مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 12 از 33

9: وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيۡكُمُ الۡاِيۡمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ وَكَرَّهَ اِلَيۡكُمُ الۡكُفۡرَ وَالۡفُسُوۡقَ وَالۡعِصۡيَانَ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَنِعۡمَةً وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ(سورۃالحجرات آیت: 7، 8)

ترجمہ: لیکن اللہ تعالیٰ نے ایمان کو تمہارے لیے محبوب کر دیا اور اس کو تمہارے دلوں میں مزین بنا دیا اور کفر، فسوق اور نافرمانی کو تمہارے لیے مکروہ بنا دیا، ایسے ہی لوگ اللہ کے فضل اور نعمت سے ہدایت یافتہ ہیں اور اللہ خوب جاننے والا، حکمت والا ہے۔

اس آیت میں بھی بلا استثناء تمام صحابہ کرامؓ کے لیے یہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان کی محبت اور کفر و فسوق اور گناہوں کی نفرت ڈال دی ہے۔

اس جگہ فضائلِ صحابہؓ کی سب آیات کا استیعاب پیشِ نظر نہیں، ان کے مقام اور درجے کو ثابت کرنے کے لیے ایک دو آیتیں بھی کافی ہیں جن سے ان کا مقبول عند اللہ ہونا، اللہ تعالیٰ کا ان سے راضی ہونا اور ابدی جنت کی نعمتوں سے سرفراز ہونا ثابت ہے۔

یہاں یہ بات پھر سامنے رکھنا چاہیے کہ یہ ارشادات اس ذاتِ حق کے ہیں جو سب کو پیدا کرنے والا اور پیدائش سے پہلے ہر انسان کے ایک ایک سانس، ایک ایک قدم سے اور اچھے بُرے عمل سے واقف ہے جو اس شخص سے وقوع میں آئیں گے، اس نے صحابہ کرامؓ کے معاملے میں جو اپنی رضائے کامل اور جنت کی بشارت دی ہے، ان سب واقعات و معاملات کو جانتے ہوئے دی ہے جو ان میں سے ہر ایک کو عہدِ رسالت میں یا اس کے بعد پیش آنے والے تھے۔

حافظ ابنِ تیمیہؒ نے اپنی کتاب ”الصارم المسلول على شاتم الرسول“ میں فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ اسی بندے سے راضی ہو سکتے ہیں جس کے بارے میں اس کو معلوم ہو کہ وہ آخر عمر تک موجباتِ رضاء کو پورا کرے گا اور جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہو جاوے تو پھر کبھی اس سے ناراض نہیں ہوتا۔

صحابہ کرامؓ کا خصوصی مقام احادیثِ نبویہ میں

جن احادیثِ نبویہ میں ان حضرات کے فضائل و درجات کا ذکر ہے، ان کو شمار کرنا اور لکھنا آسان بھی نہیں اور ضرورت بھی نہیں، اس لیے یہاں چند روایات لکھی جاتی ہیں جن میں پوری جماعتِ صحابہؓ کے فضائل و خصوصیات کا ذکر ہے، خاص خاص افراد یا جماعتوں کے بارے میں جو کچھ آیا ہے اس کو چھوڑا جاتا ہے۔

1: صحیحین اور تمام کتبِ اصول میں حضرت عمران بن حصینؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، فَلَا أَدْرِي ذَكَرَ قَرْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، ثُمَّ إِنَّ بَعْدَهُمْ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ وَلا يُسْتَشْهَدُونَ وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ وَيَنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السَّمَنُ.(للستة الا مالكا، جمع الفوائد: جلد 2، صفحہ 490، طبع مصر) 

ترجمہ: بہترین قرن میرا ہے، پھر ان لوگوں کا جو اس سے متصل ہے، پھر ان لوگوں کا جو اس سے متصل ہے، راوی کہتے ہیں کہ مجھے یہ یاد نہیں رہا کہ متصل لوگوں کا ذکر دو مرتبہ فرمایا یا تین مرتبہ، اس کے بعد ایسے لوگ ہوں گے جو بے کہے شہادت دینے کو تیار نظر آویں، خیانت کریں گے، امانت دار نہ ہوں گے، عہد شکنی کریں گے معاہدے پورے نہ کریں گے اور ان میں (بوجہ بے فکری کے) مٹاپا ظاہر ہو جائے گا۔

اس حدیث میں متصل آنے والے لوگوں کا اگر دو مرتبہ ذکر فرمایا ہے تو دوسرا قرن صحابہؓ اور تیسرا تابعین کا ہے اور اگر تین مرتبہ ذکر فرمایا ہے تو چوتھا قرن تبع تابعین کا بھی اس میں شامل ہوگا۔

2: صحیحین اور ابوداؤد و ترمذی میں حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

لَا تَسُبُّو٘ا أَصْحَابِي فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدِ ذَهَبًا مَابَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِي٘فَهُ(جمع الفوائد)

ترجمہ: میرے صحابہؓ کو برا نہ کہو، کیونکہ تم میں سے کوئی آدمی اگر احد پہاڑ کے برابر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو صحابی کے ایک مد بلکہ آدھے مد کے برابر بھی نہیں ہو سکتا۔

مد عرب کا ایک پیمانہ ہے جو وزن کے لحاظ سے آج کل کے مروج تقریباً ایک سیر کے برابر ہوتا ہے۔ اس حدیث نے بتلایا کہ رسول اللہﷺ کی زیارت و صحبت وہ نعمتِ عظیمہ ہے جس کی برکت سے صحابی کا ایک عمل دوسروں کے مقابلے میں وہ نسبت رکھتا ہے کہ ان کا ایک سیر بلکہ آدھا سیر دوسروں کے پہاڑ برابر وزن سے بڑھا ہوا ہوتا ہے، ان کے اعمال کو دوسروں کے اعمال پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔

اس حدیث کے شروع میں جو یہ ارشاد ہے: لَا تَسُبُّو٘ا أَص٘حَابِی٘ یعنی میرے صحابہؓ پر سبّ نہ کرو، لفظِ ”سبّ“ کا ترجمہ اُردو میں عموماً ”گالی دینا“ کیا جاتا

ہے، جو اس لفظ کا صحیح ترجمہ نہیں، کیونکہ ”گالی“ کا لفظ اردو زبان میں فحش کلام کے لیے آتا ہے، حالانکہ لفظ ”سبّ“ عربی زبان میں اس سے زیادہ عام ہے، ہر اس کلام کو عربی میں ”سبّ" کہا جاتا ہے جس سے کسی کی تنقیص ہوتی ہو، گالی کے لیے ٹھیٹ لفظ عربی میں ”شتم“ آتا ہے۔

حافظ ابن تیمیہؒ ”الصارم المسلول“ میں فرمایا کہ: اس حدیث میں لفظ ”سبّ“ ایسے عام معنی کے لیے آیا ہے جو لعن طعن کرنے کے مفہوم سے عام ہے، اس لیے احقر نے اس کا ترجمہ برا کہنے سے کیا ہے۔

3: ترمذی نے حضرت عبداللہ بن مغفلؓ سے روایت کیا ہے

کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُو٘هُمْ عَرَضًا مِنْ بَعْدِى، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّى أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِى أَبْعْضَهُمْ وَمَنْ اٰذَاهُمْ فَقَدْ اٰذَانِي وَمَنْ اٰذَانِي فَقَدْ اٰذَى اللَّه وَمَنْ أَذَى اللَّه فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ. (جمع الفوائد: جلد 2، صفحہ 491)

صفحہ 12 از 33