مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 17 از 33

اسی طرح کا ایک مضمون حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃاللہ کی طرف ان کے فتاویٰ کے حوالے سے منسوب کیا گیا ہے، یہ مضمون کی وجہ سے ایسا ہے کہ حضرت شاہ عبدالعزیز دہلویؒ جیسے جامعِ علوم بزرگ کی طرف اس کی نسبت کسی طرح سمجھ میں نہیں آتی اور ”فتاویٰ عزیزی“کے نام سے جو مجموعہ شائع ہو رہا ہے اس کے متعلق یہ سب کو معلوم ہے کہ حضرت شاہ صاحبؒ نے نہ خود ان کو جمع فرمایا ہے، نہ ان کی زندگی میں وہ شائع ہوا ہے، وفات کے معلوم نہیں کتنے عرصے بعد مختلف لوگوں کے پاس جو ان کے خطوط و فتاویٰ دنیا میں پھیلے ہوئے تھے ان کو جمع کر کے یہ مجموعہ شائع ہوا ہے، اس میں بہت سے احتمالات ہو سکتے ہیں کہ کسی نے کوئی تدسیس اس میں کی ہو اور غلط بات ان کی طرف منسوب کرنے کے لیے فتاویٰ کے مجموعے میں شامل کر دیا ہو اور اگر بالفرض یہ واقعی حضرت شاہ عبدالعزیزؒ کا قول ہے تو بھی بمقابلہ جمہور علماء و فقہاء کے متروک ہے۔ (واللہ اعلم)

علمِ عقائد و کلام کی تقریباً سبھی کتابوں میں اسی طرح اصولِ حدیث کی سب کتابوں میں اس پر اجماع نقل کیا گیا ہے، جس میں سے چند کے حوالے اس جگہ نقل کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔

2: حدیث اور اصولِ حدیث کے امام ابنِ صلاح رحمۃاللہ ”علوم الحدیث“ میں فرماتے ہیں:

للصحابۃ بأسرهم خصيصة وهي أنه لا يسأل عن عدالة أحد منهم بل ذلك أمر مفروغ عنه لكونهم على الإطلاق معدلين بنصوص الكتاب والسنة وإجماع من يعتد به في الإجماع من الأمة قال تعالىٰ: كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ قيل اتفق المفسرون علىٰ أنه وارد في أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم (ثم سرد بعض النصوص القراٰنية والأحاديث كما ذكرنا سابقاً) 

(علوم الحديث: صفحہ 264)

ترجمہ: تمام صحابہ کرامؓ کی ایک خصوصیت ہے اور وہ یہ ہے کہ ان میں سے کسی کی عدالت (ثقہ و متقی) ہونے کا سوال بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ ایک طے شدہ مسئلہ ہے، قرآن و سنت کے نصوصِ قطعیہ اور اجماعِ امت جن لوگوں کا معتبر ہے، ان کے اجماع سے ثابت ہے۔ حق تعالیٰ نے فرمایا کہ: تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا کہ مفسرین حضرات کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ آیت اصحاب رسول اللہﷺ کی شان میں آئی ہے۔

3: حافظ ابنِ عبدالبر رحمۃاللہ نے مقدمہ ”استعیاب“ میں فرمایا:

فهم خير القرون وخير أمة أخرجت للناس ثبتت عدالة جميعهم بثناء الله عزوجل عليهم وثناء رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم ولا أعدل ممن ارتضاه الله بصحبة نبيه صلى الله عليه وسلم ونصرته ولا تزكية أفضل من ذلك ولا تعديل أكمل منها، قال تعالىٰ: مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ مَعَهُ

(الاستيعاب تحت الاصابۃ: جلد 1، صفحہ 2)

ترجمہ: یہ حضراتِ صحابہؓ ہر زمانے کے افراد سے افضل ہیں اور وہ بہترین امت ہے جسے اللہ نے لوگوں (کی ہدایت) کے لیے پیدا فرمایا، ان سب کی عدالت اس طرح ثابت ہے کہ اللہ نے بھی ان کی تعریف و توصیف فرمائی اور رسول اللہﷺ نے بھی اور ان لوگوں سے بڑھ کر کون عادل ہو سکتا ہے جنہیں اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت اور نصرت کے لیے چن لیا ہو، کسی شخص کے حق میں عدالت و ثقاہت کی کوئی اس شہادت سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی۔

امام احمد رحمۃاللہ کا اپنا ایک رسالہ ”اصطخری“ کی روایت سے منقول ہے، اس میں فرمایا: 

لا يجوز لأحد أن يذكر شيئاً من مساويهم ولا أن يعطن على أحد منهم بعيب ولا نقص فمن فعل ذلك وجب تاديبه. وقال الميموني: سمعت أحمد يقول: ما لهم لمعاوية نسأل الله العافية. وقال لي: يا أبا الحسن! إذا رأيتَ أحدا يذكر أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بسوء فاتهمه على الاسلام.   

(ذكره ابن تيميۃ: في الصارم المسلول)

ترجمہ: کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ ان کی کوئی برائی ذکر کرے اور ان پر کسی عیب یا نقص کا الزام لگائے، جو شخص ایسا کرے اس کی تأدیب واجب ہے۔ اور میمونی رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد رحمۃاللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی برائی کرتے ہیں، ہم اللہ سے عافیت کے طلبگار ہیں اور پھر مجھ سے فرمایا کہ: جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ صحابہؓ کا ذکر برائی کے ساتھ کر رہا ہے اس کے اسلام کو مشکوک سمجھو

5: امام نوویؒ نے اپنی کتاب ”تقریب“ میں فرمایا:

الصحابۃ كلهم عدول من لابس الفتن وغيرهم بإجماع من يعتد بہ.

ترجمہ: صحابہؓ سب کے سب عدل ہیں، جو اختلافات کے فتنے میں مبتلا ہوئے وہ بھی اور دوسرے بھی۔

6: علامہ سیوطی رحمۃاللہ نے اسی ”تقریب“ کی شرح ”تدریب الراوی“ میں پہلے اس کے ثبوت میں وہ آیاتِ قرآنی اور روایاتِ حدیث لکھی ہیں جن کا ایک حصہ اوپر لکھا جا چکا ہے، پھر فرمایا:

ان سب حضرات کا تعدیل و تنقید سے بالاتر ہونا اس وجہ سے ہے کہ یہ حضرات حاملانِ شریعت ہیں اگر ان کی عدالت مشکوک ہو جائے تو شریعتِ محمدیہﷺ صرف آنحضرتﷺ کے عہدِ مبارک ہی تک محدود ہو کر رہ جائے گی، قیامت تک آنے والی نسلوں اور دور دراز کے ملکوں اور خطوں میں عام نہیں ہو سکتی۔ اس کے بعد جن بعض لوگوں نے اس مسئلے میں کچھ اختلافی پہلو لکھا ہے ان پر رد کر کے آخر میں فرمایا:

والقول بالتعميم هو الذي صرح به الجمهور وهو المعتبر    (تدريب الراوي: صفحہ400)

 ترجمہ: عدالت کا تمام صحابہ کرامؓ میں عام ہونا ہی جمہور کا قول ہے اور وہی معتبر ہے۔

7: علامہ کمال ابن ہمام رحمۃاللہ نے عقائدِ اسلامیہ پر اپنی جامع کتاب ”مسایرہ“ میں لکھا ہے:

وإعتقاد أهل السنۃ والجماعۃ تزكيۃ جميع الصحابۃ وجوبا باثبات العدالۃ لكل منهم والكف عن الطعن فیهم والثناء عليهم كما اثنى الله سبحانہ وتعالىٰ عليهم

 (ثم سرد الاٰيات والروايت اللتي مرت) 

  (مسايره: صفحہ 132، طبع ديوبند)

ترجمہ: عقیدہ اہلِ سنت والجماعت کا تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تزکیہ یعنی گناہوں سے پاکی بیان کرنا ہے، اس طرح کے ان سب کے عدول ہونے کو ثابت کیا جائے اور ان پر کسی قسم کا طعن کرنے سے پرہیز کیا جائے اور ان کی مدح و ثنا کی جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح فرمائی ہے (پھر ابن ہمامؒ نے وہ آیات و روایات نقل کی ہیں جو اوپر گزر چکی ہیں)۔

صفحہ 17 از 33