مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 11 از 33

لیکن جواب دے دیا جائے گا کہ انہوں نے آپ کے بعد حالت بدل دی تھی یعنی جس حال پر آپ نے ان کو چھوڑا تھا اس حالت پر(بھی) باقی نہ رہے اور کھلے کافر ہو گئے، جو ان کے ظاہری دعوائے اسلام کے اعتبار سے ارتداد تھا۔

ہمارے نزدیک یہ قول اس لئے صحیح ہے کہ آیتِ قرآنیہ: 

يَوۡمَ يَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالۡمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا انْظُرُوۡنَا نَقۡتَبِسۡ مِنۡ نُّوۡرِكُمۡ‌ قِيۡلَ ارۡجِعُوۡا وَرَآءَكُمۡ فَالۡتَمِسُوۡا نُوۡرًا(سورۃ الحدید آیت: 13) 

ترجمہ: جس روز منافق مرد اور منافق عورتیں مسلمانوں سے کہیں گے کہ ذرا ہمارا انتظار کر لو کہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کر لیں، ان کو جواب دیا جائے گا کہ تم اپنے پیچھے لوٹ جاؤ پھر (وہاں سے) روشنی تلاش کرو۔

کے موافق ہے۔ آیت سے صاف ظاہر ہے کہ ابتداء روزِ قیامت میں منافقین، مؤمنین کے ساتھ لگ جائیں گے، بعد میں علیحدگی ہو جائے گی، لفظ ”ارتدوا“ جو حدیثِ بالا کی بعض روایات میں آیا ہے، اس کا مطلب بعض لوگوں نے یہ لیا ہے کہ رسول اللہﷺ کے بعد کچھ لوگ مرتد ہو گئے تھے (العیاذ باللہ)۔

لیکن ہمارے نزدیک حق بات یہ ہے کہ اگر ارتداد سے ارتداد عن الاسلام ہی مراد ہو تب بھی اس سے وہ اعراب مراد ہیں جنھوں نے اسلام کی رُو میں آ کر زبان سے یوں کہہ دیا تھا کہ ہم مسلمان ہیں اور صحیح معنیٰ میں اُن کے دل میں اسلام جاگزیں نہ ہوا تھا جس کو قرآن میں اس طرح ذکر فرمایا:

قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا‌ قُلْ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَلٰـكِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا وَلَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ‌(سورۃالحجرات آیت: 14)

ترجمہ: یہ گنوار کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے، آپ فرما دیجیے کہ تم ایمان تو نہیں لائے لیکن یوں کہو کہ ہم مخالفت چھوڑ کر مطیع ہو گئے اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔

حافظ خطابی رحمۃاللہ نے کیسی اچھی بات لکھی ہے:

لم يرتد من الصحابة أحدٌ وانما ارتد قومٌ من جفاة الأعراب ممن لا نصرة لهٗ فى الدين وذلك لا يوجب قدحاً فى الصحابة المشهورين ويدل قولهٗ أصيحابي بالتصغير على قلة عددهم. (فتح الباری: جلد 11، صفحہ 324)

ترجمہ: حضراتِ صحابہؓ میں سے کوئی بھی مرتد نہیں ہوا، بعض گنوار اعرابی جن کا دین کی نصرت میں کوئی دخل نہیں رہا (صرف زبان سے کلمہ پڑھ لیا) وہ حضرت صدیق اکبرؓ کے زمانے میں مرتد ہو گئے تھے، اس سے مشہور صحابہ کرامؓ کے بارے میں کوئی شک و شبہ پیدا نہیں ہوتا اور خود حدیث کے الفاظ میں ان کو اصحابی کے بجائے ”اصیحابی“ بصیغہ تصغیر لانا بھی اس طرح مشیر ہے۔

 6: قُلۡ هٰذِهٖ سَبِيۡلِىۡۤ اَدۡعُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ عَلٰى بَصِيۡرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِىۡ‌( سورۃ یوسف: آیت 108)

ترجمہ: آپﷺ فرما دیجیے کہ یہ میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف سے دعوت دیتا ہوں بصیرت کے ساتھ میں بھی اور جن لوگوں نے میرا اتباع کیا وہ بھی۔

ظاہر ہے کہ صحابہ کرامؓ سب کے سب ہی رسول اللہﷺ کے تابع و متبع تھے، سب اس میں داخل ہیں۔

7: قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلىٰ عِبَادِهِ الَّذِيْنَ اصْطَفىٰ (سورۃ النمل آیت: 59) (مع قوله تعالىٰ) ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡكِتٰبَ الَّذِيۡنَ اصۡطَفَيۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا فَمِنۡهُمۡ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ‌ وَمِنۡهُمۡ مُّقۡتَصِدٌ وَمِنۡهُمۡ سَابِقٌۢ بِالۡخَيۡرٰتِ بِاِذۡنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الۡفَضۡلُ الۡكَبِيۡرُ(سورۃ فاطر آیت: 32)

ترجمہ: آپﷺ کہہ دیجیے کہ حمد سب اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے ان بندوں پر جن کو اللہ نے منتخب فرمایا ہے۔ (اس کے ساتھ دوسری آیت میں ہے) پھر وارث بنا دیا ہم نے کتاب کا ان لوگوں کو جن کا ہم نے اپنے بندوں میں سے انتخاب کیا، پھر بعض تو ان میں اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض ان میں متوسط درجے کے ہیں اور بعض ان میں وہ ہیں جو خدا کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کیے چلے جاتے ہیں، یہ بڑا فضل ہے۔

اس آیت میں صحابہ کرامؓ کو منتخب بندے قرار دیا گیا ہے، آگے ان ہی کی ایک قسم یہ بھی قرار دی ہے کہ ان میں بعض اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہیں معلوم ہوا کہ اگر کسی صحابی سے کسی وقت کوئی گناہ ہوا بھی ہے تو وہ معاف کر دیا گیا، ورنہ پھر ان کو منتخب بندوں کے ذیل میں ذکر نہ فرمایا جاتا۔

ظاہر ہے کہ کتاب یعنی قرآن کے پہلے وارث جن کو یہ کتاب ملی ہے، صحابہ کرامؓ ہیں اور نصِ قرآنی کی رُو سے وہ اللہ کے منتخب بندے ہیں اور پہلی آیت میں ان منتخب بندوں پر اللہ کی طرف سے سلام آیا ہے، اس طرح تمام صحابہ کرامؓ اس سلامِ خداوندی میں شامل ہیں (کذا ذكره السفاريني في شرح الدرة المضيئۃ).

8: سورۃ حشر میں حق تعالیٰ نے عہدِ رسالت کے تمام موجود اور آئندہ آنے والے مسلمانوں کا تین طبقے کر کے ذکر کیا ہے، پہلا مہاجرین کا، جن کے بارے میں حق تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرمایا:

اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوۡنَ‌

یعنی یہی لوگ سچے ہیں۔

دوسرا انصار کا، جن کی صفات و فضائل ذکر کرنے کے بعد قرآنِ کریم نے فرمایا:

فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‌

یعنی یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

تیسرا طبقہ ان لوگوں کا ہے جو مہاجرین و انصار کے بعد قیامت تک آنے والا ہے، ان کے بارے میں فرمایا:

وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَـنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِىۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا 

ترجمہ: اور وہ لوگ جو بعد میں یہ کہتے ہوئے آئے کہ اے ہمارے پروردگار! ہماری بھی مغفرت فرما اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے والوں سے کوئی بغض نہ کرنا۔

اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابنِ عباسؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سب مہاجرین و انصار صحابہؓ کے لیے استغفار کرنے کا حکم سب مسلمانوں کو دیا ہے اور یہ حکم اس حال میں دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بھی معلوم تھا کہ ان کے باہم جنگ و مقاتلہ بھی ہوگا۔ علماء نے فرمایا کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرامؓ کے بعد اسلام میں اس شخص کا کوئی مقام نہیں جو صحابہ کرامؓ سے محبت نہ رکھے اور ان کے لیے دعا نہ کرے۔

صفحہ 11 از 33