دھوکہ نمبر 8 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دھوکہ نمبر 8

  شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

صفحہ 3 از 4

2_ رویٰ محمد بن النعمان عن ابی بصیر عن ابی عبد اللّہ علیہ السلام قال اذا نسیت مسح رأسک حتٰی تغسل رجلیک فامسح راسک ثمہ اغسل رجلیک۔

“محمد بن نعمان نے ابی بصیر سے اور انہوں نے ابو عبد اللَّہُ علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا کہ اگر سر کا مسح بھول جائے اور پاؤں بھی دھو لے تو اب سر کا مسح کر اور پاؤں پھر دھو۔”

اس روایت کو کلینی اور ابو جعفر طوسی دونوں نے صحیح سندوں سے روایت کیا ہے۔ اس میں نہ ضعف کی گنجائش ہے نہ تقیہ کی کیونکہ مخاطب مخلص شیعہ تھا۔

3_ وروی محمد بن الحسن الصفار عن زید بن علی عن ابیہ عن جدہ عن امیر المومنین قال جلست اتوضاء فاقبل رسول اللَہ صلی اللَہ علیہ وسلم فلما غسلت قدمی قال یا علی خلل بین الاصابع۔

محمد بن حسن صفار نے زید سے زید نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا سے اور انہوں نے امیر المومنین حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ سے روایت بیان کی، کہ حضرت علی نے فرمایا کہ میں وضو کرنے بیٹھا تھا کہ رسولﷺ تشریف لے آئے، جب میں نے پاؤں دھوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا علی، انگلیوں میں خلال بھی کر لو۔

اس طرح کی اور روایات بھی ان کی کتب صحیحہ میں موجود ہیں۔

اس بیان سے یہ دو باتیں معلوم ہوئیں۔ اوّل تو یہ کہ شیعہ حضرات کو چاہیے کہ بموجب قواعد اصول مسح و غسل ہر دو کو جائز رکھیں نہ صرف مسح کو، دوسرے یہ کہ اگر اہل سنت غسل کی روایت کو جس کی سند پر دونوں کا اتفاق ہے۔ احتیاطً اختیار کریں اور مسح کی روایت کو جس کی سند مختلف فیہ ہے، نظر انداز کر دیں تو وہ ہر گز قابل الزام اور لائق ملامت نا ہوں گے۔ خصوصاً جب کہ شریف رضی نے نہج البلاغہ میں امیر المومنین سے روایت کرتے ہوئے نبی کریمﷺ کے وضو کی روایات بیان کی ہیں جن میں پاؤں کا دھونا ثابت کیا ہے۔

اسی طرح دیگر صحابہ کرام رضوان اللّٰه علیہم اجمعین نے بھی نبی کریمﷺ سے صرف غسل ہی کی روایت کی ہے۔

اور وہ ضعیف روایات جو بطریق عباد بن تمیم اور اس کے چچا سے مروی ہیں کہ آپ نے وضو کیا اور قدموں پر مسح کیا وہ سب خلشوں سے خالی نہیں۔ اس لیے کہ اوّل تو وہ اس روایت میں منفرد ہے۔ اور عام راویوں سے اپنی روایت میں مختلف دوسرے اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ ممکن ہے۔ اس وقت اپنے پاؤں میں موزے پہن رکھے ہوں اور راوی نے موزے نہ دیکھے ہوں صرف مسح کا عمل دیکھا ہو اور تیسرے یہ بھی ممکن ہے کہ راوی نے مسح کا لفظ مجازاً استعمال کیا ہو اور امیر المومنین سے جو روایت بایں الفاظ مروی ہے کہ

مَسَحَ وَجْهَهٗ وَیَدَیْهِ وَ مَسَحَ عَلیٰ رَأسِہٖ وَ رِجْلَیْہِ وَشَرِبَ فَضْلَ طُھُوْرِہٖ قَائِماً وَقَالَ اِنَّ النَّاسَ یَزْعَمُوْنَ اَنَّ الشُّرْبَ قَائمِاً لاَ یَجُوْزُ وَ قَدْرَأَیٰتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُ ھٰذَا وُضُوْءُ مَنْ لَّمْ یُحْدِثُ-

یعنی اپنے چہرے، ہاتھوں، سر اور پاؤں کا مسح کیا اور وضو کا بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پیا اور وضو کا لوگ گمان کرتے ہیں کہ کھڑے ہو کر پانی پینا جائز نہیں تو میں نے رسولﷺ کو دیکھا کہ آپ نے ایسا ہی کیا جیسا کہ میں کیا۔ یہ وضو اس شخص کا ہے جس کا وضو نہ ٹوٹا ہو۔

شیعوں کی طرف سے یہ روایت اس لیے حجت نہیں بن سکتی کہ امر زیر بحث ہے بے وضو کا وضو ہے نہ وضو والے کا وضو۔ کیونکہ محض نظافت و پاکیزگی اطراف تو مسح سے بھی ہو سکتی ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس روایت میں چہرے اور ہاتھوں کا مسح بھی بیان کیا ہے۔ جب کہ خود شیعوں کے ہاں بھی ہاتھوں اور چہرہ کے مسح کا کوئی قائل نہیں گو ان میں سے ایک فرقہ ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللّٰه علیہم اجمعین کی ایک جماعت کا مذہب یہی مسح ہے، جیسے عبد اللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہ، عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ اور ابو ذر اور انس رضی اللّٰہ عنہ۔ حالانکہ یہ محض افتراء ہے، ان اصحاب میں سے کسی سے بھی صحیح طریق پر کوئی ایسی روایت مروی نہیں جس سے معلوم ہو کہ یہ حضرات اس کے قائل تھے۔ بلکہ حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ تو بطورِ شبہ و تعجب یہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم قرآن میں تو مسح ہی کو پاتے ہیں مگر اہلِ اسلام نے غسل ہی کو مانا ہے۔

مطلب یہ کہ حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ کی قرأت کے مطابق قرآن کے ظاہری الفاظ سے تو مسح کا پتہ چلتا ہے لیکن حضورﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللّٰه علیہم اجمعین کا اس پر عمل نہ تھا وہ غسل فرماتے تھے۔ اس سے واضح طور پر یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ زیر کی قرأت قابلِ تاویل اور متروک الظاہر ہے۔

اس سے ایک اور بات یہ بھی ظاہر ہوئی کہ ابو العالیہ، عکرمہ اور شیعی سے جو لوگ یہ روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ مسح کو جائز کہتے تھے۔ محض افتراء اور ان پر بہتان ہے۔

اسی طرح جناب حسن بصری رحمہ اللّٰہ علیہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ مسح اور غسل ہر دو کو جمع کرنے کے قائل تھے۔ جیسے کہ زیدیہ میں سے ناصر کا یہ مذہب ہے۔ تو یہ بھی بہتان اور جھوٹ ہے۔

یہ محمد ابن جریر طبری کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ اختیار کے قائل تھے کہ چاہو مسح کرو اور چاہو تو غسل کر لو۔ یہ بھی جھوٹ ہے۔

درحقیقت شیعہ راویوں نے اس قسم کے جھوٹ گھڑ کر ان کو مشہور کیا ہے، اور بعض اہلِ سنت نے بھی صحیح و ضعیف میں تمیز کیے بغیر بے سند، اس کی روایت کر دی ہے۔

امام طحاوی رحمہ اللّٰہ جو اہل سنت میں آثارِ صحابہ و تابعین کے علم میں بلند مرتبہ کے مالک ہیں عبد الملک بن سلیمان سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے عطاء سے دریافت کیا کہ کیا تم کو کسی صحابی سے ایسی روایت ملی ہے کہ انہوں نے پاؤں پر مسح کیا ہو تو عطا نے جواب دیا کہ نہیں۔

یہ بات بھی جان لینی چاہئیے کہ محمد بن جریر طبری نام کے دو اشخاص ہیں ایک محمد بن جریر بن رستم آملی، اور یہ شیعہ ہے جو کتاب الایضاح والمستر شد در بیاں امامت کا مصنف ہے۔ دوسرے محمد بن جریر بن غالب طبری، ابو جعفر ہے، جو تفسیر ابن جریر اور تاریخ کبیر کا مصنف ہے۔ یہ اہلِ سنت میں سے ہے۔ اور انھوں نے صرف غسل کی روایت کی ہے۔

صفحہ 3 از 4