دھوکہ نمبر 8 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دھوکہ نمبر 8

  شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

صفحہ 2 از 4

شیعہ حضرات کے نزدیک بھی ان دونوں قراءتوں میں دو وجوہ سے تطبیق دی جاتی ہے فرق صرف یہ ہے کہ اہل سنت قرأة نصب کو جس کے ظاہری معنے غسل کے ہیں اصل قرار دیتے ہیں اور قرأة جر کو اسی طرف لوٹاتے ہیں اور شیعہ اس کے بر خلاف کرتے ہیں ۔

پہلی وجہ تطبیق یہ ہے کہ قرأۃ نصب کی صورت میں ارجل کا عطف محل رؤس پر ہو اس صورت میں رؤس اور ارجل (سر پاؤں) ہر دو پر مسح کا حکم ہو گا ۔ اس لئے کہ اس قرأة پر اگر منصوب پر عطف کرتے ہیں تو معطوف اور معطوف علیہ میں اجنبی جملے کا فاصلہ آتا ہے اور یہ جائز نہیں ۔

اور دوسری وجہ یہ ہے کہ واؤ مع کے معنی میں ہو جیسا کہ کہتے ہیں ۔ استوی الماءو الخشية مگر ان دونوں وجوہ پر اہل سنت کی طرف سے چند اعتراضات ہیں اول تو یہ کہ محل پر عطف قرار دینا باجماع فریقین خلاف ظاہر ہے اس صورت میں عطف مغسولات پر ہے ۔اور ظاہر سے انحراف بغیر دلیل ظاہر کے جائز نہیں ، اگر اس پر قراءت جبر کو دلیل ٹھہرائیں جیسا کہ پچھلے کلام سے معلوم ہوا تو وہ قرأة نسب میں ہو سکتا ہے اور اجنبی جملے کا بیچ میں آنے کا سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وامسحو برؤسکم وارجلکم کا تعلق مغسولات سے کچھ نہ ہو اور اگر یہ معنی کئے جائیں کہ دھونے کے بعد اپنے ہاتھوں کو سر پر ملو تو اجنبی کا فصل کیسے ہوا اکثر اہل سنت کا مذہب بھی یہی ہے کہ بقیہ غسل سے مسح کر سکتے ہیں۔

ایک وجہ اعتراض یہ بھی ہے کہ دو متعاطف یا معطوف علیہ میں کسی بھی اہل عربیت کے نزدیک فصل متمنع نہیں۔ بلکہ ان کے ائمہ نے بھی اس کے جائز ہونے کی تصریح کی ہے اور ابوالبقاء نے تو تمام نحویوں کا اس کے جواز پر اجماع نقل کیا ہے۔ ہاں اہل بلاغت کے کلام میں اجنبی کا درمیان میں لانا کسی خاص نکتہ پر مبنی ہوتا ہے۔

ایک اور بات یہ بھی ہے کہ اگر ارجلکم کا عطف محل برؤسكم پر کریں تو ہو سکتا ہے کہ ہم اس سے غسل کے معنی سمجھیں کیونکہ عربی کے مقررہ قوائد میں سے ایک قائدہ یہ بھی ہے کہ جب قرب معنے والے دو فعل ایک جگہ جمع ہوں جن میں سے ہر ایک کا ایک متعلق ہو تو ایک فعل کو حذف کر کے اس کے متعلق کا فعل مذکور پر عطف کرنا گویا اسی کا متعلق ہے۔ عبید بن ربیعہ العادی کا یہ شعر اسی قبیل سے ہے۔

فعلا فروع الایھقان واطفلت بالجبلتین طبائھا و نعامھا

چڑیا ایہقان کی شاخوں پر اور بچے دیے پھاڑوی میں ہرنیوں اور شتر مرغوں نے

یہاں باضت فعل حذف ہوا ، ہاضت نعا مہا۔ اس لئے کہ شتر مرغ بچے نہیں انڈے دیتی ہے اسی قاعدہ کی ایک اور مثال ایک اور شاعر کے کلام سے بھی ملتی ہے ۔

تراہ کان مولاہ یجدع انفہ و عینیہ ان مولاہ کان لہ وفر

تو اسکو دیکھے گا کہ گویا اسکا آقا اس کی ناک کاٹتا ہے۔ اس کی آنکھیں پھوڑتا ہے۔اس کا آقا بہت دولتمند تھا۔

اس شعر میں قاعدہ مذکورہ کے مطابق بفقإ فعل محذوف ہے اس کے متعلق کا عطف فعل مذکورہ کے متعلق پر کر دیا ہے۔

اس قاعدہ کی تیسری مثال میں ایک اور شاعر کا قول ہے۔

اذا ما الغانیات برزت یوما ورجحن الجواجب والعیونا

جب نکلیں کسی دن گانے والیاں کشیدہ ابرو اور سرمہ لگاٸے آنکھوں میں۔

یہاں کحلن فعل محذوف ہے یعنی کحلن العیرنا۔

اسی قاعدہ کے مطابق کسی اعرابی کا قول۔

علفتھا تبنا و ماء باردا۔

یہاں سقیتھا فعل محذوف ہے جس کا متعلق ماء مذکور ہے

تیسرا اعتراض یہ کہ واو کو مع کے معنیٰ میں لینا بغیر قرینے کے جاٸز نہیں اور یہاں ایسا کوئی قرینہ موجود نہیں بلکہ اس کے خلاف قرینہ موجود ہے۔

حاصل کلام یہ ہے کہ جب دونوں طرف تطبیق کی وجوہ ہیں تو اب سوال ترجیح کا رہ جاتا ہے۔ اس کے لیے اہلسنت کے محققین احادیث نبویہﷺ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور انہی کو بسبب ترجیح قرار دیتے ہیں ۔کیونکہ قرآنی معانی کو یہی حل کرتی ہیں۔ پھر زیر بحث وضو ایسا عمل ہے جس کو رسالت مابﷺ دن رات میں پانچ مرتبہ عمل میں لاتے تھے۔ اور نو مسلموں کی خاطر ایسے احکام شریعہ کو کھلم کھلا طریقے سے شہرت دیتے تھے۔ جو مسلمان ہوتا تو سب سے پہلے نماز اور اس سے بھی پہلے اسکے شرائط مثلا وضو سیکھنا۔ ان میں سے کسی نے بھی آنحضرتﷺ سے پاؤں پر مسح کرنے کی روایت نہیں کی بلکہ غسل کی ہی روایت کی ہے۔ یہاں تک کہ خود شیعہ اسکے معترف ہیں کہ آنحضرتﷺ سے غسل رجلین کی ہی روایت ہے۔ البتہ شیعہ حضرات یہ کہہ کر بحث ختم کر دیتے ہیں کہ اٸمہ سے ہم کو صحیح روایات پہنچتی ہیں کہ وہ مسح کیا کرتے تھے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اہل سنت جن ائمہ سے غسل کی روایت بیان کرتے ہیں وہ صرف تقیہ تھا۔ اب اس پر اہلسنت کہتے ہیں کہ امامیہ کی کتب صحیحہ میں صاف صاف روایتیں موجود ہیں جن سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ ائمہ اطہار ایسے موقعوں پر جہاں تقیہ کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی تھی پاؤں دھویا کرتے تھے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ غسل کی روایت ائمہ سے اتفاق شدہ ہیں اور مسح کی روایت مختلف فیہ کہ بعض شیعہ روایت کرتے ہیں اور بعض نہیں کرتے۔

بہرحال یہ تو معلوم ہو ہی گیا کہ نبی اکرمﷺ کا فعل بالاجماع غسل ہی کا ہے۔ آنحضرتﷺ سے مسح کی روایت ہر دو فریق میں سے کسی نے نہیں کی، اور یہ بھی ظاہر ہے کہ نبی اکرمﷺ سے زیادہ قرآن کے معانی کو کوئی نہیں سمجھتا تھا اور نہ سمجھ سکتا تھا۔ اس کا ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ غسل کے جو معنیٰ ہم نے سمجھے ہیں وہ عین آنحضرتﷺ کی سمجھ کے مطابق ہیں۔

اور یہیں سے وہ الزام لوٹ گیا کہ فہم آنحضرتﷺ کے بموجب، قرآن کی مخالفت شیعہ کرتے ہیں اہل سنت نہیں۔

سچ ہے جو اپنے بھائی کے لیے گڑھا کھودتا ہے، اس میں خود ہی جا گرتا ہے۔

اور زیادہ تعجب اور اچنبے کی بات یہ ہے کہ ان کے جلیل القدر علماء نے پاؤں دھونے کی روائیتیں اپنی کتابوں میں کی ہیں اور ان کا کوئی جواب نہیں دیا نہ ہی راویوں کا کوئی عذر بیان کیا۔ ان کی اس انوکھی بات کا عذر کوئی ہو سکتا ہے۔ تو صرف یہ کہ دروغ گورا حافظہ نباشد۔ اور عذر نسیان واقعی بالا جماع عذر شرعی ہے۔

اب ذرا ان حضرات کی اس سلسلہ کی روایات کا جائزہ لیتے ہیں، ان میں ایک یہ ہے۔

1_ روی العیاشی من علی بن حمزہ قال سالت ابا ابراہیم عن القدمین فقال تُغسَلاَت غسلا ( علی بن حمزہ سے عیاشی روایت کرتا ہے کہ علی نے ابو ابراہیم سے قدمین کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا یقیناً دھوئے جائیں گے۔

صفحہ 2 از 4