دھوکہ نمبر 8 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دھوکہ نمبر 8

  شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

صفحہ 4 از 4

خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن مجید کی اعرابی حالت کی توجیہ کرنے کو قرآن کی مخالفت کہنا اس شخص کے لیے ہرگز زیبا نہیں جس میں ذرا عقل بھی ہو۔ ہاں اگر قرآن کے الفاظ و کلمات کا جو انکار کرے وہ ضرور قرآن کی مخالفت کرتا ہے، جیسا کہ یہ شیعہ کہتے ہیں کہ قرآن میں الی المرافق کا لفظ نہیں ہے بلکہ من المرافق ہے۔ اسی طرح قرآن کے کسی حکم کا انکار کرنا یا اس کے کسی عام حکم کو خاص کرنا قرآن کی مخالفت ہے۔

چنانچہ شیعہ کہتے ہیں کہ باپ کی میراث میں سے تلوار، قرآن، انگوٹھی اور بدنی پوشاک بڑے بیٹے کا مخصوص حق ہے اس کے علاوہ اور بھی مال اگر چھوڑا ہو تو اس سے بھی حصہ لے گا، اس طرح شوہر کی میراث میں زمین، جاگیر، مکان، جانوروں، ہتھیاروں اور باغات میں بیوی کا حصہ نہیں مانتے۔ حالانکہ قرآن مجید، ان ہر دو کے میراث میں حصہ اور حقوق بلا کسی تخصیص اور صاف صاف بتاتا ہے چنانچہ مطہر علی نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔ اسی طرح مہاجرین و انصار رضوان اللّٰه علیہم کے متعلق مدح کی آیات کو ایک خاص زمانہ تک مخصوص کرنا۔ یا ان میں سے بعض کو مدح و تعریف کے لیے مخصوص کرنا قرآن کی سراسر مخالفت ہے۔ (نعوذ بااللّٰہ)


صفحہ 4 از 4