بیعت الرضوان میں - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

بیعت الرضوان میں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

لیکن ان روایات میں کوئی اختلاف نہیں کیوں کہ موت کی بیعت کا مطلب صبر و عدم فرار کی بیعت ہے۔

(السیرۃ النبویۃ فی ضوء المصادر الأصلیۃ: صفحہ، 486)

سب سے پہلے آپﷺ کے دست مبارک پر سیدنا ابوسنان عبداللہ بن وہب الاسدی رضی اللہ عنہ نے بیعت کی۔ (السیرۃ النبویۃ فی ضوء المصادر الأصلیۃ: صفحہ، 486) 

اس کے بعد تمام لوگوں نے بیعت کی۔ 

(زاد المعاد: جلد، 3 صفحہ، 296)

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر تین مرتبہ بیعت کی، شروع میں، درمیان میں اور آخر میں۔ (صحیح السیرۃ النبویۃ: صفحہ، 404)

رسول اللہﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ سے متعلق فرمایا: ’’یہ سیدنا عثمانؓ کا ہاتھ ہے‘‘ اور پھر اپنے دوسرے ہاتھ پر مار کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے بیعت کی۔

اس موقع پر درخت کے نیچے جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے رسول اللہﷺ نے بیعت لی ان کی تعداد ایک ہزار چار سو تھی۔

(السیرۃ النبویۃ فی ضوء المصادر الأصلیۃ: صفحہ، 486)

قرآن کریم میں ان نفوس قدسیہ کا تذکرہ آیا ہے جنہوں نے بیعتِ رضوان میں شرکت کی تھی، اور قرآن و حدیث کے بہت سے نصوص میں ان کے فضائل بیان کیے گئے ہیں۔

1: ارشاد الہٰی ہے:

إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللّٰه يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللّٰه فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا

(سورة الفتح: آیت، 10 

ترجمہ: ’’جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ یقیناً اللہ سے بیعت کرتے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے، تو جو شخص عہد شکنی کرے وہ اپنے نفس پر ہی عہد شکن آتا ہے اور جو شخص اس اقرار کو پورا کرے جو اس نے اللہ کے ساتھ کیا ہے تو اسے عنقریب اللہ بہت بڑا اجر دے گا۔‘‘

2: ارشاد ربانی ہے:

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِی قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا

(سورة الفتح: آیت، 18)

ترجمہ: ’’یقیناً اللہ تعالیٰ مومنوں سے خوش ہو گیا جب کہ وہ درخت کے تلے تجھ سے بیعت کر رہے تھے، ان کے دلوں میں جو تھا اسے اس نے معلوم کر لیا اور اس پر اطمینان نازل فرمایا اور انہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی۔"

3: سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حدیبیہ کے روز ہم سے فرمایا: أنتم خیر اہل الارض۔

ترجمہ: ’’تم روئے زمین میں سب سے بہتر ہو۔‘‘

اس وقت ہم ایک ہزار چار سو تھے اگر میری بینائی کام کرتی تو میں تمہیں اس درخت کا مقام دکھا دیتا جس کے نیچے بیعت ہوئی تھی۔

مسلم: جلد، 3 صفحہ، 1485)

یہ حدیث اصحابِ شجرہ کی فضیلت میں صریح ہے اس وقت مکہ و مدینہ وغیرہ میں مسلمان موجود تھے۔

اس سے بعض شیعہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت پر استدلال کیا ہے بایں طور پر کہ اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ مخاطبین اور ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے درخت کے نیچے آپﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور اس وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نہ تھے، لیکن یہ استدلال باطل ہے، کیوں کہ رسول اللہﷺ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے بیعت کی تھی، لہٰذا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس خیر میں ان کے مساوی قرار پائے اور حدیث میں بعض کو بعض پر فضیلت دینا مقصود نہیں ہے۔

(فتح الباری: جلد، 7 صفحہ، 443)

حدیبیہ کے سلسلہ میں محب طبری نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے چند خصائص کا تذکرہ کیا ہے:

1: جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی اور اس وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ موجود نہ تھے تو رسول اللہﷺ نے اپنے ہاتھ کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرار دیا۔

2: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ کا پیغام مکہ میں قیدی مسلمانوں تک پہنچایا۔

3: ترکِ طواف کے سلسلہ میں ان کی موافقت کی شہادت رسول اللہﷺ نے دی۔

(الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ: صفحہ، 490، 491)

4: سیدنا ایاس بن سلمہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھ کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے بیعت کی تو لوگوں نے کہا: ابو عبداللہ کو بحالتِ امن طواف مبارک ہو، تو نبی کریمﷺ نے فرمایا: جب تک میں طواف نہ کروں سیدنا عثمانؓ طواف نہیں کر سکتے۔

(الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ: صفحہ، 491 اس کی سند میں ضعف ہے۔)

یہ اتہام لگا کر لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر ظلم ڈھایا ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کے ہاتھ پر بیعت میں شرکت نہیں کی اور غائب رہے۔ ارکانِ خلافت کو ڈھانے کے لیے فتنہ رچایا گیا اور اس سلسلہ میں جو اتہامات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر باندھے گئے انہی میں سے ایک اتہام یہ بھی ہے۔

(ذوالنورین مع النبیﷺ: صفحہ، 32)

ان شاء اللہ اس کی تفصیل عنقریب آئے گی۔ 

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے جب بیعتِ رضوان کا حکم فرمایا اس وقت رسول اللہﷺ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو مکہ بھیج رکھا تھا، لوگوں نے بیعت کی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: سیدنا عثمانؓ اللہ و رسولﷺ کی ضرورت میں لگے ہیں، پھر آپﷺ نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے رسول اللۂﷺ کا ہاتھ لوگوں کے اپنے ہاتھوں سے بہتر تھا۔

(سنن الترمذی: جلد، 2 صفحہ، 370 سیر سلف الصالحین: جلد، 1 صفحہ، 181۔ اس کی سند ضعیف ہے اور حدیث صحیح ہے لیکن اس حدیث کو محدث البانی رحمۃ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ ضعیف سنن الترمذی: صفحہ، 421۔ 422 مترجم)


صفحہ 2 از 2