مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 15 از 33

عدلاً ضابطاً بان يكون مسلماً بالغاً عاقلاً سليماً من اسباب الفسق وخوارم المروءة۔

علامہ سیوطی رحمۃاللہ نے اس کی شرح ”تدریب“ میں فرمایا:

وفسر العدل بان يكون مسلماً بالغاً عاقلاً (الىٰ قَوْلِهٖ) سليماً من اسباب الفسق وخوارم المروءة۔    

(تدريب الراوی: صفحہ 197)

حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃاللہ نے ”شرح نخبۃ الفكر“ میں فرمایا:

والمراد بالعدل من له ملكة تحمله علىٰ ملازمة التقوىٰ والمروءة والمراد بالتقوىٰ اجتناب الاعمال السيئة من شركة او فسق و بدعة۔

ترجمہ: ”عدل“ سے مراد وہ شخص ہے جسے ایسا ملکہ حاصل ہو جو اسے تقویٰ اور مروّت کی پابندی پر برانگیختہ کرے اور تقویٰ سے مراد شرک، فسق اور بدعت جیسے اعمالِ بد سے اجتناب ہے۔

”الدر المختار: كتاب الشهادت“ میں عدالت کی تفسیر یہ کی ہے:

ومن ارتكب صغيرة بلا إصرار وان اجتنب الكبائر كلها وغلب صوابهٗ علىٰ صغائره درر وغيرها قال: وهو معنى العدالة قال: ومتىٰ إرتكب كبيرة سقطت عدالته۔

 ترجمہ: اور وہ شخص (بھی عادل ہے) جس سے صغیرہ گناہ بغیر اصرار (مداومت) کے صادر ہو جاتا ہو بشرط یہ کہ وہ تمام کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرتا ہو اور اس کے درست افعال اس کے صغیرہ گناہوں سے زیادہ ہوں (درر وغیرہ) یہی عدالت کے معنیٰ ہیں اور کوئی شخص جب کبھی کسی گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوگا، اس کی عدالت ساقط ہو جائے گی۔

اس کی شرح میں ابنِ عابدین رحمۃاللہ نے فرمایا:

في الفتاوىٰ الصغرىٰ حيث قال: العدل من يجتنب الكبائر كلها حتىٰ لو ارتكب كبيرۃ تسقط عدالته وفي الصغائر العبرة بغلبه أو الإصرار على الصغيرة فتصير كبيرة ولذا قال: غلب صوابه آه. قولهٗ (سقطت عدالتہ) وتعود إذا تاب.... الخ۔       

(رد المختار ابن عابدين شامی: صفحہ 523)

ترجمہ: فتاویٰ صغریٰ میں لکھا ہے کہ ”عدل“ وہ جو تمام کبیرہ گناہوں سے مجتنب ہو، یہاں تک کہ اگر ایک کبیرہ گناہ کا ارتکاب بھی کر لے گا تو اس کی عدالت ساقط ہو جائے گی اور صغیرہ گناہوں میں اعتبار اکثریت کا ہے، یا پھر کسی صغیرہ گناہ پر اصرار (مداومت) کا، کیونکہ اس صورت میں صغیرہ بھی کبیرہ بن جاتا ہے اسی لیے مصنف (در مختار) نے یہ کہا ہے کہ اس کے درست افعال زیادہ ہوں اور مصنف نے جو یہ کہا کہ کبیرہ کے ارتکاب سے عدالت ساقط ہو جائے گی (اس میں اتنا اضافہ کرنا چاہیے کہ) اگر وہ توبہ کر لے تو عدالت لوٹ آئے گی۔

فقہاء و محدثین کی مذکورہ بالا تصریحات میں ”عدل“ اور ”عدالت“ کی ایک ہی تفسیر ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ مسلمان عاقل، بالغ ہو اور کبیرہ گناہوں سے مجتنب ہو، کسی صغیرہ گناہ پر مصر نہ ہو اور بہت صغیرہ گناہوں کا عادی نہ ہو، یہی مفہوم شرعی ہے ”تقویٰ“ کا، جیسا کہ ابن عابدینؒ کی عبارتِ مذکورہ میں ہے، جس کا بالمقابل ”فسق“ ہے۔ جس شخص کی عدالت کو ساقط قرار دیا جائے گا تو اصطلاح شرع میں اس کو ”فاسق“ کہا جائے گا اوپر جن حضرات سے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ”عدول“ ہونے پر اجماعِ امت سے نقل کیا گیا ہے ان کی اپنی اپنی عبارتوں سے بھی ”عدل“ اور ”عدالت“ کی یہی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔

*ایک اشکال و جواب*

یہاں یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف امت کا یہ عقیدہ بھی ہے کہ صحابہ کرامؓ معصوم نہیں، ان سے کبیرہ، صغیرہ ہر طرح کے گناہ کا صدور ہو سکتا ہے اور ہوا بھی ہے، دوسری طرف یہ عقیدہ اوپر لکھا گیا ہے کہ سب کے سب ”عدول“ ہیں اور ”عدل“ کے معنی اصطلاحی بھی سب کے نزدیک یہ ہیں جو کسی گناہِ کبیرہ کا مرتکب اور صغیرہ پر مصر نہ ہو اور جس سے گناہ کبیرہ سرزد ہو گیا یا صغیرہ پر اصرار ثابت ہو گیا وہ ”ساقط العدالت“ کہلائے گا جس کا اصطلاحی نام ”فاسق“ ہے یہ کھلا ہوا تضاد ان دونوں عقیدوں میں ہے۔

اس کا جواب جمہور علماء کے نزدیک یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ سے اگرچہ کوئی بڑا کبیرہ گناہ بھی سرزد ہو سکتا ہے اور ہوا بھی ہے، مگر ان میں اور عام افرادِ امت میں ایک فرق ہے کہ گناہ کبیرہ وغیرہ سے جو کوئی شخص ساقط العدالت یا فاسق ہو جاتا ہے، اب اس کی مکافات توبہ سے ہو سکتی ہے، جس نے توبہ کر لی یا کسی ذریعے سے یہ معلوم ہو گیا کہ اس کی حسنات کی وجہ سے حق تعالیٰ نے اس کا یہ گناہ معاف کر دیا، وہ پھر ”عدل“ اور ”متقی“ کہلائے گا اور جس نے توبہ نہ کی وہ ساقط العدالت فاسق قرار دیا جائے گا۔

اب توبہ کے معاملے میں عام افراد امت اور صحابہ کرامؓ میں ایک خاص امتیاز یہ ہے کہ عام افراد امت کے بارے میں یہ ضمانت نہیں ہے کہ انہوں نے توبہ کی یا نہیں کی؟ اور نہ یہ معلوم ہے کہ اس کی حسنات نے سب سئیات کا کفارہ کر دیا۔ ان کے بارے میں جب تک توبہ کا ثبوت نہ ہو جائے یا کسی ذریعے سے عنداللہ معافی کا علم نہ ہو جائے ان کو ساقط العدالت فاسق ہی قرار دیا جائے گا، نہ ان کی شہادت مقبول ہوگی، نہ دوسرے معاملات میں ان کا اعتبار کیا جائے گا، مگر صحابہ کرامؓ کا معاملہ ایسا نہیں، اول تو ان کے حالات کو جاننے والے جانتے ہیں کہ وہ گناہ سے کتنے ڈرتے اور بچتے تھے اور کبھی کوئی گناہ سرزد ہو گیا تو اس کی توبہ صرف زبانی کرنے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ کوئی اپنے آپ کو بڑی سے بڑی سزا کے لیے پیش کر دیتا ہے، کوئی اپنے آپ کو مسجد کے ستون سے باندھ دیتا ہے، جب تک قبولِ توبہ کا اطمینان نہیں ہو جاتا اس کو صبر نہیں آتا۔ صحابہ کرامؓ کے اس خوف و خشیت کا تقاضا یہ ہے کہ جن حضرات سے توبہ کرنے کا اظہار بھی نہیں ہوا ہم ان کے بارے میں بھی یہی ظن رکھیں کہ انہوں نے ضرور توبہ کر لی ہوگی، دوسرے ان کے حسنات اور سوابق اتنے عظیم اور بھاری ہیں کہ ان کے مقابلے میں عمر بھر کا ایک آدھ گناہ حق تعالیٰ کے وعدے کے مطابق معاف ہی ہو جانا چاہیے، وعدہ یہ ہے: اِنَّ الحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ

(سورۃ الھود آیت: 114)

یہاں تک تو ہر مسلمان کو خود بھی بغیر کسی واضح دلیل کے یہ اعتقاد و اعتماد رکھنا عقل و انصاف کا تقاضا ہے، مگر صحابہ کرامؓ کے معاملے میں ہمارا صرف یہ گمان ہی نہیں، قرآنِ کریم نے اس گمان کی تصدیق بار بار کر دی، کبھی صحابہ کرامؓ کی خاص خاص جماعتوں کے لیے اس کا اعلان کر دیا کبھی صحابہ کرامؓ سابقین و آخرین کے لیے اعلان عام کر دیا کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے۔

صفحہ 15 از 33