر دے، خواہ وہ اس کے مسلک و مذہب کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ تاریخ کی صحیح و سقیم روایتیں اگر احادیثِ رسول اللہﷺ کی مستند ومعتبر روایات کے خلاف کسی شخصیت کے بارے میں کوئی تاثر دیں اور ان پر کچھ الزامات عائد کریں، تو یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ان مجروح، بے سند تاریخی روایات کو قرآن و حدیث کی شہادتوں پر ترجیح دے کر ان حضرات کو ملزم قرار دے دیا جائے۔

یہ صرف ”اسلامی عقیدت مندی“ اور ”صحابہؓ کی جنبہ داری“ کا مسئلہ نہیں بلکہ عقل و انصاف کا مسئلہ ہے، غیر مسلم مستشرقین اور ان کے ہم نواؤں سے میرا سوال ہے کہ ایک شخص یا جماعت کے متعلق اگر دو طرح کی روایات موجود ہوں، ایک قسم کی روایات میں روایت کی پوری سند محفوظ ہے، اس کے راویوں کو جرح و تعدیل کے معیار پر جانچا گیا ہے، الفاظِ روایت میں مکمل احتیاط برتی گئی ہے اور دوسری قسم ایسی روایات کی ہیں جن میں تمام رطب و یابس، صحیح و غلط روایات بلا کسی سند کے آئی ہیں اور کہیں کوئی سند ہے بھی تو اس کے راویوں کی کوئی جانچ پڑتال نہیں کی گئی، نہ روایت کے الفاظ ہی جانچ تول کر لیے گئے، ایسے حالات میں وہ ان دونوں قسم کی روایات میں سے کس قسم کو اپنی ریسرچ اور تحقیق میں ترجیح دیں گے۔

صفحہ 28 از 33