مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 16 از 33

بیعتِ حدیبیہ میں جس کو قرآنی بشارت کی وجہ سے ”بیعت رضوان“ اور ”بیعت شجرہ“ بھی کہا جاتا ہے، اس میں جو تقریباً ڈیڑھ ہزار صحابہ کرامؓ شریک تھے، ان کے بارے میں کھلے الفاظ سے یہ اعلان فرمایا:

 لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ المُؤْمِنِيْنَ إذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحتَ الشَّجَرَةِ(سورۃالفتح آیت: 18)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ مؤمنوں سے راضی ہو گیا جبکہ وہ درخت کے نیچے آپﷺ سے بیعت کر رہے تھے۔

حدیث میں رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ: اس بیعت تحت الشجرہ میں جو لوگ شریک تھے ان میں سے کسی کو جہنم کی آگ نہ چھو سکے گی، اس مضمون پر متعدد احادیث مختلف الفاظ، اسناد صحیحہ کے ساتھ کتبِ حدیث و تفسیر میں موجود ہیں اور عام صحابہ کرام اولین و آخرین کے حق میں یہ اعلان سورۃ التوبہ میں اس طرح آیا:

وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ تَحۡتَهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ ذٰ لِكَ الۡـفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ

(سورۃالتوبہ آیت: 100)

ترجمہ: مہاجرین و انصار میں سے جو سب سے پہلے سبقت کرنے والے ہیں اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی اتباع کی، اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے، یہ عظیم کامیابی ہے۔

سورۃ الحدید میں صحابہ کرامؓ کے بارے میں اعلان فرمایا: وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى‌

ترجمہ: اللہ نے ان میں سے ہر ایک سے حسنیٰ کا وعدہ کر لیا ہے۔

پھر سورۃ الاَنبیاء میں ”حسنیٰ“ کے متعلق یہ ارشاد ہے:

اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّنَّا الۡحُسۡنٰٓى اُولٰٓئِكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُوۡنَ(سورۃ الاَنبیاء: آیت101)

ترجمہ: یعنی وہ لوگ جن کے لیے ہماری طرف سے حسنیٰ مقرر کر دی گئی ہے وہ اس جہنم سے دور کیے جائیں گے۔

اس کا حاصل ظاہر ہے کہ سب ہی صحابہ کرامؓ کے حق میں یہ فیصلہ فرما دیا کہ وہ جہنم سے دور رکھے جاویں گے۔

نیز سورۃ التوبہ میں ارشاد ہے:

لَـقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِىِّ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُ فِىۡ سَاعَةِ الۡعُسۡرَةِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا كَادَ يَزِيۡغُ قُلُوۡبُ فَرِيۡقٍ مِّنۡهُمۡ ثُمَّ تَابَ عَلَيۡهِمۡ‌ اِنَّهٗ بِهِمۡ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ(سورۃ التوبہ آیت: 117)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے نبی اور ان مہاجرین و انصار کی توبہ قبول فرمائی جنہوں نے تنگی کے وقت میں نبی کی پیروی کی، بعد اس کے کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک فریق کے دل کج ہو جائیں، پھر اللہ نے ان کو معاف کر دیا، بلا شبہ وہ ان پر بہت مہربان رحمت کرنے والا ہے۔

اس کا حاصل یہ ہے کہ قرآنِ کریم نے اس کی ضمانت دے دی کہ حضراتِ صحابہؓ سابقین و آخرین میں سے کسی سے بھی اگر عمر بھر میں کوئی گناہ سرزد ہو گیا تو وہ اس پر قائم نہ رہے گا، توبہ کر لے گا، یا پھر نبی کریمﷺ کی صحبت و نصرت  اور دین کی خدماتِ عظیمہ اور ان کی بے شمار حسنات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دے گا اور ان کی موت اس سے پہلے نہ ہوگی کہ ان کا گناہ معاف ہو کر وہ صاف بے باق ہو جائیں، اسی لیے ان میں سے کسی بھی صحابی کو ساقط العدالت یا فاسق نہیں کہا جا سکتا۔ صدورِ گناہ کے وقت اس پر تمام وہی احکام نافذ ہوں گے جو دوسرے مسلمانوں پر ہوتے، حد شرعی یا تعزیری سزائیں جو عام مسلمانوں کے لیے ہیں وہ ان پر جاری کی جائیں گی اور صدورِ گناہ کے وقت اس عمل کو فسق بھی کہا جائے گا، جیسا کہ آیت اِنۡ جَآءَكُمۡ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ سے معلوم ہوتا ہے، مگر چونکہ ان کی توبہ یا معافی بنصِ قران معلوم ہوچکی ہے اس لیے ان کو کسی وقت ”ساقط العدالت فاسق“ نہیں کہا جائے گا، كذا حققہ الاٰلوسیؒ في روح المعانی تحت آيت: وَاِنۡ جَآءَكُمۡ فَاسِقٌ

قاضی ابویعلیٰ رحمۃاللہ نے آیتِ رضوان کے تحت فرمایا:

والرضىٰ من اللہ صفت قديمۃ فلا يرضىٰ الا من عبد يعلم انه يوفّيه علىٰ موجباتِ الرضىٰ ومن رضی اللہ عنہ لم يسخط عليه أبداً.   

(الصارم المسلول: لابن تيميۃؒ)

ترجمہ: اور اللہ کی خوشنودی، باری تعالیٰ کی ایک صفتِ قدیمہ ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ صرف اس بندے سے راضی ہوتا ہے جس کے بارے میں معلوم ہو کہ رضا مندی کے موجبات کا جامع ہے اور جس سے اللہ راضی ہو جائے اس پر کبھی ناراض نہیں ہوگا۔

صحابہ کرامؓ کے غیر معصوم ہونے اور سب کے عدول میں جو ایک ظاہری تعارض ہے اس کا جواب جمہور علماء و فقہاء کے نزدیک یہی ہے اور وہ بالکل واضح اور صاف ہے۔

اور بعض علماء نے جو عدمِ عصمت اور عمومِ عدالت کے تضاد سے بچنے کے لیے ”عدالت“ کے مفہوم میں یہ ترمیم فرمائی کہ یہاں ”عدالت“ سے مراد تمام اوصاف و اعمال کی عدالت نہیں بلکہ صرف روایت میں کذب نہ ہونے کی عدالت مراد ہے، یہ لغت و شرع پر ایک زیادتی ہے جس کی کوئی ضرورت اور کوئی وجہ نہیں اور ان حضرات کے پیشِ نظر بھی اس ترمیم کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اس کی رو سے کسی صحابی کو اپنے عمل و کردار کی حیثیت سے ساقط العدالت یا فاسق قرار دینا چاہتے ہیں، ان کے کلمات دوسرے مواقع میں خود اس کی نفی کرتے ہیں۔

صفحہ 16 از 33