مقامِ صحابہؓ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مقامِ صحابہؓ

  حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ

صفحہ 10 از 33

5: وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ تَحۡتَهَا الۡاَنۡهٰرُ(سورۃ التوبہ آیت: 100)

ترجمہ: اور جو مہاجرین اور انصار (ایمان لانے میں سب سے) سابق اور مقدم ہیں اور (بقیہ اُمت میں) جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے ساتھ ان کے پیرو ہیں، اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس(اللہ) سے راضی ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔

اس میں صحابہ کرامؓ کے دو طبقے بیان فرمائے ہیں، ایک سابقینِ اولین کا، دوسرے بعد میں ایمان لانے والوں کا اور دونوں طبقوں کے متعلق یہ اعلان کر دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہیں، ان کے لیے جنت کا مقام و دوام مقرر ہے، جس میں تمام صحابہ کرامؓ داخل ہیں۔ مہاجرین و انصار سے سابقینِ اولین کون لوگ ہیں؟ اس کی تفسیر میں ابنِ کثیرؒ نے تفسیر میں اور ابنِ عبدالبرؒ نے مقدمہ استیعاب میں سندوں کے ساتھ دونوں قول نقل کئے ہیں، ایک یہ کہ سابقینِ اولین وہ حضرات ہیں جنہوں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ دونوں قبلوں یعنی بیت اللہ اور بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی ہو، یہ قول ابو موسیٰ اشعریؒ، سعید بن مسیبؒ، ابنِ سیرینؒ، حسن بصریؒ کا ہے (ابنِ کثیر)، اس کا حاصل یہ ہے کہ تحویلِ قبلہ بیت المقدس سے بیت اللہ کی طرف جو ہجرت کے دوسرے سال میں ہوئی ہے، اس سے پہلے جو لوگ مشرف باسلام ہو کر شرفِ صحابیت حاصل کر چکے ہیں وہ سابقینِ اولین ہیں۔

دوسرا قول یہ ہے کہ جو لوگ بیعتِ رضوان یعنی واقعہ حدیبیہ واقع سنہ 6ھ میں شریک ہوئے ہیں وہ سابقینِ اولین میں سے ہیں، یہ قول امام شعبیؒ سے روایت کیا گیا ہے۔ (ابنِ کثیر، استیعاب)

قرآنِ کریم نے واقعہ حدیبیہ میں درخت کے نیچے بیعت کرنے والے صحابہؓ کے متعلق عام اعلان فرمایا ہے: لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ إِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ اسی لیے اس بیعت کا نام ”بیعتِ رضوان“ رکھا گیا ہے اور حدیث میں حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

لا يدخل النار أحد ممن بايع تحت الشجرة۔

(ابن عبدالبر بسنده في الاستيعاب)

ترجمہ: نہیں داخل ہوگا جہنم میں کوئی شخص جس نے درخت کے نیچے بیعت کی ہے۔

بہر حال سابقینِ اولین خواہ قبلتین کی طرف نماز میں شریک ہونے والے ہوں یا بیعتِ رضوان کے شرکاء، ان کے بعد بھی صحابیت کا شرف حاصل کرنے والے تمام صحابہ کرامؓ کو حق تعالیٰ نے وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِإِحْسَانٍ میں داخل کر کے شامل فرمایا اور سب کے لئے اپنی رضائے کامل اور جنت کی ابدی نعمت کا وعدہ اور اعلان فرما دیا۔ ابنِ کثیرؒ اس کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں:

يا ويل من أبغضهم أو سبَّهم أو سبَّ بعضهم (الىٰ قوله) فأين هؤلاء من الايمان بالقرآن اذ يسبُّون من رضى الله عنهم (ابن کثیرؒ)

ترجمہ: عذابِ الیم ہے ان لوگوں کے لئے جو ان حضرات سے یا ان میں بعض سے بغض رکھے یا ان کو بُرا کہے، ایسے لوگوں کو ایمان بالقرآن سے کیا واسطہ جو ان لوگوں کو برا کہتے ہیں جن سے اللہ نے راضی ہونے کا اعلان کر دیا۔

اور ابنِ عبدالبرؒ مقدمہ ”استیعاب“ میں یہی آیت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: 

ومن رضى الله عنه لم يسخط عليه أبدا ان شاء اللہ تعالىٰ.

یعنی اللہ جس سے راضی ہو گیا پھر اس سے کبھی ناراض نہیں ہوگا ان شاء اللہ تعالیٰ۔

مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تو سب اگلی پچھلی چیزوں کا علم ہے، وہ راضی اسی شخص سے ہو سکتے ہیں جو آئندہ زمانے میں بھی رضاء کے خلاف کام کرنے والا نہیں ہے، اس لئے کسی کے واسطے رضائے الٰہی کا اعلان اس کی ضمانت ہے کہ اس کا خاتمہ اور انجام بھی اسی حالتِ صالحہ پر ہو گا، اس سے رضائے الٰہی کے خلاف کوئی کام آئندہ بھی نہ ہوگا۔ یہی مضمون حافظ ابنِ تیمیہؒ نے ”شرح عقیدہ واسطیہ“ میں اور سفارینیؒ نے ”شرح درہ مضیہ“ میں بھی لکھا ہے، اس سے ان ملحدین کے شبہ کا ازالہ خود بخود ہو گیا جو یہ کہتے ہیں کہ قرآن کے یہ اعلانات اس وقت کے ہیں جبکہ ان کے حالات درست تھے، بعد میں معاذ اللہ ان کے حالات خراب ہو گئے اس لیے وہ اس انعام و اکرام کے مستحق نہیں رہے، نعوذ باللہ منہ، کیونکہ اس سے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ شروع میں بوجہ انجام سے بے خبری کے راضی ہو گئے تھے، بعد میں یہ حکم بدل گیا، نعوذ باللہ منہ۔

یہاں پہنچ کر شاید کسی کو حدیث انی فرطكم على الحوض سے شبہ ہو، جس میں یہ ہے کہ:

ليرون علىّ أقوام أعرفهم ويعرفونني ثم يحال بيني وبينهم وفى رواية: فأقول: أصحابي، فيقول: لا تدرى ما أحدثوا بعدك (بخاری باب الحوض)

ظاہر الفاظ سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میدانِ حشر میں بعض اصحابِ رسول اللہﷺ حوض پر پہنچیں گے تو ان کو وہاں سے ہٹا دیا جائے گا، گو حدیث کی شرح میں شراحِ حدیث نے طویل کلام کیا ہے اور جن لوگوں کے بارے میں یہ روایت ہے ان کا مصداق متعین کرنے میں کئی اقوال منقول ہیں، مگر ہمارے نزدیک تمام روایات کو دیکھ کر اور حضراتِ صحابہؓ کے بارے میں قرآن و حدیث میں جو فضائل وارد ہوئے ہیں، ان کو سامنے رکھ کر امام نوویؒ کا قول صحیح معلوم ہوتا ہے، حافظ ابِن حجرؒ متعدد اقوال کے ذیل میں لکھتے ہیں:

وقال النووى: هم المنافقون والمرتدون فيجوز أن يحشروا بالغرة والتحجيل لكونهم من جملة الأمة فيناديهم من أجل السيما التي عليهم فقال انهم بَدَّلوا بعدك أي لم يموتوا على ظاهر ما فارقتهم عليه، قال عياض وغيره: وعلىٰ هذا فيذهب عنهم الغرة والتحجيل ويطفاء نورهم. (فتح الباری: جلد 11، صفحہ 324)

ترجمہ: امام نوویؒ نے فرمایا کہ: اس حدیث کا مصداق منافقین ہیں اور وہ لوگ جو(دل سے زمانہ نبوت میں بھی مسلمان نہ تھے بلکہ ظاہراً اسلام کے نام کو اپنائے ہوئے تھے) وفاتِ نبویﷺ کے بعد ظاہری اسلام سے پھر گئے، چونکہ یہ لوگ بھی مسلمانوں کے ساتھ دکھاوے کا وضو کرتے تھے اور نماز میں آتے تھے اس لیے ان کے ہاتھ پاؤں بھی وضو کے اثر سے سفید ہوں گے، ان کی اس علامت کی وجہ سے رسول اللہﷺ پکاریں گے،

صفحہ 10 از 33