مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 33

لیکن اس زمانے میں یورپ سے جو اچھی بری چیزیں اسلامی ملکوں میں درآمد کر لی گئی ہیں ان میں ہر چیز کی تحقیق و تنقید (ریسرچ) بھی ہے، تحقیق و تنقید فی نفسہ کوئی بری چیز نہیں، خود قرآن کریم نے اس کی طرف دعوت دی ہے، سورۃ فرقان میں عِبَادُ الرَّحْمٰنِ کے عنوان سے اللہ تعالیٰ کے صالح اور نیک بندوں کی جو صفات بیان فرمائی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے: وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا (سورۃ الفرقان آیت: 73) یعنی اللہ کے یہ صالح اور نیک بندے آیاتِ الٰہیہ پر اندھے بہروں کی طرح نہیں گر پڑتے کہ بے تحقیق جس طرح اور جو چاہیں عمل کرنے لگیں، بلکہ خوب سمجھ بوجھ کر بصیرت کے ساتھ عمل کرتے ہیں۔

لیکن اسلام نے ہر چیز اور ہر کام کی کچھ حدود مقرر کی ہیں، ان کے دائرے میں رہ کر جو کام کیا جائے وہ مقبول و مفید سمجھا جاتا ہے، حدود و اصول کو توڑ کر جو کام کیا جائے وہ فساد قرار دیا جاتا ہے۔

کون سی تحقیق مستحسن ہے؟

تحقیق و تنقید میں سب سے پہلی بات تو اسلامی اصول میں یہ پیش نظر رکھنی ہے کہ اپنی توانائی اور وقت اس چیز کی تحقیق پر صرف نہ کی جائے جس کا کوئی نفع دین یا دنیا میں متوقع نہ ہو، خالی تحقیق برائے تحقیق اسلام میں ایک عبث اور فضول عمل ہے، جس سے پرہیز کرنے کے لیے رسول اللہﷺ نے بڑی تاکید فرمائی ہے، خصوصاً جبکہ کوئی ایسی تحقیق و تنقید ہو جس سے دنیا میں فتنہ اور جھگڑے پیدا ہوں۔ یہ ایسی ہی تنقید ہوگی جیسے کوئی لائق بیٹا اس کی تحقیق اور ریسرچ میں لگ جائے کہ جس باپ کا بیٹا کہلاتا ہوں کیا واقعی میں اسی کا بیٹا ہوں؟ اور اس کے لیے والدہ محترمہ کی زندگی کے گوشوں پر ریسرچ و تحقیق کا زور خرچ کرے۔ دوسرے شخصیتوں پر جرم و تنقید کے لیے اسلام نے کچھ عادلانہ، حکیمانہ اصول اور حدود مقرر کیے ہیں اور ان سے آزاد ہو کر جس کا جی چاہے، جو جی چاہے اور جس کے خلاف جی چاہے بولا یا لکھا کرے، اس کی اجازت نہیں دی۔ یہاں اس کی تفصیلات بیان کرنے کا موقع نہیں، حدیث کی جرح و تعدیل کی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ اس پر بحث کی گئی ہے۔

لیکن یورپ سے درآمد کی ہوئی ”ریسرچ و تحقیق“ نام ہی بے قید اور آزاد تنقید کا ہے، ادب اور احترام اور حدود کی رعایت اس میں ایک بے معنی چیز ہے۔ افسوس ہے کہ اس زمانے کے بہت سے اہلِ قلم بھی اس نئے طرزِ تنقید سے متاثر ہو گئے۔

بغیر کسی دینی یا دنیوی ضرورت کے بڑی بڑی شخصیتوں کو آزاد جرح و تنقید کا ہدف بنا لینا ایک علمی خدمت اور محقق ہونے کی علامت سمجھی جانے لگی۔

اسلافِ امت اور ائمہ دین پر تو یہ مشقِ ستم بہت زمانے سے جاری تھی، اب بڑھتے بڑھتے صحابہ کرامؓ تک بھی پہنچ گئی۔ اپنے آپ کو اہلِ السنۃ والجماعۃ کہنے والے بہت سے اہلِ قلم نے اپنی ریسرچ و تحقیق اور علمی توانائی کا بہترین مصرف اسی کو قرار دے لیا کہ صحابہ کرامؓ کی عظیم شخصیتوں پر جرح و تنقید کی مشق کی جاوے۔

بعض حضرات نے ایک طرف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے یزید کی تائید و حمایت کا نام لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد بلکہ پورے بنی ہاشم کو ہدفِ تنقید بنا ڈالا اور اس میں صحابہ کرامؓ کے ادب و احترام تو کیا اسلام کے عادلانہ اور حکیمانہ ضابطہ تنقید کی بھی ساری حدود و قیود کو توڑ ڈالا۔ اس کے بالمقابل دوسرے بعض حضرات نے قلم اُٹھایا تو حضرت معاویہ اور عثمانِ غنی رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھیوں پر اسی طرح کی جرح و تنقید سے کام لیا۔

نئی تعلیم پانے والے نوجوان جو علومِ دین اور آدابِ دین سے ناواقف یورپ سے درآمد کی ہوئی نئی تہذیب کے دل دادہ ہیں، وہ ان دونوں سے متاثر ہوئے اور ان کے حلقوں میں صحابہ کرامؓ پر زبانِ طعن دراز ہونے لگی، اور صحابہ کرامؓ جو رسول اللہﷺ اور اُمتِ مسلمہ کے درمیانی واسطہ ہیں، ان کو دنیا کے عام سیاسی لیڈروں کی صف میں دکھایا جانے لگا، جو اقتدار کی جنگ کرتے ہیں اور اپنے اپنے اقتدار کے لیے قوموں کو گمراہ اور تباہ کرتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ پر تبرا کرنے والا گمراہ فرقہ تو ایک خاص فرقے کی حیثیت سے جانا پہچانا جاتا ہے، عام مسلمان ان کی باتوں سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ نفرت کرتے ہیں، مگر اب یہ فتنہ خود اہلِ سنت والجماعت کہلانے والے مسلمانوں میں پھوٹ پڑا۔

اور یہ ظاہر ہے کہ خدانخواستہ اگر مسلمان، صحابہ کرامؓ ہی کے اعتماد کو کھو بیٹھے تو پھر نہ قرآن پر اعتماد رہتا ہے، نہ حدیث پر، نہ دینِ اسلام کے کسی اصول پر، اس کا نتیجہ کھلی بے دینی کے سوا کیا ہو سکتا ہے؟ یہ سبب ہوا جس نے ان حالات میں اس موضوع پر قلم اُٹھانے کے لیے مجبور کر دیا، والله المستعان وعليه التكلان

غلط فہمیوں کا اصل سبب

اس دور میں جبکہ پوری دنیا میں اسلامی شعائر کی کھلی توہین، فحاشی، عریانی، حرام خوری، قتل و غارت گری اور باہمی جنگ و جدال مسلمانوں میں طوفانی رفتار سے بڑھ رہا ہے اور دُشمنانِ اسلام کی ہر جگہ مسلمانوں پر یلغار ہے، اس وقت میں ان محققین ناقدین نے گڑے مردے اکھاڑنے اور سوئے ہوئے فتنے بیدار کرنے کو اسلام کی بڑی خدمت کیوں سمجھا؟ اس بحث کو چھوڑ کر میں ”مقام صحابہؓ" میں اس چیز کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں جو اِن حضرات کے لیے مغالطے کا سبب بنی اور پھر ان کے عمل سے دوسرے لوگوں کے لئے بہت سے دینی مسائل میں مغالطوں کا ذریعہ بن گئی۔

بات یہ ہے کہ ان حضرات نے حضراتِ صحابہؓ کی شخصیتوں کو بھی عام رجالِ امت کی طرح صرف تاریخی روایات کے آئینے میں دیکھا اور تاریخ کی صحیح و سقیم روایات کے مجموعے سے وہ جس نتیجے پر پہنچے، وہی مقام ان مقدس شخصیتوں کے لیے تجویز کر لیا، اور ان کے اعمال و افعال کو اسی دائرے میں رکھ کر پرکھا۔

صفحہ 2 از 33