مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 25 از 33

اور درحقیقت ان جنگوں کا سبب معاملات کا اشتباہ تھا، یہ اشتباہ اتنا شدید تھا کہ صحابہؓ کی اجتہادی آراء مختلف ہو گئیں اور وہ تین قسموں میں بٹ گئے، صحابہؓ کی ایک جماعت تو وہ تھی جس کے اجتہاد نے اسے اس نتیجے تک پہنچایا کہ حق فلاں فریق کے ساتھ ہے اور اس کا مخالف باغی ہے، لہٰذا اس پر اپنے اجتہاد کے مطابق برحق فریق کی مدد کرنا اور باغی فریق سے لڑنا واجب ہے، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور ظاہر ہے کہ جس شخص کا حال یہ ہو اس کے لیے ہرگز مناسب نہیں تھا کہ وہ امامِ عادل و برحق کی مدد اور باغیوں سے جنگ کے فریضے میں کوتاہی کرے، دوسری قسم اس کے برعکس ہے اور اس پر بھی تمام وہی باتیں صادق آتی ہیں جو جو پہلی قسم کے لیے بیان کی گئی ہیں۔ صحابہؓ کی ایک تیسری جماعت وہ تھی جس کے لیے کچھ فیصلہ کرنا مشکل تھا اور اس پر یہ واضح نہ ہو سکا کہ فریقین میں سے کس کو ترجیح دے؟ یہ جماعت فریقین سے کنارہ کش رہی اور ان حضرات کے حق میں یہ کنارہ کشی واجب تھی، اس لیے کہ جب تک کوئی شرعی وجہ واضح نہ ہو، کسی مسلمان کے خلاف قتال کا اقدام حلال نہیں ہوتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم معذور اور ماجور ہیں، گناہ گار نہیں، یہی وجہ ہے کہ اہلِ حق کے تمام قابلِ ذکر علماء کا اس پر اجماع ہے کہ ان کی شہادتیں بھی قبول ہیں اور ان کی روایات بھی اور ان سب کے لیے عدالت ثابت ہے، اسی لیے ہمارے ملک کے علماء نے اور ان کے علاوہ تمام اہلِ سنت نے جن میں ابنِ حمدانؒ (نہایۃ المبتدئین) بھی داخل ہیں، فرمایا ہے کہ: تمام صحابہؓ سے محبت رکھنا اور ان کے درمیان جو واقعات پیش آئے ان کو لکھنے، پڑھنے، پڑھانے، سننے اور سنانے سے پرہیز کرنا واجب ہے اور ان کی خوبیوں کا تذکرہ کرنا، ان سے رضامندی کا اظہار کرنا، ان سے محبت رکھنا، ان پر اعتراضات کی روش کو چھوڑنا، انہیں معذور سمجھنا اور یہ یقین رکھنا واجب ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ ایسے جائز اجتہاد کی بنا پر کیا جس سے نہ کفر لازم آتا ہے، نہ فسق ثابت ہوتا ہے، بلکہ بسا اوقات اس پر انہیں ثواب ہوگا اس لیے کہ یہ ان کا جائز اجتہاد تھا۔ پھر کہتے ہیں: بعض حضرات نے کہا ہے کہ حق حضرت علیؓ کے ساتھ تھا اور جس نے ان سے قتال کیا اس کی غلطی معاف کر دی گئی ہے اور الدرۃ المضیۃ کی نظم میں جو مشاجرات کے معاملے میں غور و بحث سے منع کیا گیا ہے وہ اس لیے کہ امام احمد رحمۃاللہ اس شخص پر نکیر فرمایا کرتے تھے جو اس بحث میں الجھتا ہو اور فضائلِ صحابہؓ میں جو احادیث آئی ہیں انہیں تسلیم فرما کر ان لوگوں سے براءت کا اظہار کرتے تھے جو صحابہؓ کو گمراہ یا کافر کہتے ہیں اور کہتے تھے کہ (صحیح طریقہ) مشاجراتِ صحابہؓ میں سکوت اختیار کرنا ہے۔

یہ مختصر مجموعہ ہے سلف و خلف، مقدمین و متأخرین علمائے امت کے عقائد و اقوال کا جن میں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عدل و ثقہ ہونے پر بھی اجماع و اتفاق ہے اور اس پر بھی کہ ان کے درمیان پیش آنے والے مشاجرات میں خوض نہ کیا جائے یا سکوت اختیار کریں یا پھر ان کی شان میں کوئی ایسی بات کہنے سے پرہیز کریں جس سے ان میں سے کسی کی تنقیص ہوتی ہو۔

*صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین معصوم نہیں، مگر مغفور و مقبول ہیں* 

اسی کے ساتھ ان سب حضرات کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ صحابہ کرامؓ انبیاء علیہم السلام کی طرح معصوم نہیں، ان سے خطائیں اور گناہ سرزد ہو سکتے ہیں اور ہوئے ہیں، جن پر رسول اللہﷺ نے حدود اور سزائیں جاری فرمائی ہیں، احادیثِ نبویہﷺ میں یہ سب واقعات ناقابلِ انکار ہیں۔  مذکورہ سابقہ بیانات میں اس کی تصریحات موجود ہیں، ملاحظہ ہو روایت نمبر 17، مگر اس کے باوجود عام افرادِ امت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بہ چند وجوہ خاص امتیاز حاصل ہے۔

1: اول یہ کہ رسول اللہﷺ کی صحبت کی برکت سے حق تعالیٰ نے ان کو ایسا بنا دیا تھا کہ شریعت ان کی طبیعت بن گئی تھی، خلافِ شرع کوئی کام یا گناہ ان سے صادر ہونا انتہائی شاذ و نادر تھا، ان کے اعمالِ صالحہ، نبی کریمﷺ اور دینِ اسلام پر اپنی جانیں اور مال و اولاد سب کو قربان کرنا اور ہر کام پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی مرضیات کے اِتباع کو وظیفہ زندگی بنانا اور اس کے لیے ایسے مجاہدات کرنا، جس کی نظیر پچھلی امتوں میں نہیں ملتی، ان بے شمار اعمالِ صالحہ اور فضائل و کمالات کے مقابلے میں عمر بھر میں کسی گناہ کا سرزد ہو جانا اس کو خود ہی کالعدم کر دیتا ہے۔

2: دوسرے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی محبت و عظمت اور ادنیٰ گناہ کے صدور کے وقت ان کا خوف و خشیت اور فوراً توبہ کرنا بلکہ اپنے آپ کو سزا جاری کرنے کے لیے پیش کر دینا اور اس پر اصرار کرنا، روایاتِ حدیث میں معروف و مشہور ہیں ، بحکمِ حدیث توبہ کر لینے سے گناہ مٹا دیا جاتا ہے اور ایسا ہو جاتا ہے کہ کبھی گناہ کیا ہی نہیں۔

3: قرآنی ارشاد کے مطابق انسان کی حسنات بھی اس کی سیئات کا خود بخود کفارہ ہو جاتی ہیں: اِنَّ الۡحَسَنٰت يُذۡهِبۡنَ السَّيِّاٰتِ ‌

4: اقامتِ دین اور نصرتِ اسلام کے لیے نبی کریمﷺ کے ساتھ انتہائی عسرت و تنگدستی اور مشقت و محنت کے ساتھ ایسے معرکے سر کرنا کہ اقوامِ عالم میں ان کی نظیر نہیں۔

5: ان حضرات کا رسول اللہﷺ اور امت کے درمیان واسطہ اور رابطہ ہونا، کہ باقی امت کو قرآن و حدیث اور دین کی تمام تعلیمات انہیں حضرات کے ذریعے پہنچی، ان میں خامی و کوتاہی رہتی تو قیامت تک دین کی حفاظت اور دنیا کے گوشے گوشے میں اشاعت کا کوئی امکان نہیں تھا۔  اس لیے حق تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کی صحبت کی برکت سے ان کے اخلاق و عادات، ان کی حرکات و سکنات کو دین کے تابع بنا دیا تھا، ان سے اول تو گناہ صادر ہی نہ ہوتا تھا اور اگر عمر بھر میں کبھی شاذ و نادر کسی گناہ کا صدور ہو گیا تو فورا اس کا کفارہ توبہ و استغفار اور دین کے معاملے میں پہلے سے زیادہ محنت و مشقت اٹھا کر کر دینا ان میں معروف و مشہور تھا۔

صفحہ 25 از 33