مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 20 از 33

اسلام میں صحابہ کرامؓ کا درجہ اور مقام جو اوپر قرآن و سنت کی نصوص اور اجماعِ امت اور اکابر علماء کی تصریحات سے ثابت ہو چکا ہے، اس کے بعد ایک قدرتی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب صحابہ کرامؓ سب کے سب واجب التعظیم اور عدل و ثقہ و متقی و پرہیزگار ہیں تو اگر ان کے آپس میں کسی مسئلے میں اختلاف پیش آجائے تو ہمارے لیے طریقِ کار کیا ہونا چاہیے؟ یہ تو ظاہر ہے کہ دو متضاد اقوال میں دونوں کو صحیح سمجھ کر دونوں ہی کو معمول نہیں بنایا جا سکتا، عمل کرنے کے لیے کسی ایک کو اختیار کرنا اور دوسرے کو چھوڑنا لازم ہے تو اس ترک و اختیار کا معیار کیا ہونا چاہیے؟ نیز اس میں دونوں طرف کے بزرگوں کا ادب و احترام اور تعظیم کیسے قائم رہے گی جبکہ ایک کے قول کو مرجوع قرار دے کر چھوڑا جائے گا؟خصوصاً یہ سوال ان معاملات میں زیادہ سنگین ہو جاتا ہے جن میں ان حضرات کا اختلاف باہمی جنگ و خون ریزی تک پہنچ گیا، ان میں ظاہر ہے کہ کوئی ایک فریق حق پر ہے، دوسرا خطا پر، اس خطا و صواب کے معاملے کو طے کرنا عمل و عقیدہ کے لیے ضروری ہے، مگر اس صورت میں دونوں فریق کی یکساں تعظیم و احترام کیسے قائم رکھا جا سکتا ہے؟ جس کو خطا پر قرار دیا جائے اس کی تنقیص ایک لازم امر ہے۔ جواب یہ ہے کہ یہ کہنا غلط ہے کہ دو مختلف اقوال میں سے ایک کو حق یا راجح اور دوسرے کو خطاء یا مرجوح قرار دینے میں کسی ایک فریق کی تنقیص لازم ہے۔ اسلافِ امت نے ان دونوں کاموں کو اس طرح جمع کیا ہے کہ عمل اور عقیدہ کے لیے کسی ایک فریق کے قول کو شریعت کے مسلمہ اصول اجتہاد کے مطابق اختیار اور دوسرے کو ترک کیا، لیکن جس کے قول کو ترک کیا ہے اس کی ذات اور شخصیت کے متعلق کوئی ایک جملہ بھی ایسا نہیں کہا جس سے ان کی تنقیص ہوتی ہو، خصوصاً مشاجراتِ صحابہ رضی اللہ عنھم میں تو جس طرح امت کا اس پر اجماع ہے کہ دونوں فریق کی تعظیم واجب اور دونوں فریق میں سے کسی کو برا کہنا ناجائز ہے، اسی طرح اس پر بھی اجماع ہے کہ جنگِ جمل میں حضرت علیؓ حق پر تھے، ان کا مقابلہ کرنے والے خطا پر تھے، اسی طرح جنگِ صفین میں حضرت علیؓ حق پر تھے اور ان کے مقابل حضرت معاویہؓ اور ان کے اصحاب خطا پر، البتہ ان کی خطاؤں کو اجتہادی خطاء قرار دیا جو شرعاً گناہ نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہو، بلکہ اصولِ اجتہاد کے مطابق اپنی کوشش صَرف کرنے کے بعد بھی اگر ان سے خطا ہو گئی تو ایسے خطا کرنے والے بھی ثواب سے محروم نہیں ہوتے، ایک اجر ان کو بھی ملتا ہے۔

باجماعِ امت ان حضرات صحابہؓ کے اس اختلاف کو بھی اسی طرح کا اجتہادی اختلاف قرار دیا گیا ہے جس سے کسی فریق کے حضرات کی شخصیتیں مجروح نہیں ہوتیں۔

اس طرح ایک طرف خطاء و صواب کو بھی واضح کر دیا گیا دوسری طرف صحابہ کرامؓ کے مقام اور درجے کا پورا احترام بھی ملحوظ رکھا گیا اور مشاجراتِ  صحابہؓ میں کفِ لسان اور سکوت کو اسلم قرار دے کر اس کی تاکید کی گئی کہ بلا وجہ ان روایات و حکایات میں خوض کرنا جائز نہیں، جو باہمی جنگ کے دوران ایک دوسرے کے متعلق نقل کی گئی ہیں ، ملاحظہ ہوں مشاجراتِ صحابہؓ کے بارے میں سلفِ صالحین کے اقوال ذیل:-

14: تفسیرِ قرطبی سورۃ الحجرات میں آیت: وَاِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اقۡتَتَلُوۡا" کے تحت مشاجراتِ صحابہؓ پر سلفِ صالحین کے اقوال کے ساتھ بہترین تحقیق فرمائی ہے جو انہیں کی طویل عبارت میں لکھی جاتی ہے۔

العاشرة: لا يجوز أن ينسب الىٰ أحد من الصحابۃ خطاء مقطوع بہ اذ كانوا كلهم اجتهدوا فيما فعلوه وأرادوا الله عزوجل، وهم كلهم لنا ائمة وقد تعبدنا بالكف عما شجر بينهم، ولا نذكرهم الا بأحسن الذكر، لحرمة الصحبة ولنهی النبی صلى الله عليه وسلم عن سبهم، وان الله غفر لهم واخبر بالرضاء عنهم، هذا مع ما قد ورد من الاخبار من طرق مختلفة عن النبی صلى الله عليه وسلم ان طلحة شهيد يمشي علىٰ وجه الارض، فلو كان ما خرج اليه من الحرب عصياناً لم يكن القتل فيه شهيداً، وكذالك لو كان ما خرج اليه خطاء في التأويل وتقصيراً في الواجب عليه لان الشهاده لا تكون الا بقتل في طاعة فوجب حمل أمرهم على ما بيّناه. ومما يدل علىٰ ذلك ما قد صح وانتشر من اخبار علىّ بان قاتل الزبير في النار، وقوله: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: بشر قاتل ابن صفية بالنار. واذا كان كذلك فقد ثبت ان طلحة والزبير غير عاصيين ولا اٰثمين بالقتال، لان ذلك لو كان كذلك لم يقل النبی صلى الله عليه وسلم في طلحة شهيد ولم يخبر ان قاتل الزبير في النار. وكذلك من قعد غير مخطئ في التأويل بل صواب أراهم الله الاجتهاد واذا كان كذلك لم يوجب ذلك لعنهم والبراءۃ منهم وتفسيقهم وابطال فضائلهم وجهادهم وعظيم غنائهم في الدين رضي الله عنهم.  وقد سئل بعضهم عن الدماء التی اريقت فيما بينهم فقال: تِلۡكَ اُمَّةٌ قَدۡ خَلَتۡ‌ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَلَـكُمۡ مَّا كَسَبۡتُمۡ‌ وَلَا تُسۡئَـلُوۡنَ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ وسئل بعضهم عنها ايضاً فقال: تلك دماء قد ظهر الله منها يدي فلا  اخضب بها لساني. يعني في التحرز من الوقوع في خطاء والحكم علىٰ بعضهم بما لا يكون مصيباً فيه. قال ابن فورك: ومن أصحابنا من قال ان سبيل ماجرت بين الصحابة من المنازعات كسبيل ماجرى بين أخوة يوسف مع يوسف، ثم انهم لم يخرجوا بذلك عن حد الولاية والنبوة فكذلك الامر فيما جرى بين الصحابة.

وقال المحاسبي: فأما الدماء فقد أشكل علينا القول فيھا باختلافهم. وقد سئل الحسن البصري عن قتالهم فقال: قتال شهده أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم وغبنا، وعلموا وجهلنا، واجتمعوا فاتبعنا، واختلفوا فوفقنا. قال المحاسبي: فنحن نقول كما قال الحسن ونعلم ان القوم كانوا أعلم بما دخلوا فيه منا، ونتبع ما اجتمعوا عليه، ونقف عند ما اختلفوا فيه، ولا نبتدع رأيا منا، ونعلم انهم اجتهدوا وأرادوا الله عزوجل اذ كانوا غير متهمين في الدين ونسال الله التوفيق(تفسير القرطبي: جلد 16، صفحہ 322)

صفحہ 20 از 33