مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 23 از 33

ترجمہ: اہلِ سنت ان روافض کے طریقے سے برأت کرتے ہیں جو صحابہؓ سے بغض رکھتے ہیں اور انہیں برا کہتے ہیں، اسی طرح ناصبیوں کے طریقے سے بھی برأت کرتے ہیں جو اہلِ بیت کو اپنی باتوں سے، نہ کہ عمل سے تکلیف پہنچاتے ہیں اور صحابہؓ کے درمیان جو اختلافات ہوئے ان کے بارے میں اہلِ سنت سکوت اختیار کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ صحابہؓ کی برائی میں جو روایتیں منقول ہیں ان میں سے بعض تو بالکل جھوٹ ہیں، بعض ایسی ہیں کہ ان میں کمی بیشی کر دی گئی ہے اور ان کا صحیح مفہوم بدل دیا گیا ہے اور اس قسم کی جو روایتیں بالکل صحیح ہوں ان میں بھی صحابہؓ معذور ہیں، ان میں سے بعض حضرات اجتہاد سے کام لے کر حق و صواب تک پہنچ گئے اور بعض نے اجتہاد سے کام لیا اور اس میں غلطی ہو گئی،  اس کے ساتھ ہی اہلِ سنت کا یہ اعتقاد  بھی نہیں ہے کہ صحابہؓ کا ہر فرد تمام چھوٹے بڑے گناہوں سے معصوم ہے، بلکہ ان سے فی الجملہ گناہوں کا صدور ممکن ہے، لیکن ان کے فضائل و سوابق اتنے ہیں کہ اگر کوئی گناہ ان سے صادر بھی ہو تو یہ فضائل ان کی مغفرت کے موجب ہیں، یہاں تک کہ ان کی مغفرت کے اتنے مواقع ہیں کہ ان کے بعد کسی کو حاصل نہیں ہوسکتے۔

18: کتابِ مذکور میں ابنِ تیمیہؒ ایک مفصل کلام کے بعد لکھتے ہیں:

اور جب سلف صالحین اہل السنۃ والجماعۃ کا اصول یہ پڑ گیا جو اوپر بیان کیا گیا ہے تو اب یہ سمجھیے کہ ان حضرات کے قول کا حاصل یہ ہے کہ بعض صحابہ کرامؓ کی طرف جو بھی گناہ یا برائیاں منسوب کی گئی ہیں ان میں بیشتر حصہ تو جھوٹ اور افتراء ہے اور کچھ حصہ ایسا ہے جس کو انہوں نے اپنے اجتہاد سے حکمِ شرعی اور دین سمجھ کر اختیار کیا، مگر بہت سے لوگوں کو ان کے اجتہاد کی وجہ اور حقیقت معلوم نہیں اس لیے اس کو گناہ قرار دیا اور کسی معاملے میں یہ بھی تسلیم کر لیا جائے کہ وہ خطاءِ اجتہادی ہی نہیں بلکہ حقیقتاً گناہ ہی ہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ ان کا وہ گناہ بھی معاف ہو چکا ہے، یا اس وجہ سے کہ انہوں نے توبہ کر لی (جیسا کہ بہت سے ایسے معاملات میں ان کی توبہ خود قرآن و سنت میں منقول و ماثور ہے) اور یا ان کی دوسری ہزاروں حسنات و طاعات کے سبب معاف کر دیا گیا اور یا اس کو دنیا میں کسی مصیبت و تکلیف میں مبتلا کر کے اس گناہ کا کفارہ کر دیا گیا، اس کے سوا اور بھی اسبابِ مغفرت ہو سکتے ہیں (ان کے گناہ کو مغفور و معاف قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ) قرآن و سنت کے دلائل سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ وہ اہلِ جنت میں سے ہیں اس لیے ناممکن ہے کہ کوئی ایسا عمل ان کے نامۂ اعمال میں باقی رہے جو جہنم کی سزا کا سبب بنے اور جب یہ معلوم ہو گیا کہ صحابہ کرامؓ میں سے کوئی شخص ایسی حالت پر نہیں مرے گا جو دخولِ جہنم کا سبب بنے تو اس کے سوا اور کوئی چیز ان کے استحقاقِ جنت میں مانع نہیں ہو سکتی۔

اور عشرہ مبشرہ کے علاوہ کسی معین ذات کے متعلق اگرچہ ہم یہ نہ کہہ سکیں کہ وہ جنتی ہے، جنت ہی میں جائے گا، مگر یہ بھی تو جائز نہیں کہ ہم کسی کے حق میں بغیر کسی دلیلِ شرعی کے یہ کہنے لگیں کہ وہ مستحق جنت کا نہیں ہے، کیونکہ ایسا کہنا تو عام مسلمانوں میں سے بھی کسی کے لیے جائز نہیں جن کے بارے میں ہمیں کسی دلیل سے جنتی ہونا بھی معلوم نہ ہو، ہم ان کے بارے میں بھی یہ شہادت نہیں دے سکتے کہ وہ ضرور جہنم میں جائے گا، تو پھر افضل المؤمنین اور خیار المؤمنین (صحابہ کرامؓ) کے بارے میں یہ کیسے جائز ہو جائے گا؟ اور ہر صحابی کے پورے اعمالِ ظاہرہ و باطنہ کی اور حسنات و سیئات اور ان کے اجتہادات کی تفصیلات کا علم ہمارے لیے بہت دشوار ہے اور بغیر علم و تحقیق کے کسی کے متعلق فیصلہ کرنا حرام ہے، اسی لیے مشاجراتِ صحابہؓ کے معاملے میں سکوت کرنا بہتر ہے اس لیے کہ بغیر علمِ صحیح کہ کوئی حکم لگانا حرام ہے۔ 

(شرح عقیدہ واسطیہ: صفحہ 456، 457)

19: اس کے بعد شیخ الاسلام ابنِ تیمیہؒ نے صحیح روایت سے یہ واقعہ بیان کیا ہے:

ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ پر تین الزام لگائے، ایک یہ کہ وہ غزوہ احد میں میدان سے بھاگنے والوں میں تھے، دوسرے یہ کہ وہ غزوہ بدر میں شریک نہیں تھے، تیسرے یہ کہ بیعتِ رضوان میں بھی شریک نہیں تھے۔

حضرت عبداللہؓ نے ان تینوں الزاموں کا جواب یہ دیا کہ: بے شک غزوہ احد میں فرار کا صدور ان سے ہوا مگر اللہ تعالیٰ نے اس کی معافی کا اعلان کر دیا، مگر تم نے پھر بھی معاف نہ کیا کہ اس کا ان پر عیب لگاتے ہو، رہا غزوہ بدر میں شریک نہ ہونا تو وہ خود آنحضرتﷺ کے حکم سے ہوا اور اسی لیے آپﷺ نے عثمانِ غنیؓ کو غانمینِ بدر میں شمار کر کے ان کا حصہ لگایا اور بیعتِ رضوان کے وقت وہ حضورﷺ ہی کے بھیجے ہوئے مکہ مکرمہ گئے تھے اور رسول اللہﷺ نے ان کو اس بیعت میں شریک کرنے کے لیے خود اپنے ایک ہاتھ کو حضرت عثمانؓ کا ہاتھ قرار دے کر اپنے دستِ مبارک سے بیعت فرمائی اور ظاہر ہے کہ خود عثمانِ غنیؓ حاضر ہوتے اور ان کا ہاتھ اس جگہ ہوتا تو بھی وہ فضیلت حاصل نہ ہوتی کیونکہ آنحضرتﷺ کا دستِ مبارک اس سے ہزاروں درجہ بہتر ہے۔

اس واقعے میں غور کرو کہ تین الزاموں میں سے ایک الزام کو صحیح مان کر یہ جواب دیا کہ اب وہ ان کے لیے کوئی عیب نہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو معاف کر دیا ہے، باقی دو الزاموں کا غلط بے اصل ہونا بیان فرما دیا۔ (اس کو نقل کر کے ابنِ تیمیہؒ کہتے ہیں کہ) یہی حال تمام صحابہؓ کا ہے، ان کی طرف جو کوئی گناہ منسوب کیا جاتا ہے یا تو وہ گناہ ہی نہیں ہوتا بلکہ حسنہ اور نیکی ہوتی ہے یا پھر وہ اللہ کا معاف کیا ہوا گناہ ہوتا ہے۔ 

(شرح عقیدہ واسطیہ: صفحہ: 460، 461)

20: علامہ سفارینی رحمۃاللہ نے اپنی کتاب ”الدرۃ المضيۃ“ میں، پھر اس کی شرح میں اس مسئلہ پر اچھا کلام کیا ہے، اس کا ایک حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے، پہلے متنِ کتاب کے دو شعر لکھے ہیں:

واحـذر من الخـوض الذي قـد يزري 

بــفـضـلهــم مــمـــا جــرى لـو تدري

ترجمہ: اور پرہیز کرو صحابہ کرامؓ میں پیش آنے والے جھگڑوں میں دخل دینے سے جس میں ان میں سے کسی کی تحقیر ہوتی ہو۔

فــإنــه عــن إجـتــهاد قــد صــدر

صفحہ 23 از 33