مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 26 از 33

6: حق تعالیٰ نے ان کو اپنے نبیﷺ کی صحبت کے لیے منتخب فرمایا اور دین کا واسطہ اور رابطہ بنایا، تو ان کو یہ خصوصی اعزاز بھی عطا فرمایا کہ اسی دنیا میں ان سب حضرات کی خطاؤں سے درگزر اور معافی اور اپنی رضاء و رضوان کا اعلان کر دیا اور ان کے لیے جنت کا وعدہ قرآن میں نازل فرما دیا۔

7: رسول اللہﷺ نے امت کو ہدایت فرمائی کہ ان سب حضرات سے محبت و عظمت علامتِ ایمان ہے اور ان کی تنقیص و توہین خطرہ ایمان اور رسول اللہﷺ کی ایذاء کا سبب ہے۔

یہ وجوہ ہیں جن کی بناء پر ان کے معصوم نہ ہونے اور شاذ و نادر گناہ کے صدور کے باوجود ان کے متعلق امت کا یہ عقیدہ قرار پایا کہ ان کی طرف کسی عیب و گناہ کی نسبت نہ کریں، ان کی تنقیص و توہین کے شائبہ سے بھی گریز کریں، ان کے درمیان جو باہمی اختلافات اور مقاتلہ کی نوبت آئی ان مشاجرات میں اگرچہ ایک فریق خطاء پر، دوسرا حق پر تھا اور علمائے اُمت کے اجماع نے ان مشاجرات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حق پر ہونا اور ان کے بالمقابل جنگ کرنے والوں کا خطاء پر ہونا پوری صراحت و وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا، لیکن ساتھ ہی قرآن و سنت کی نصوصِ مذکورہ کی بناء پر اس پر بھی سب کا اجماع و اتفاق ہوا کہ جو فریق خطاء پر بھی تھا اس کی خطاء بھی اوّلاً اجتہادی تھی جو گناہ نہیں، بلکہ اس پر ایک اَجر ملنے کا وعدہ حدیثِ صحیح میں مذکور ہے اور اگر قتل و قتال اور جنگ کے ہنگاموں میں کسی سے واقعی کوئی لغزش اور گناہ ہوا بھی ہے تو وہ اس پر نادم و تائب ہوئے، جیسا کہ اکثر حضرات سے ایسے کلمات منقول ہیں (ان کا ذکر آگے کیا جائے گا)۔

خصوصاً جب کہ قرآنِ کریم نے ان کی مدح و ثناء اور ان سے اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کا بھی اعلان فرما دیا، جو عفو و درگزر سے بھی زیادہ اونچا مقام ہے،  ملاحظہ ہوں روایاتِ مذکورہ میں نمبر 18، 19، 20، 21۔

جن حضرات کے اتفاقی گناہوں اور خطاؤں کو بھی حق تعالیٰ معاف کر چکا تو اب کسی کو کیا حق ہے کہ ان گناہوں اور خطاؤں کا تذکرہ کر کے اپنا نامہ اعمال سیاہ کرے اور اس مقدس گروہ پر امت کے اعتقاد و اعتماد میں خلل ڈال کر دین کی بنیادوں پر ضرب لگائے، اس لیے سلفِ صالحین نے عموماً ان معاملات میں کفِ لسان اور سکوت کو ایمان کی سلامتی کا ذریعہ قرار دیا۔  باہمی حروب کے درمیان ہر فریق کے حضرات کی طرف جو باتیں قابلِ اعتراض منسوب کی گئیں، ان کے بارے میں وہ طریقہ اختیار کیا جو عقیدہ واسطیہ کے حوالے سے اوپر نقل کیا گیا ہے کہ ان قابلِ اعتراض باتوں کا بیشتر حصہ تو کذب و افتراء ہے جو روافض و خوارج اور منافقین کی روایتوں سے تاریخ میں درج ہو گیا ہے اور جو کچھ صحیح بھی ہے تو وہ بھی گناہ اس لیے نہیں کہ اس کو انہوں نے اپنے اجتہاد سے جائز بلکہ دین کے لیے ضروری سمجھ کر اختیار کیا، اگرچہ وہ اجتہاد ان کا غلط ہی ہو مگر پھر بھی گناہ نہیں اور اگر کسی خاص معاملے میں یہ بھی تسلیم کر لیا جائے کہ خطاء اجتہادی ہی نہیں، واقعی گناہ کی بات ہے، تو ظاہر ان حضرات کے خوفِ خدا و فکرِ آخرت سے یہ ہے کہ انہوں نے اس سے توبہ کر لی، خواہ اس کا اعلان نہ ہوا ہو اور لوگوں کے علم میں نہ ہو اور بالفرض یہ بھی نہ ہو تو ان کی حسنات اور دین کی خدمات اتنی عظیم ہیں کہ ان کی وجہ سے معافی ہو جانا قریب بہ یقین ہے۔

البتہ بعض حضرات نے روافض و خوارج اور منافقین کی شائع کردہ روایات سے عوام میں پھیلنے والی غلط فہمی دور کرنے کے لیے مشاجراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم میں کلام کیا ہے، جو اپنی جگہ صحیح ہے، مگر پھر بھی وہ ایک مــزلّــۃ الاقـــدام ہے، جس سے صحیح سالم نکل آنا آسان کام نہیں ہے، اس لیے جمہور امت اور اتقیائے سلف نے اس کو پسند نہیں فرمایا۔

سلفِ صالحین اور علمائے امت کے ارشادات کا خلاصہ: 

1: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے بلا استثناء سب صحابہ کرامؓ کے حق میں فرمایا: وہ پاک دل، عادات و اخلاق میں سب سے بہتر، اللہ تعالیٰ کے منتخب بندے ہیں، ان کی قدر کرنا چاہیے 

(امام احمدؒ)

2: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے جب حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ پر تین الزام لگائے گئے تو باوجود یہ کہ ان تین الزاموں میں ایک صحیح بھی تھا، مگر حضرت ابنِ عمرؓ نے مدافعت فرمائی اور الزام لگانے والوں کو ملزم ٹھہرایا 

(روایت نمبر 19، ابنِ تيميةؒ بعد صحیح)

3: افضل التابعین حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃاللہ نے بلا استثناء سب صحابہ کرامؓ کے متعلق فرمایا کہ: صحابہ کرامؓ امت کے سابقین اور ان کے مقتداء ہیں اور صراطٹ مستقیم پر ہیں(ابوداؤود کتاب السنۃ، روایت نمبر1)

4: حضرت حسن بصری رحمۃاللہ سے قتالِ صحابہؓ کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ: یہ معاملہ ایسا ہے کہ رسول اللہﷺ کے صحابہؓ اس میں حاضر اور موجود تھے اور ہم غائب، وہ حالات و معاملات کی صحیح حقیقت جانتے تھے، ہم نہیں جانتے، اس لیے جس چیز پر وہ متفق ہو گئے ہم نے ان کا اِتباع کیا اور جس چیز میں ان کا اختلاف ہوا اس میں ہم نے توقف اور سکوت کیا(روایت نمبر 14 از قرطبیؒ)۔

5: حضرت محاسبیؒ نے فرمایا کہ: ہم بھی وہی بات کہتے ہیں جو حضرت حسن رحمۃاللہ نے فرمائی کہ ان حضراتِ صحابہؓ نے جو عمل اختیار کیا اس میں وہ ہم سے زیادہ علم رکھنے والے تھے، اس لیے ہمارا مسلک یہ ہے کہ جس معاملے میں ان کا اتفاق ہو تو ہم ان کا اتباع کریں اور جس میں اختلاف ہو وہاں توقف اور سکوت اختیار کریں، کوئی نئی رائے اپنی طرف سے قائم نہ کریں، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ اپنے اجتہاد کی بناء پر کیا اور ان کا مقصود اللہ تعالیٰ ہی کے حکم کی تعمیل تھی، کیونکہ یہ حضرات دین کے معاملے میں متہم نہیں تھے(روایت نمبر 14 از قرطبیؒ)۔

6: حضرت امام شافعی رحمۃاللہ نے مشاجراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم میں گفتگو کرنے کے متعلق فرمایا کہ: یہ وہ خون ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہاتھوں کو پاک رکھا ہے (کیونکہ ہم اس وقت موجود نہ تھے) اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنی زبانوں کو بھی اس خون سے آلودہ نہ کریں (یعنی کسی صحابی پر حرف گیری نہ کریں اور کوئی الزام نہ لگائیں بلکہ سکوت اختیار کریں)۔(روایت نمبر 15 شرحِ مواقف)

صفحہ 26 از 33