مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 19 از 33

ان ہی شارح مواقف نے ایک مقام پر بعض اہلِ سنت کی طرف نسبت کر کے یہ قول ذکر کیا ہے کہ ان کے نزدیک حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کرنے والوں کی خطا تفسیق کی حد تک پہنچتی ہے، لیکن شارح مواقف کے اس قول کی کوئی بنیاد ہمیں معلوم نہیں ہو سکی، اہلِ سنت کے کسی ایک عالم کے کلام میں بھی ہمیں یہ بات نظر نہیں آئی کہ انہوں نے اس بنا پر حضرت عائشہؓ یا حضرت معاویہؓ کو فاسق قرار دیا ہو، چنانچہ حضرت مجدد الف ثانیؒ نے "مکتوبات" میں شارح مواقف کے اس قول کی سخت تردید کی ہے، حضرت مجدد الف ثانیؒ تحریر فرماتے ہیں:

و آنچه شارح مواقف گفته که بسیارے از اصحاب ما برآں اند که آں منازعت از روئے اجتہاد نبودہ مراد از اصحاب کدام گروہ را داشتہ باشد، اہلِ سنت بر خلاف آں حاکم اند چنانکہ گذشت 

وكتب القوم مشحونة بالخطاء  الاجتهادي كما صرّح به الامام الغزالي والقاضي ابوبكر وغيرهما۔ پس تفسیق و تضلیل درحق محاربان حضرت امیر جائز نباشد ۔ قال القاضي في الشفاء: قال مالك: من شتم أحداً من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أبابكر أو عمر أو عثمان أو معاوية أو عمرو بن العاص رضي الله تعالىٰ عنهم فان قال: كانوا علىٰ ضلالٍ أو كفرٍ، قتل وان شتم بغير هذا من مشاعة الناس نُكِلَّ نكالاً شديداً، فلا يكون محاربوا عليَّ كفرةً كما زعمت الغلاۃ من الرفضة ولا فسقةً كما زعم البعض ونسبه شارح المواقف الىٰ كثير من أصحابه...... وآنچہ در عبارات بعضی از فقہاء لفظِ جور درحق معاویہؓ واقع شدہ است و گفتہ: كان معاوية اماماً جائراً مراد جور عدم حقیقت خلافت اور در زمان خلافت حضرت امیر خواہد بود نہ جورے کہ مآلش فسق و ضلالت است تابہ اقوال اہلِ سنت موافق باشد مع ذالک اربابِ استقامت از اتیان الفاظ موہمہ خلافِ مقصود اجتناب می نمائند و زیادہ برخطا تجویز نمی کنند                                

(مکتوبات امام ربانی: دفتر اول حصہ چہارم مکتوب نمبر 251، صفحہ 67، 69، جلد دوم، مطبوعہ نور کمپنی لاہور)

ترجمہ: اور یہ جو شارحِ مواقف نے کہا ہے کہ ہمارے بہت سے اصحاب اس مسلک پر ہیں کہ حضرت علیؓ کے ساتھ جنگ اجتہاد پر مبنی نہیں تھی، اس میں نہ جانے ”اصحاب“ سے کون سا گروہ مراد لیا ہے، اہلِ سنت کا عقیدہ تو اس کے خلاف ہے، جیسا کہ گزر چکا اور علمائے اہلِ سنت کی کتابیں خطاءِ اجتہادی کی تصریح سے بھری ہوئی ہیں، جیسے کہ امام غزالیؒ اور قاضی ابوبکر بن عربیؒ وغیرہ نے بہ صراحت لکھا ہے۔ لہٰذا حضرت علیؓ سے جن حضرات نے جنگ کی انہیں فاسق یا گمراہ کہنا جائز نہیں ہے۔ قاضی عیاض رحمۃاللہ نے ”شفاء“ میں امام مالکؒ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ: جو شخص صحابہ کرامؓ میں سے کسی کو بھی خواہ وہ ابوبکر و عمر یا عثمان ہوں یا معاویہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم، برا کہے تو اگر یہ کہے کہ: ”وہ گمراہی یا کفر پر تھے“ تو اسے قتل کیا جائے گا اور اگر اس کے علاوہ عام گالیوں میں سے کوئی گالی دے تو اسے سخت سزا دی جائے گی۔  لہٰذا امام مالکؒ کے اس قول کی رو سے بھی حضرت علیؓ کا مقابلہ کرنے والے نہ تو کافر ہیں جیسے کہ بعض غالی روافض کا خیال ہے اور نہ فاسق ہیں جیسے کہ بعض کا گمان ہے اور شارحِ مواقف نے اس کی نسبت اپنے بہت سے اصحاب کی طرف کی ہے اور یہ جو بعض فقہاء کی عبارتوں میں حضرت معاویہؓ کے حق میں ”جور“ کا لفظ آ گیا ہے اور انہوں نے یہ کہا ہے کہ: ”حضرت معاویہؓ امام جائز تھے“ تو اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت علیؓ کے عہد خلافت میں ان کی خلافت برحق نہ تھی، اس سے وہ ظلم و جور مراد نہیں ہے جس کا نتیجہ فسق اور گمراہی ہے، یہ تشریح اس لیے ضروری ہے تاکہ اہلِ سنت کے اقوال کے ساتھ موافقت ہو جائے۔ اس کے ساتھ دین پر استقامت رکھنے والے ان حضرات کے حق میں ایسے الفاظ سے بھی پرہیز کرتے ہیں جن سے خلافِ مقصود کا وہم پیدا ہوتا ہو اور ان حضرات کے لیے ”خطاء“ کے لفظ سے زیادہ کوئی لفظ کہنا جائز نہیں سمجھتے۔

*مشاجرات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے معاملے میں امت کا عقیدہ اور عمل*

لفظ ”مشاجرہ“  شجر سے مشتق ہے، جس کے اصل معنی تنے دار درخت کے ہیں جس کی شاخیں اطراف میں پھیلتی ہیں، باہمی اختلافات و نزاع کو اسی مناسبت سے مشاجرہ کہا جاتا ہے کہ درخت کی شاخیں بھی ایک دوسرے سے ٹکراتی اور ایک دوسرے کی طرف بڑھتی ہیں۔ حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان جو اختلافات پیش آئے اور کھلی جنگوں تک نوبت پہنچ گئی، علمائے امت نے ان کی باہمی حروب اور اختلافات کو جنگ و جدال سے تعبیر نہیں کیا، بلکہ از روئے ادب ”مشاجرہ“ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے کیونکہ درخت کی شاخوں کا ایک دوسرے میں گھسنا اور ٹکرانا مجموعی حیثیت سے کوئی عیب نہیں، بلکہ درخت کی زینت اور کمال ہے۔

*ایک سوال اور جواب*

صفحہ 19 از 33