مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 18 از 33

8: حافظ ابنِ تیمیہؒ نے ”شرح عقيدہ واسطيۃ“ میں فرمایا:

ومن أصول أهل السنۃ والجماعۃ سلامۃ قلوبهم وألسنتهم لأصحاب رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم كما وصفهم اللہ تعالىٰ في قوله تعالىٰ: وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ(شرح عقیدہ واسطیہ: صفحہ403،طبع مصر)

ترجمہ:- اہلِ سنت کے اصولِ عقائد میں یہ بات بھی داخل ہے کہ وہ اپنے دلوں اور زبانوں کو صحابہؓ کے معاملے میں صاف رکھتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے کہ: وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ 

9: علامہ سفارینی رحمۃاللہ نے اپنی کتاب ”الدرة المضيۃ“ اور اس کی شرح جو سلف صالحین کے عقائد پر تصنیف فرمائی ہے اور  ”لوامع الأنوار البهيۃ شرح الدر المضيۃ“ کے نام سے شائع ہوئی، اس میں فرماتے ہیں:

والذي أجمع عليہ أهل السنۃ والجماعۃ أنه يجب علىٰ كل أحد تزكيۃ جميع الصحابۃ باثبات العـدالۃ لهم والكف عن الطعن فيهم والثناء عليهم فقد أثنى اللہ سبحانہ عليهم في عدة آيات من كتابہ العزيز على أنہ لو لم يرد عن اللہ ولا عن رسوله فيهم شيء لأوجبت الحال اللتي كانوا عليها من الهجرة والجهاد ونصرہ الدين وبذل المهج والأموال وقتل الآباء والأولاد والمناصـحة في الدين وقوة الإيمان واليقين القطع بتعديلهم والاعتقاد لنزاهتهم وانهم أفضل جميع الأمۃ بعد نبيهم، هذا مذهب كافۃ الأمۃ ومن عليه المعوّل من الائمۃ   

(عقيدہ سفارينيؒ: جلد 2،صفحہ 338)

ترجمہ:- اہلِ سنت والجماعت کا اس پر اجماع ہے کہ ہر شخص پر واجب ہے کہ وہ تمام صحابہؓ کو پاک صاف سمجھے، ان کے لیے عدالت ثابت کرے، ان پر اعتراضات کرنے سے بچے اور ان کی مدح و توصیف کرے، اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی کتابِ عزیز کی متعدد آیات میں ان کی مدح و ثنا کی ہے، اس کے علاوہ اگر اللہ اور اس کے رسولﷺ سے صحابہؓ کی فضیلت میں کوئی بات منقول نہ ہوتی تب بھی ان کی عدالت پر یقین اور پاکیزگی کا اعتقاد رکھنا اور اس بات پر ایمان رکھنا ضروری ہوتا کہ وہ نبیﷺ کے بعد ساری امت کے افضل ترین افراد ہیں، اس لیے ان کے تمام حالات اسی کے مقتضی تھے، انہوں نے ہجرت کی، جہاد کیا، دین کی نصرت میں اپنی جان و مال کو قربان کیا، اپنے باپ بیٹوں کی قربانی پیش کی اور دین کے معاملے میں باہمی خیر خواہی اور ایمان و یقین کا اعلیٰ مرتبہ حاصل کیا۔

10: اسی کتاب میں امام ابو زرعہ عراقی رحمۃاللہ جو امام مسلم رحمۃاللہ کے بڑے اساتذہ میں سے ہیں، ان کا یہ قول نقل کیا ہے:

اذا رأیت الرجل ينتقص أحداً من أصحاب رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم فاعلم أنه زنديق وذلك ان القراٰن حق والرسول حق وما جاء بہ حق وما أدّىٰ ذلك إلينا كل إلا الصحابة فمن جرحهم إنما أراد إبطال الكتاب والسنۃ فيكون الجرح به اليق والحكم عليہ بالزندقۃ والضلال أقوم وأحق (عقیدہ سفارینیؒ :جلد 2، صفحہ 389)

ترجمہ: جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ صحابہ کرامؓ میں سے کسی کی بھی تنقیص کر رہا ہے تو سمجھ لو کہ وہ زندیق ہے، اس لیے کہ قرآن حق ہے، رسولﷺ حق ہیں، جو تعلیمات آپﷺ لے کر آئے وہ حق ہیں اور یہ سب چیزیں ہم تک پہنچانے والے صحابہؓ کے سوا کوئی نہیں، تو جو شخص ان کو مجروح کرتا ہے وہ کتاب و سنت کو باطل کرنا چاہتا ہے، لہٰذا خود اس کو مجروح کرنا زیادہ مناسب ہے اور اس پر گمراہی اور زندقہ کا حکم لگانا زیادہ قرینِ حق و انصاف ہے۔

11: اسی کتاب میں حافظِ حدیث ابنِ حزم اندلسی رحمۃاللہ سے اس مسئلے میں یہ قول نقل کیا ہے:

قال ابن حزم: الصحابۃ كلھم من أهل الجنۃ قطعاً قال تعالیٰ: وَ مَا لَـكُمۡ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلِلّٰهِ مِيۡـرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ‌ لَا يَسۡتَوِىۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقَاتَلَ‌ اُولٰٓئِكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَقَاتَلُوۡا‌ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى‌ وقال تعالىٰ: اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّنَّا الۡحُسۡنٰٓى اُولٰٓئِكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُوۡنَ

ترجمہ: علامہ ابنِ حزمؒ فرماتے ہیں کہ تمام صحابہؓ قطعی طور پر اہلِ جنت میں سے ہیں (دلیل یہ ہے کہ) باری تعالیٰ فرماتے ہیں: تم میں سے جن لوگوں نے فتح (مکہ) سے پہلے اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا اور جہاد کیا (وہ بعد کے لوگوں کے) برابر نہیں ہو سکتے، وہ لوگ درجے کے اعتبار سے ان لوگوں کے مقابلے میں عظیم تر ہے جنہوں نے (فتح مکہ کے) بعد انفاق اور قتال کیا اور اللہ نے اچھائی (جنت) کا وعدہ سبھی سے کیا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: کہ بلاشبہ وہ لوگ جن کے لیے ہمارا اچھائی (جنت) کا وعدہ پہلے سے آچکا ہے وہ دوزخ سے دور رکھے جائیں گے۔

12: عقائد کی مشہور درسی کتاب ”عقائدِ نسفیہ“ میں ہے:

ويكف عن ذكر الصحابۃ الا بخير

یعنی اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ کا ذکر بجز خیر اور بھلائی کے نہ کرے۔

13: اسی طرح عقائدِ اسلامیہ کی معروف کتاب ”شرح مواقف“ میں سید شریف جرجانی رحمۃاللہ نے مقصد سابع میں لکھا ہے:

المقصد السابع انہ یجب تعظيم الصحابۃ كلهم والكف عن القدح فيهم لأن الله عظيم وأثنى عليهم في غير موضع من كتابه (ثم ذكر الاٰيات المنزلۃ في الباب ثم قال:) والرسول صلى اللہ عليہ وسلم قد أحبهم وأثنى عليهم في الاحاديث الكثيرہ

ترجمہ: تمام صحابہؓ کی تعظیم اور ان پر اعتراض سے بچنا واجب ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ عظیم ہے اور اس نے ان حضرات پر اپنی کتاب کے بہت سے مقامات میں مدح و ثناء فرمائی ہے، (اس طرح کی آیات نقل کر کے لکھتے ہیں) اور رسول اللہﷺ ان حضرات سے محبت فرماتے تھے اور آپﷺ نے بہت سی احادیث میں ان پر ثناء فرمائی ہے۔

صفحہ 18 از 33