مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 21 از 33

ترجمہ: یہ جائز نہیں ہے کہ کسی بھی صحابی کی طرف قطعی اور یقینی طور پر غلطی منسوب کی جائے، اس لیے کہ ان سب حضراتؓ نے اپنے اپنے طرزِ عمل میں اجتہاد سے کام لیا تھا اور سب کا مقصد اللہ کی خوشنودی تھی، یہ سب حضرات ہمارے پیشواء ہیں، اور ہمیں حکم ہے کہ ان کے باہمی اختلافات سے کفِ لسان کریں اور ہمیشہ ان کا ذکر بہترین طریقے پر کریں، کیونکہ صحابیت بڑی حرمت کی چیز ہے اور رسول اللہﷺ نے ان کو برا کہنے سے منع فرمایا ہے اور یہ خبر دی ہے کہ اللہ نے انہیں معاف کر رکھا ہے اور ان سے راضی ہے، اس کے علاوہ متعدد سندوں سے یہ حدیث ثابت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت طلحہؓ کے بارے میں فرمایا:

ان طلحه شهيد يمشي علىٰ وجہ الارض

یعنی طلحہؓ روئے زمین پر چلنے والے شہید ہیں۔

اب اگر حضرت علیؓ کے خلاف حضرت طلحہؓ کا جنگ کے لیے نکلنا کھلا گناہ اور عصیان تھا تو اس جنگ میں مقتول ہو کر وہ ہرگز شہادت کا رتبہ حاصل نہ کرتے، اسی طرح اگر حضرت طلحہؓ کا یہ عمل تاویل کی غلطی اور ادائے واجب میں کوتاہی قرار دیا جا سکتا تو بھی آپ کو شہادت کا مقام حاصل نہ ہوتا کیونکہ شہادت تو صرف اس وقت حاصل ہوتی ہے جب کوئی شخص اطاعتِ ربانی میں قتل ہوا ہو، لہٰذا ان حضرات کے معاملے کو اسی عقیدے پر محمول کرنا ضروری ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔

اسی بات کی دوسری دلیل وہ صحیح اور معروف و مشہور احادیث ہیں جو خود حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جن میں رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: زبیر کا قاتل جہنم میں ہے۔

 نیز حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”صفیہؓ کے بیٹے کے قاتل کو جہنم کی خبر دے دو“ جب یہ بات ہے تو ثابت ہو گیا کہ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ اس لڑائی کی وجہ سے عاصی اور گنہگار نہیں ہوئے، اگر ایسا ہوتا تو حضورﷺ حضرت طلحہؓ کو شہید نہ فرماتے، اور حضرت زبیرؓ کے قاتل کے بارے میں جہنم کی پیشن گوئی نہ کرتے۔ نیز ان کا شمار عشرہ مبشرہ میں ہے جن کے جنتی ہونے کی شہادت تقریباً متواتر ہے۔

اسی طرح جو حضراتِ صحابہؓ ان جنگوں میں کنارہ کش رہے، انہیں بھی تأویل میں خطا کار نہیں کہا جا سکتا، بلکہ ان کا طرزِ عمل بھی اس لحاظ سے درست تھا کہ اللہ نے ان کو اجتہاد میں اسی رائے پر قائم رکھا۔ جب یہ بات ہے تو اس وجہ سے ان حضرات پر لعن طعن کرنا ان سے براءت کا اظہار کرنا اور انہیں فاسق قرار دینا، ان کے فضائل و مجاہدات اور ان کے عظیم دینی مقامات کو کالعدم کر دینا کسی طرح درست نہیں ہے۔ بعض علماء سے پوچھا گیا کہ اس خون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو صحابہ کرامؓ کے باہمی مشاجرات میں بہایا گیا؟ تو انہوں نے جواب میں یہ آیت پڑھ دی کہ:

تِلۡكَ اُمَّةٌ قَدۡ خَلَتۡ‌ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَلَـكُمۡ مَّا كَسَبۡتُمۡ‌ وَلَا تُسۡئَـلُوۡنَ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ (سورۃ البقرہ: آیت 141)

ترجمہ: یہ ایک امت تھی جو گزر گئی اس کے اعمال اس کے لیے ہے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ہیں اور تم سے ان کے اعمال کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔

کسی اور بزرگ سے یہی سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: 

یہ ایسے خون ہیں کہ اللہ نے میرے ہاتھوں کو اس میں (رنگنے سے) بچایا، اب میں اپنی زبان کو ان سے آلودہ نہیں کروں گا۔

مطلب یہی تھا کہ میں کسی ایک فریق کو کسی معاملے میں یقینی طور پر خطا کار ٹھہرانے کی غلطی میں مبتلا نہیں ہونا چاہتا۔ 

علامہ ابنِ فورک رحمۃاللہ فرماتے ہیں:

ہمارے بعض اصحاب نے کہا ہے کہ صحابہ کرامؓ کے درمیان جو مشاجرات ہوئے ان کی مثال ایسی ہے جیسے حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کے بھائیوں کے درمیان پیش آنے والے واقعات کی، وہ حضرات آپس کے ان اختلافات کے باوجود ولایت اور نبوت کی حدود سے خارج نہیں ہوئے، بالکل یہی معاملہ صحابہؓ کے درمیان پیش آنے والے واقعات کا بھی ہے۔

اور حضرت محاسبی رحمۃاللہ فرماتے ہیں:

جہاں تک اس خون ریزی کا معاملہ ہے تو اس بارے میں ہمارا کچھ کہنا مشکل ہے، کیونکہ اس میں خود صحابہؓ کے درمیان اختلاف تھا اور حضرت حسن بصریؒ سے صحابہؓ کے باہمی قتال کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ:

 یہ ایسی لڑائی تھی جس میں صحابہؓ موجود تھے اور ہم غائب، وہ پورے حالات کو جانتے تھے، ہم نہیں جانتے، جس معاملے پر تمام صحابہؓ کا اتفاق ہے ہم اس میں ان کی پیروی کرتے ہیں اور جس معاملے میں ان کے درمیان اختلاف ہے اس میں سکوت اختیار کرتے ہیں۔

حضرت محاسبیؒ فرماتے ہیں کہ: ہم بھی وہی بات کہتے ہیں جو حضرت حسن بصریؒ نے فرمائی، ہم جانتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ نے جن چیزوں میں دخل دیا، ان سے وہ ہم سے کہیں بہتر طریقے پر واقف تھے، لہٰذا ہمارا کام یہی ہے کہ جس پر وہ سب حضرات متفق ہوں اس کی پیروی کریں اور جس میں ان کا اختلاف ہو اس میں خاموشی اختیار کریں اور اپنی طرف سے کوئی نئی رائے پیدا نہ کریں، ہمیں یقین ہے کہ ان سب نے اجتہاد سے کام لیا تھا اور اللہ کی خوشنودی چاہی تھی، اس لیے کہ دین کے معاملے میں وہ سب حضرات شک و شبہات سے بالاتر ہیں۔

صفحہ 21 از 33