مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 13 از 33

ترجمہ: اللہ سے ڈرو! اللہ سے ڈرو! میرے صحابہؓ کے معاملے میں، میرے بعد ان کو (طعن و تشنیع کا) نشانہ نہ بناؤ کیونکہ جس شخص نے ان سے محبت کی تو میری محبت کے ساتھ ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو میرے بغض کے ساتھ ان سے بغض رکھا اور جس نے ان کو ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذاء پہنچائی اور جس نے مجھے ایذاء دی اس نے اللہ تعالیٰ کو ایذاء پہنچائی اور جو اللہ کو ایذاء پہنچانا چاہتا ہے تو قریب ہے کہ اللہ اس کو عذاب میں پکڑ لے گا۔

اس حدیث میں جو یہ فرمایا کہ جس نے صحابہ کرامؓ سے محبت رکھی وہ میری محبت کے ساتھ محبت رکھی، اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ صحابی سے محبت رکھنا میری محبت کی علامت ہے۔ ان سے وہی شخص محبت رکھے گا جس کو میری محبت حاصل ہو۔ دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ جو شخص میرے کسی صحابی سے محبت رکھتا ہے تو میں اس سے محبت رکھتا ہوں، اس طرح اس کی محبت صحابی کے ساتھ علامت اس کی سمجھو کہ مجھے اس شخص سے محبت ہے۔ یہی دو معنے اگلے جملے بغضِ صحابہؓ کے ہو سکتے ہیں کہ جو شخص کسی صحابی سے بغض رکھتا ہے وہ دراصل مجھ سے بغض ہوتا ہے، یا یہ کہ جو شخص ان سے بغض رکھتا ہے تو میں اس شخص سے بغض رکھتا ہوں۔

دونوں معنے میں سے جو بھی ہوں یہ حدیث ان حضرات کی تنبیہ کے لئے کافی ہے جو صحابہ کرامؓ کو آزادانہ تنقید کا نشانہ بناتے اور ان کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جن کو دیکھنے والا ان سے بدگمان ہو جائے یا کم از کم ان کا اعتماد اس کے دل میں نہ رہے۔ غور کیا جائے تو یہ رسول اللہﷺ سے بغاوت کے حکم میں ہے۔

4: ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

اذا رأيتم الذين يسبون أصحابي فقولوا: لعنة الله علىشركم. 

(جمع الفوائد: جلد 2، صفحہ 491)

ترجمہ: جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہؓ کو بُرا کہتے ہیں تو تم ان سے کہو خدا کی لعنت ہے اس پر جو تم دونوں یعنی صحابہؓ اور تم سے بدتر ہیں۔

ظاہر ہے کہ صحابہ کرامؓ کے مقابلے میں بدتر وہی ہے جو ان کو بُرا کہنے والا ہے۔ اس حدیث میں صحابی کو بُرا کہنے والا مستحقِ لعنت قرار دیا گیا ہے اور یہ اوپر گزر چکا ہے کہ لفظ ”سبّ“ عربی زبان کے اعتبار سے صرف فحش گالی ہی کو نہیں کہتے بلکہ ہر ایسا کلام جس سے کسی کی تنقیص و توہین یا دل آزاری ہوتی ہے وہ لفظ ”سبّ“ میں داخل ہے۔ 

5: ابوداؤد، ترمذی میں حضرت سعید بن زیدؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا کہ بعض لوگ بعض امرائے حکومت کے سامنے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا کہتے ہیں، تو سعید بن زیدؓ نے فرمایا: افسوس! میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے سامنے اصحابِ نبی کریمﷺ کو بُرا کہا جاتا ہے اور تم اس پر نکیر نہیں کرتے اور اس کو روکتے نہیں (اب سن لو) میں نے رسول اللہﷺ کو یہ کہتے ہوئے اپنے کانوں سے سنا ہے (اور پھر حدیث بیان کرنے سے پہلے فرمایا کہ یہ بھی سمجھ لو کہ مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے کہ میں رسولﷺ کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کروں جو آپ نے نہ فرمائی ہو کہ قیامت کے روز جب میں رسولﷺ سے ملوں تو آپ مجھ سے اس کا مواخذہ فرماویں، یہ کہنے کے بعد حدیث بیان کی کہ) ابوبکر جنت میں ہیں، عمر جنت میں ہیں، عثمان جنت میں ہیں، علی جنت میں ہیں، طلحہ جنت میں ہیں، زبیر جنت میں ہیں، سعد بن مالک جنت میں ہیں، عبدالرحمن بن عوف جنت میں ہیں، ابو عبیدہ بن جراح جنت میں ہیں، یہ نو حضراتِ صحابہؓ کے نام لے کر دسویں کا نام نہیں لیا، جب لوگوں نے پوچھا دسواں کون ہے؟ تو ذکر کیا سعید بن زید (یعنی خود اپنا نام ابتداءً بوجہ تواضع کے ذکر نہیں کیا تھا، لوگوں کے اصرار پر ظاہر کیا) اس کے بعد حضرت سعید بن زیدؓ نے فرمایا:

والله! لمشهد رجل منهم مع النبي صلى الله عليه وسلم يغبر فيه وجهه خير من عمل أحدكم ولو عُمَّر عمر نوح.

(جمع الفوائد: جلد 2، صفحہ 492، طبع مصر)

ترجمہ: خدا کی قسم ہے کہ صحابہ کرامؓ میں سے کسی شخص کا رسول اللہﷺ کے ساتھ کسی جہاد میں شریک ہونا جس میں اس کا چہرہ غبار آلود ہو جائے، غیر صحابہ سے ہر شخص کی عمر بھر کی عبادت و عمل سے بہتر ہے اگر چہ اس کو عمرِ نوحؑ عطا ہو جائے۔

6: امام احمدؒ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا:

من كان متأسيا فليتأس بأصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فانهم أبرّ هٰذه الأمة قلوباً وأعمقها علمًا وأقلها تكلفاً وأقومها هدياً وأحسنها حالاً، قوم اختارهم الله بصحبة نبيه واقامة دينه، فاعرفوا لهم فضلهم واتبعوا اثارهم فانهم كانوا على الهدى المستقيم.

(شرح عقیدہ سفارینی: جلد2، صفحہ 280)

ترجمہ: جو شخص اقتداء کرنا چاہتا ہے اس کو چاہئے کہ اصحابِ رسول اللہﷺ کی اقتداء کرے، کیونکہ یہ حضرات ساری اُمت سے زیادہ اپنے قلوب کے اعتبار سے پاک، اور علم کے اعتبار سے گہرے، اور تکلف و بناوٹ سے الگ اور عادات کے اعتبار سے معتدل اور حالات کے اعتبار سے بہتر ہیں۔ یہ وہ قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی صحبت اور دین کی اقامت کے لئے پسند فرمایا ہے، تو تم ان کی قدر پہچانو اور ان کے آثار کا اتباع کرو کیونکہ یہی لوگ مستقیم طریق پر

ہیں۔

7: اور ابوداؤد طیالسیؒ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت کیا ہے:

ان الله نظر في قلوب العباد فنظر قلب محمد صلى الله عليه وسلم فبعثه برسالته، ثم نظر في قلوب العباد بعد قلب محمد صلى الله عليه وسلم فوجد قلوب أصحابه خیر قلوب العباد، فاختارهم لصحبة نبيه، ونصرة دينه. (سفارینی شرح الدرة المضيۃ: جلد 2، صفحہ 280)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے اپنے سب بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی تو محمدﷺ ان سب قلوب میں بہتر پایا، ان کو اپنی رسالت کے لئے مقرر کر دیا، پھر قلبِ محمدﷺ کے بعد دوسرے قلوب پر نظر فرمائی تو اصحابِ محمدﷺ کے قلوب کو دوسرے سب بندوں کے قلوب سے بہتر پایا، ان کو اپنے نبی کی صحبت اور دین کی نصرت کے لئے پسند کر لیا۔

8: مسندِ بزار میں حضرت جابرؓ سے بہ سندِ صحیح روایت کیا ہے که رسول اللہﷺ نے فرمایا:

ان الله اختار أصحابي على العالمين سوى النبيين والمرسلين واختار لى من أصحابي أربعة يعني أبابكر وعمر وعثمان وعلى فجعلهم أصحابي. وقال: في أصحابي كلهم خير.

صفحہ 13 از 33