مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 24 از 33

فـأسـلـم ازل الله مـن لهـم هــجـر

ترجمہ: کیونکہ ان کا جو عمل بھی ہوا ہے اپنے اجتہادِ شرعی کی بناء پر ہوا ہے، تم سلامتی کی راہ اختیار کرو، اللہ ذلیل کرے اس شخص کو جو ان کی بد گوئی کرے- 

اس کے بعد اس کی شرح میں فرمایا:

فانه أی التخاصم والنزاع والتقاتل والدفاع الذي جرى بينهم كان عن اجتهاد قد صدر من كل واحد من رءوس الفريقين ومقصد سائغ لكل فرقة من الطائفتين وان كان المصيب في ذلك للصواب وأحدهما وهو علىّ رضوان الله عليه ومن والاه والمخطئ ومن نازعه وعاداه غير ان للمخطی في الإجتهاد أجراً وثواباً خلافاً لأهل الجفاء والعناد فكل ما صح مما جرى بين الصحابة الكرام وجب حمله علىٰ وجه ينفی عنهم الذنوب والاٰثام فمقاولة علىّ  مع العباس رضي الله عنهما لا تفضی الىٰ شين، وتقاعد علىّ عن مبايعة الصديق في بدء الأمر كان لأحد أمرين اما لعدم مشورته كما عتب عليه بذلك واما وقوفاً مع خاطر سيدة نساء العالم فاطمة البتول مما ظنت أنه لها وليس الأمر كما هنالك ثم ان عليًّا بايع الصديق علىٰ رءوس الأشهاد فاتحدث الكلمۃ ولله الحمد وحصل المراد. 

وتوقف علىّ عن الاقتصاص من قتلة عثمان اما لعدم العلم بالقاتل واما خشية ترايد الفساد والطغيان، وكانت عائشة و طلحة و الزبير و معاوية رضي الله عنهم ومن اتبعهم ما بين مجتهد ومقلد في جواز محاربة أمير المؤمنين سيدنا أبي الحسنين الانزع البطين رضوان الله تعالى عليه. 

وقد اتفق أهل الحق أن المصيب في تلك الحروب والتنازع امير المؤمنين علىّ من غير شك ولا تدافع والحق الذي ليس عنه نزول انهم كلهم رضوان الله عليهم عدول، لانهم متأولون في تلك المخاصمات مجتهدون في هاتيك المقاتلات فانه وان كان الحق على المعتمد عند أهل الحق واحداً فالمخطیٔ مع بذل الوسع وعدم التقصير مأجور لا مأزور وسبب تلك الحروب اشتباه القضايا فلشدۃ اشتباهها اختلف اجتهادهم وصاروا ثلاثة اقسام، قسم ظهر لهم اجتهاد ان الحق فی هذا الطرف و ان مخالفه باغ فوجب عليه نصرة المحق وقتال الباغي عليه فيما إعتقدوه، ففعلوا ذلك ولم يكن لمن هذا صفته التأخر عم مساعدة الامام العادل فی قتال البغاة في اعتقاد. وقسم عكسه سواء بسواء. وقسم ثالث اشتبهت عليهم القضية فلم يظهر لهم ترجيح أحد الطرفين فاعتزلوا الفريقين وكان هذا الاعتزال هو الواجب في حقهم لأنه لايحل الاقدام علىٰ قتال مسلم حتى يظهر ما يوجب ذلك. وبالجملة فكلهم معذورون و مأجورون لا مأزورون ولهذا اتفق اهل الحق ممن يعتد به فی الاجماع علىٰ قبول شهاداتهم ورواياتهم وثبوت عدالتهم ولهذا كان علمائنا لغيرهم من اهل السنة ومنهم ابن حمدان في نهايه المبتدئين يجب حب كل الصحابة والكف عما جرىٰ بينهم كتابة وقراءة واقراء واسماع وتسميعا ويجب ذكر محاسنهم والترضی عنهم والمحبة لهم وترك التحامل عليهم واعتقاد العذر لهم وانهم انما فعلوا ما فعلوا باجتهادهم سائغ لا يوجب كفراً ولا فسقاً بل و ربما يتابون عليه لأنه اجتهاد سائغ ثم قتال، وقيل: المصيب علیّ رضي الله عنه، ومن قاتله فخطاءه معفو عنه، وانما نهى عن الخوض في النظم (أی في نظم العقيدة عن الخوض فی مشاجرات الصحابةؓ) لان الامام احمدؒ كان ينكر علىٰ ما خاض ويسلم احاديث الفضائل وقد تبرأ ممن ضللهم او كفرهم وقال: السكوت عما جرى بينهم.     (شرح عقائد سفاريني: جلد 2، صفحہ 386)

ترجمہ: اس لیے کہ جو نزاع و جدال اور دفاع و قتال صحابہؓ کے درمیان پیش آیا وہ اس اجتہاد کی بنا پر تھا جو فریقین کے سرداروں نے کیا تھا اور فریقین میں سے ہر ایک کا مقصد اچھا تھا، اگرچہ اس اجتہاد میں برحق فریق ایک ہی ہے اور وہ حضرت علیؓ اور ان کے رفقاء ہیں اور خطاء پر وہ حضرات ہیں جنہوں نے حضرت علیؓ سے نزاع و عداوت کا معاملہ کیا، البتہ جو فریق خطاء پر تھا اسے بھی ایک اجر و ثواب ملے گا، اس عقیدے میں صرف اہلِ جفاء و عناد ہی اختلاف کرتے ہیں لہٰذا صحابہ کرامؓ کے درمیان مشاجرات کی جو صحیح روایات ہیں، ان کی بھی اس میں تشریح کرنا واجب ہے جو ان حضرات سے گناہوں کے الزام کو دور کرنے والی ہو، لہٰذا حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما کے درمیان جو تلخ و کلامی ہوئی وہ کسی کے لیے موجبِ عیب نہیں نیز ابتداء میں حضرت علیؓ نے جو حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی تھی، وہ دو باتوں میں سے کسی ایک وجہ سے تھی، یا تو اس لیے کہ ان سے مشورہ نہیں لیا گیا تھا جیسا کہ خود انہوں نے اسی پر رنجیدگی کا اظہار فرمایا تھا یا پھر اس سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کی دلداری مقصود تھی جو یہ سمجھتی تھیں کہ آں حضرتﷺ کی میراث سے جو مجھے حصہ ملنا چاہیے وہ ملے، پھر حضرت علیؓ نے بلاشبہ تمام لوگوں کے سامنے حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت کی اور اللہ کے فضل سے مسلمانوں کی بات ایک ہو گئی اور مقصد حاصل ہو گیا۔

اسی طرح جو حضرت عثمانؓ کا قصاص لینے میں جو توقف سے کام لیا وہ یا تو اس بنا پر تھا کہ یقینی طور پر قاتل معلوم نہ ہو سکا یا اس لیے کہ فتنہ و فساد میں اضافے کا خدشہ تھا اور حضرت عائشہ، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم اور ان کے متبعین نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں جنگ کرنے کو جو جائز سمجھا اس میں ان میں سے بعض حضرات مجتہد تھے اور بعض ان کی تقلید کرنے والے۔

اور اس بات پر اہلِ حق کا اتفاق ہے کہ ان جنگوں میں حق بلا شبہ حضرت علیؓ کے ساتھ تھا اور وہ عقیدہ برحق جس پر کوئی مصالحت نہیں ہو سکتی یہ ہے کہ یہ تمام حضراتِ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں، اس لیے کہ ان تمام جنگوں میں انہوں نے تاویل اور اجتہاد سے کام لیا، اس لیے کہ اہلِ حق کے نزدیک اگرچہ حق ایک ہی ہوتا ہے لیکن حق تک پہنچنے کے لیے پوری کوشش صَرف کرنے اور اس میں کوتاہی نہ کرنے کے بعد کسی سے غلطی بھی ہو جائے تو وہ ماجور ہی ہوتا ہے، گنہگار نہیں۔

صفحہ 24 از 33