مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 14 از 33

9: اور عوہم بن ساعدہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

ان الله اختارني واختار لى أصحابي فجعل منهم وزراء واختانا وأصهاراً فمن سبّهم فعليه لعنة الله والملئكة والناس أجمعين، ولا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلاً.

(تفسیر قرطبی، سورة الفتح، مجمع الزوائد: 10،12)

10: حضرت عرباض بن ساریہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

انه من يعش منكم فسيرى اختلافاً كثيرًا فعليكم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدين عضّوا عليها بالنواجذ، واياكمومحدثات الأمور فان كل بدعة ضلالة.

(رواه الإمام أحمد و ابوداؤد والترمذي وابن ماجہ وقال الترمذي: حديث حسن صحيح، وقال أبو نعيم حديث جيد صحیح از سفارینی: صفحہ 280)

ترجمہ: تم میں جو شخص میرے بعد رہے تو بہت اختلافات دیکھے گا، تو تم لوگوں پر لازم ہے کہ میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو اختیار کرو، اس کو دانتوں سے مضبوط تھامو اور نو ایجاد اعمال سے پرہیز کرو کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔

اس حدیث میں رسول اللہﷺ نے اپنی سنت کی طرح خلفائے راشدینؓ کی سنت کو بھی واجب الاتباع اور فتنوں سے نجات کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اسی طرح دوسری متعدد احادیث اور متعدد صحابہ کرامؓ کے نام لے کر مسلمانوں کو ان کی اقتداء و اتباع اور ان سے ہدایت حاصل کرنے کی تلقین فرمائی ہے، یہ روایات سب کتبِ حدیث میں موجود ہیں۔

*قرآن وسنت میں مقامِ صحابہؓ کا خلاصہ*

مذکور الصدر آیاتِ قرآنی اور روایاتِ حدیث میں یہی نہیں کہ اصحابِ رسول اللہﷺ کی مدح و ثناء اور ان کو رضوانِ الٰہی اور جنت کی بشارت دی گئی ہے، بلکہ اُمت کو ان کے ادب و احترام اور ان کی اقتداء کا حکم بھی دیا گیا ہے، ان میں سے کسی کو بُرا کہنے پر سخت وعید بھی فرمائی ہے، ان کی محبت کو رسول اللہﷺ کی محبت، ان سے بغض کو رسول اللہﷺ سے بغض قرار دیا ہے، صحابہ کرامؓ کا یہی وہ منصب اور درجہ ہے جس کو زیرِ نظر مقالے”مقامِ صحابہؓ“ میں پیش کرنا ہے۔

*اس پر امتِ محمدیہﷺ کا اجماع*

ایک دو گمراہ فرقوں کو چھوڑ کر باقی امتِ محمدیہﷺ کا ہمیشہ سے صحابہ کرامؓ کے بارے میں اسی اصول پر اجماع و اتفاق رہا ہے جو اوپر کتاب و سنت کی نصوص سے ثابت کیا گیا ہے۔

1: صحابہ کرامؓ کے بعد دوسرا قرن حضراتِ تابعینؒ کا ہے جس کو احادیثِ مذکورہ میں خیر القرون میں داخل کیا ہے، اس خیر القرون حضراتِ تابعینؒ میں بھی حضرت عمر بن عبد العزیزؒ سب سے افضل مانے گئے ہیں، انہوں نے اپنے ایک مکتوب میں صحابہ کرامؓ کے اس مقام کی وضاحت اور لوگوں کو اس کے پابند ہونے کی تاکید الفاظِ ذیل میں فرمائی ہے، یہ طویل مکتوب حدیث کی مشہور کتاب متداول کتاب ابوداؤد میں سند کے ساتھ لکھا گیا ہے، اس کے ضروری جملے جو مقامِ صحابہؓ کے متعلقہ ہیں یہ ہیں:

فارض لنفسك ما رضى به القوم لأنفسهم فانهم علىٰ علم وقفوا ويبصر نافد كفوا وهم على كشف الأمور كانوا أقوى وبفضل ما كانوا فيه أولى فان كان الهدى ما أنتم عليه لقد سبقتموهم اليه ولئن قلتم انما حدث بعدهم ما أحدثه الا من اتبع غير سبيلهم ورغب بنفسه عنهم فانهم هم السابقون فقد تكلموا فيه بما يكفى ووصفوا منه ما يشفى فما دونهم من مقصر وما فوقهم من محسر وقد قصر قوم دونهم فجفوا وطمع عنهم أقوام فعلوا وانهم بين ذلك لعلىٰ هدى مستقيم۔۔۔۔الخ

ترجمہ: پس تمہیں چاہیے کہ اپنے لیے وہی طریقہ اختیار کرلو جس کو قوم (صحابہ کرامؓ) نے اپنے لئے پسند کر لیا تھا، اس لیے کہ وہ جس حد پر ٹھہرے علم کے ساتھ ٹھہرے اور انہوں نے جس چیز سے لوگوں کو روکا، ایک دور بین نظر کی بناء پر روکا اور بلاشبہ وہ ہی حضرات دقیق حکمتوں اور علمی اُلجھنوں کے کھولنے پر قادر تھے اور جس کام میں تھے اس میں سب سے زیادہ فضیلت کے وہی مستحق تھے۔ پس اگر ہدایت اس طریق میں مان لی جائے جس پر تم ہو تو اس کے یہ معنیٰ ہیں کہ تم فضائل میں ان سے سبقت لے گئے (جو بالکل محال ہے)، اگر تم یہ کہو کہ یہ چیزیں ان حضرات کے بعد پیدا ہوئی ہیں (اس لیے ان سے یہ طریقہ منقول نہیں) تو سمجھ لو کہ ان کو ایجاد کرنے والے وہی لوگ ہیں جو ان کے راستے پر نہیں ہیں اور ان سے علیحدہ رہنے والے ہیں کیونکہ یہی حضرات سابقین ہیں جو معاملاتِ دین میں اتنا کلام کر گئے ہیں جو بالکل کافی ہے اور اس کو اتنا بیان کر دیا جو شفا دینے والا ہے، پس ان کے طریقے سے کمی و کوتاہی کرنے کا بھی موقع نہیں ہے اور ان سے زیادتی کرنے کا بھی کسی کو حوصلہ نہیں ہے اور بہت سے لوگوں نے ان کے طریقے میں کوتاہی کی وہ مقصد سے دور رہ گئے اور بہت سے لوگوں نے ان کے طریقے سے زیادتی کا ارادہ کیا وہ غلو میں مبتلا ہو گئے اور یہ حضرات افراط و تفریط اور کوتاہی کے درمیان ایک راہ مستقیم پر تھے۔

افضل التابعین حضرت عمر بن عبد العزیزؒ جن کی خلافت کو بعض علماء نے خلافتِ راشدہ کے ساتھ ملایا ہے اور ان کے دورِ خلافت میں اسلامی قوانین کی تنفیذ اور شعائرِ اسلام کا اعلاء بلاشبہ خلافتِ راشدہ ہی کے طرز پر ہوا ہے، ان کے اس ارشاد کے مطابق ایک دو گمراہ فرقوں کے علاوہ پوری اُمتِ محمدیہ نے صحابہ کرامؓ کے متعلق اسی عقیدے پر اجماع و اتفاق کیا ہے، اس اجماع کا عنوان عام طور پر کتبِ حدیث اور کتبِ عقائد میں یہ ہے کہ: ”الصحابة كلهم عدول“ حاصل مفہوم اس جملے کا وہی ہے جو اوپر کتاب وسنت کے حوالوں سے صحابہ کرامؓ کے درجے و مقام کے متعلق لکھا گیا ہے

*الصّحابہ كلهم عدول کا مفہوم*

لفظ ”عدول“ عدل کی جمع ہے، یہ اصل میں مصدر ہے حصے برابر کرنے کے معنی میں اور محاورات میں اس شخص کو ”عدل“ کہا جاتا ہے جو حق و انصاف پر قائم ہو، یہ لفظ قرآن کریم میں بھی بار بار آیا ہے، حدیث میں بھی، کتب تفسیر میں بھی اس پر بحث ہے اور اصولِ حدیث، اصول فقہ اور عام فقہ میں اس کے اصطلاحی اور شرعی معنی کی تعیین کی گئی ہے، ابنِ صلاح رحمۃاللہ نے فرمایا:

تفصيله ان يكون مسلماً بالغاً عاقلاً سالماً من اسباب الفسق وخوارم المروءة.     

(علوم الحديث لابن صلاحؒ)

ترجمہ: اس کی تفصیل یہ ہے کہ انسان مسلمان، بالغ، عاقل ہو اور اسبابِ فسق سے، نیز خلاف مروت افعال سے محفوظ ہو اور شیخ الاسلام  نووی رحمۃاللہ نے تقریب میں فرمایا:

صفحہ 14 از 33