مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 22 از 33

اس طویل عبارت میں علامہ قرطبی رحمۃاللہ نے اہلِ سنت کے عقیدے کی بہترین ترجمانی فرمائی ہے، عبارت کے شروع میں انہوں نے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما کی شہادت سے متعلق جو حدیثیں نقل فرمائی ہیں، ان سے اس مسئلے پر بطورِ خاص روشنی پڑتی ہے، حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ دونوں حضرات آنحضرتﷺ کے جانثار صحابہ میں سے ہیں اور ان دس خوش نصیب حضرات میں آپ کا نام بھی ہے جن کے بارے میں آنحضرتﷺ نے نام لے کر ان کے جنتی ہونے کی خوشخبری دی ہے اور جنہیں ”عشرہ مبشرہ“ کہا جاتا ہے، ان دونوں حضرات نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کا مطالبہ کرنے کے لیے حضرت علیؓ کا مقابلہ کیا اور اسی دوران شہید ہوئے، آنحضرتﷺ نے مذکورہ احادیث میں ان دونوں حضرات کو شہید قرار دیا۔ دوسری طرف حضرت عمار بن یاسرؓ، حضرت علیؓ کے سرگرم ساتھیوں میں سے تھے اور انہوں نے پوری قوت کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مخالفین کا مقابلہ کیا، آنحضرتﷺ نے ان کے لیے بھی شہادت کی پیش گوئی فرمائی، غور کیا جائے تو یہی ارشادات اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ ان جنگوں میں کوئی فریق بھی کھلے باطل پر نہ تھا بلکہ ہر ایک فریق اللہ کی رضا کے لیے اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق کام کر رہا تھا، ورنہ ظاہر ہے کہ اگر یہ اختلاف کھلے حق و باطل کا اختلاف ہوتا تو ہر ایک فریق کے رہنماؤں کے لیے بیک وقت شہادت کی پیش گوئی نہ فرمائی جاتی، ان ارشادات نے یہ واضح کر دیا کہ حضرت طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما بھی اللہ کی خوشنودی کے لیے لڑ رہے تھے اس لیے وہ بھی شہید ہیں اور حضرت عمارؓ کا مقصد بھی رضائے الٰہی کے حصول کے سوا کچھ نہ تھا اس لیے وہ بھی لائقِ مدح و ستائش ہیں، دونوں کا اختلاف کسی دنیاوی غرض سے نہیں بلکہ اجتہاد و رائے کی بنا پر تھا اور ان میں سے کسی بھی فریق کو مجروح و مطعون نہیں کیا جا سکتا۔

15: شرحِ مواقف مقصدِ سابع میں ہے:

واما الفتن والحروب الواقعة بين الصحابة فالشامية انكروا وقوعها ولا شك انه مكابرۃ للتواتر في قتل عثمان و واقعة الجمل والصفين ، والمعترفون بوقوعها منهم من سكت عن الكلام فيها بتخطية او تصويب وهم طائفة من اهل السنة فان أرادوا أنه اشتغال بما لا يعني فلا بأس به، وقال الشافعیؒ وغير من السلف: تلك دماء طهر الله عنها أيدينا فلنطهّر عنها ألسنتنا۔۔۔۔ ألخ.

(شرح مواقف: جلد 8، صفحہ 374، طبع مصر)

ترجمہ: رہے وہ فتنے اور جنگیں جو صحابہؓ کے درمیان واقع ہوئے تو فرقہ شامیہ نے ان کے وقوع ہی کا انکار کر دیا ہے اور کوئی شک نہیں کہ حضرت عثمانؓ کی شہادت اور واقعہ جمل و صفین جس تواتر کے ساتھ ثابت ہے، یہ اس کا بے دلیل انکار ہے اور جن حضرات نے ان کے وقوع کا انکار نہیں کیا ہے ان میں سے بعض نے تو ان واقعات میں مکمل سکوت اختیار کیا اور نہ کسی خاص فریق کی طرف غلطی منسوب کی نہ حق و صواب، یہ حضرات اہلِ سنت ہی کی ایک جماعت ہیں، اگر ان کی مراد یہ ہے کہ ایک فضول کام ہے تو ٹھیک ہے، اس لیے کہ امام کی شافعیؒ علمائے سلف نے فرمایا ہے کہ: یہ ایسے خون ہیں جن سے اللہ نے ہمارے ہاتھوں کو پاک رکھا ہے، اس لیے چاہیے کہ ہم اپنی زبانوں کو بھی ان سے پاک رکھیں۔

16: شیخ ابنِ الہمامؒ نے ”شرحِ مسامرہ“ میں فرمایا:

واعتقاد اهل السنة تزكية جميع الصحابة رضي الله عنهم وجوباً باثبات الله انه لكل منهم والكف عن الطعن فيهم والثناء عليهم كما أثنى الله سبحانه وتعالىٰ (وذكر اٰيات عديدة ثم قال) واثنى عليهم الرسول صلى الله عليه وسلم (ثم سرد احاديث الباب ثم قال) وما جرى بين معاوية وعلی من الحروب كان مبنياً على الاجتهاد.  

(شرح مسامرہ: صفحہ 132، طبع ديوبند)

ترجمہ: اہلِ سنت کا اعتقاد یہ ہے کہ وہ تمام صحابہؓ کو لازمی طور پر پاک صاف مانتے ہیں اس لیے کہ اللہ نے ان میں سے ہر ایک کا تزکیہ فرمایا ہے، نیز ان کے بارے میں اعتراضات کرنے سے پرہیز کرتے ہیں اور ان سب کی مدح و ثناء کرتے ہیں، جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ثنا فرمائی (اس کے بعد چند آیتیں ذکر کر کے فرماتے ہیں) اور رسول اللہﷺ نے بھی ان کی تعریف فرمائی۔ (پھر کچھ احادیث نقل کر کے لکھتے ہیں) اور حضرت معاویہؓ اور حضرت علیؓ کے درمیان جو جنگیں ہوئیں وہ اجتہاد پر مبنی تھیں۔

17: شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ رحمۃاللہ نے ”شرح عقیدہ واسطیہ“ میں اس بحث پر تفصیلی کلام فرمایا ہے، ان کے چند جملے یہ ہیں، اہلِ السنۃ والجماعۃ کے عقائد لکھتے ہوئے فرماتے ہیں:

ويبرءون من طريقة الروافض الذين يبغضون الصحابة ويسبونهم، وطريقة النواصب الذين يؤذون اهل البيت بقولٍ لاعمل ويمسكون عما شجر بين الصحابة ويقولون ان هذه الاٰثار المروية في مساويهم منها ما هو كذب، ومنها ما قد زيد فيه ونقص وغير وجهه و الصحيح منه هم فيه معذرون اما مجتهدون مصيبون، واما مجتهدون مخطئون، وهم مع ذلك لا يعتقدون أن كل واحد من الصحابة معصوم من كبائر الاھثم وصغائره بل يجوز عليهم الذنوب في الجملة، ولهم من الفضائل والسوابق ما يوجب مغفرة ما يصدر منهم ان صدر حتى انهم يغفر لهم من السيئات ما لا يغفر لمن بعدهم. 

صفحہ 22 از 33