مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 27 از 33

7:- امام مالک رحمۃاللہ کے سامنے جب ایک شخص نے بعض صحابہ کرامؓ کی تنقیص کی تو آپ نے قرآن کی آیت وَالَّذِيْنَ مَعَهُ سے لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ تک تلاوت فرمائی اور کہا کہ: جس شخص کے دل میں کسی صحابی کی طرف سے غیظ ہو وہ اس آیت کی زَد میں ہے، ذكره الخطيب أبوبكر اور حضرت امام مالکؒ نے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا جو صحابہ کرامؓ کی تنقیص کرتے ہیں کہ: یہ وہ لوگ ہیں جن کا اصل مقصد رسول اللہﷺ کی تنقیص ہے، مگر اس کی جرأت نہ ہوئی تو آپﷺ کے صحابہؓ کی برائی کرنے لگے تاکہ لوگ سمجھ لیں کہ معاذ اللہ خود رسول اللہﷺ برے آدمی تھے، اگر وہ اچھے ہوتے تو ان کے صحابہؓ بھی صالحین ہوتے۔(الصارم المسلول ابنِ تیمیہؒ)

8: امام احمد بن حنبلؒ نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ صحابہ کرامؓ کی برائی کا تذکرہ کرے یا ان پر کسی عیب اور نقص کا طعن کرے اور اگر کوئی ایسی حرکت کرے تو اسے سزا دینا واجب ہے اور فرمایا کہ: تم جس شخص کو کسی صحابی کا برائی کے ساتھ ذکر کرتے دیکھو تو اس کے اسلام و ایمان کو متہم و مشکوک سمجھو (روایت نمبر 4)۔ 

اور ابراہیم بن میسرہ رحمۃاللہ کہتے ہیں کہ: میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کو کبھی نہیں دیکھا کہ کسی کو خود مارا ہو، مگر ایک شخص جس نے حضرت معاویہؓ پر سب و شتم کی، اس کو انہوں نے خود کوڑے لگائے(رواه الالكائی، ذكره إبنِ تيمية فی الصارم المسلول)۔ 

9: امام ابو زرعہ عراقی رحمۃاللہ استاذِ مسلم رحمۃاللہ نے فرمایا کہ: تم جس شخص کو کسی صحابی کی تنقیص کرتے دیکھو تو سمجھ لو کہ وہ زندیق ہے، جو قرآن و سنت سے امت کا اعتماد زائل کرنا چاہتا ہے، اس لیے اس کو زندیق اور گمراہ کہنا ہی حق و صحیح ہے(روایت نمبر 4)۔

یہ تو چند اسلافِ امت کے خصوصی ارشادات ہیں، اس کے علاوہ مذکور الصدر روایات و عبارات میں اس کو امت کا اجماعی عقیدہ بتلایا ہے جس سے انحراف کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں۔

مشاجراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کے معاملے میں صحابہؓ و تابعینؒ اور ائمہ مجتہدینؒ کا عقیدہ اور فیصلہ ہے کہ خواہ اس وجہ سے کہ ہم ان پورے حالات سے واقف نہیں جن میں یہ حضراتِ صحابہؓ گزرے ہیں یا اس وجہ سے کہ قرآن و سنت میں ان کی مدح و ثناء اور رضوانِ خداوندی کی بشارت اس کو مقتضیٰ ہے کہ ہم ان سب کو اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے سمجھیں اور ان سے کوئی لغزش بھی ہوئی ہے تو اس کو معاف قرار دے کر ان کے معاملے میں کوئی ایسا حرف زبان سے نہ نکالیں جس سے ان میں سے کسی کی تنقیص یا کسرِ شان ہوتی ہو، یا جو ان کے لیے سببِ ایذاء ہو سکتی ہے، کیونکہ ان کی ایذاء رسول اللہﷺ کی ایذاء ہے۔ بڑا بد نصیب ہے وہ شخص جو اس معاملے میں محقق مفکر بہادری کا مظاہرہ کرے اور ان میں سے کسی کے ذمہ الزام ڈالے۔

*مستشرقین اور ملحدین کے اعتراضات کا جواب*

اس زمانے میں جن اہلِ قلم نے مصر اور ہندو پاکستان میں مشاجراتِ صحابہؓ کے مسئلے کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا اور اس پر کتابیں لکھی ہیں، ان کے پیشِ نظر دراصل آج کل کے مستشرقین اور ملحدین کا دفاع اور جواب دہی ہے، جس کو انہوں نے اسلام کی خدمت سمجھ کر اختیار کیا ہے۔

اس وقت جب کہ عام مسلمانوں میں اپنی تعلیم کے فقدان اور نئی ملحدانہ تعلیم کے رواج نے خود مسلمانوں کے بہت بڑے طبقے کو اسلام اور عقائدِ اسلام اور احکامِ اسلام سے بیگانہ کر دیا ہے، اسلاف کا ادب واحترام ان کے ذہنوں میں ایک بے معنیٰ لفظ ہو کر رہ گیا ہے، اسی کا نام ”آزادی خیال“ رکھا گیا ہے۔مستشرقین اور ملحدین جو ہمیشہ سے اسلام پر مختلف جہات سے حملے کرنے اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں، انہوں نے موقع کو غنیمت سمجھ کر اسلام پر اس رخ سے حملہ شروع کیا کہ عوام میں صحابہ کرامؓ کے متعلق ایسی باتیں پھیلائی جائیں جن سے صحابہ کرامؓ کا اعتماد و اعتقاد جو مسلمانوں کے دلوں میں ہے وہ نہ رہے اور جب اس مقدس گروہ سے اعتماد اٹھ گیا تو پھر ہر بے دینی کے لیے راستہ ہموار ہو گیا، اس مقصد کے لیے انہوں نے مسلمانوں ہی کی کتبِ تواریخ پر ریسرچ اور تحقیق کے نام سے کام شروع کیا اور کتبِ تواریخ جو صحیح و سقیم ہر طرح کی روایات پر مشتمل ہیں اور جن میں روافض و خوارج کی روایتیں بھی شامل ہیں ان میں سے چن چن کر وہ حکایات و روایات منظرِ عام پر لائے جن سے اس مقدس گروہ کی حیثیت اقتدار پسند لیڈروں سے زائد کچھ نہیں رہتی اور ان میں بھی ان کی زندگی کو ایک گھناؤنی تصویر میں پیش کرنے لگے۔ ہمارا نو تعلیم یافتہ طبقہ جو اپنے گھر کی چیزوں سے بے خبر اور اسلام کے ضروری عقائد و احکام سے ناواقف کر دیا گیا ہے، وہ مستشرقین کی کتابیں شوق سے پڑھتا ہے اور یہ بدقسمتی سے ان کی بحثوں کو ہی ایک علم سمجھ کر پڑھتا ہے، وہ مستشرقین اور ملحدین کے اس دام میں آنے لگے۔

یہ دیکھ کر مسلمانوں میں سے کچھ اہلِ قلم نے ان کے دفاع کے لیے کام شروع کیا، تو یہ بلا شبہ اسلام کی ایک خدمت تھی جو زمانہ قدیم سے علمِ کلام اور متکلمین اسلام کرتے آئے ہیں۔

لیکن اس کام کا جو طریقہ اختیار کیا وہ اصولاً غلط تھا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ خود ان کے دام میں آگئے اور صحابہ کرامؓ کے تقدس اور پاک بازی کو مجروح اور اس مقدس گروہ کو بدنام  کرنے کے جو کام مستشرقین اور ملحدین نہیں کر سکے تھے کہ حقیقت شناس مسلمان بہرحال ان کو دشمنِ اسلام جان کر ان پر اعتماد نہ کرتے تھے، وہ کام ان مصنفین کی کتابوں نے پورا کر دیا۔

صفحہ 27 از 33