بیعت الرضوان میں - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

بیعت الرضوان میں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

بیعت الرضوان میں

بیعتِ رضوان کے موقع پر جب رسول اللہﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر نزول فرمایا اور آپﷺ نے سوچا کہ ایک خصوصی سفیر قریش کے پاس روانہ فرمائیں جو ان کے سامنے آپﷺ کے مقصد و موقف کی وضاحت کر دے کہ آپﷺ صلح و آشتی کا پیغام لے کر آئے ہیں قتال کا کوئی ارادہ نہیں، مقاماتِ مقدسہ کے احترام کے آپﷺ حریص ہیں، عمرہ کرنے آئے ہیں، عمرہ ادا کر کے مدینہ واپس ہو جائیں گے اس سلسلہ میں اولاً انتخاب سیدنا خراش بن امیہ الخزاعی رضی اللہ عنہ کا ہوا، آپﷺ نے ثعلب نامی اونٹ پر سوار کر کے انہیں روانہ کیا، لیکن جب یہ مکہ پہنچے تو قریش نے ان کے اونٹ کو مار ڈالا اور سیدنا خراش رضی اللہ عنہ کے قتل کے درپے ہوئے لیکن احابیش نے انہیں بچا لیا۔ سیدنا خراش رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں واپس آ کر قریش کی رپورٹ پیش کی۔ آپﷺ نے دوسرا سفیر روانہ کرنے کا ارادہ فرمایا جو آپﷺ کا پیغام قریش کو پہنچا سکے۔ آپﷺ کی نظر انتخاب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر پڑی۔

(غزوۃ الحدیبیۃ، ابو فارس: صفحہ، 73)

 لیکن آپؓ نے معذرت پیش کی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس اہم مہم کے لیے منتخب کرنے کا مشورہ دیا،

(المغازی، محمد بن عمر الواقدی: جلد، 2 صفحہ، 600)

اور اس سلسلہ میں واضح دلائل پیش کیے کیوں کہ ایسے شخص کے لیے جو دشمن کے پاس اتنی اہم مہم پر جا رہا ہو ضروری ہے کہ اس کی حفاظت و حمایت کے اسباب مہیا ہوں اور یہ چیز حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حاصل نہ تھی اسی لیے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس مہم پر روانہ کرنے کا مشورہ دیا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا خاندان مکہ میں موجود تھا اور انہیں قوت حاصل تھی، وہ آپؓ کو مشرکین کی ایذا رسانی سے بچا سکتے تھے، اور اس طرح وہ آپﷺ کا پیغام قریش کو اچھی طرح پہنچا سکتے تھے۔ (المغازی: جلد، 2 صفحہ، 600)

چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا: مجھے اپنے سلسلہ میں قریش سے ڈر ہے۔ ان کے تئیں میری عداوت معروف ہے اور مکہ میں بنو عدی کا ایسا کوئی فرد نہیں جو ان کے مقابلہ میں میری حمایت کر سکے، لیکن پھر بھی اگر آپﷺ چاہتے ہیں تو میں ان کے پاس جانے کے لیے تیار ہوں۔ (المغازی: جلد، 2 صفحہ، 600)

 اس پر رسول اللہﷺ نے کچھ نہیں کہا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ میں ایک ایسے شخص کی نشان دہی کرتا ہوں جو مکہ میں مجھ سے زیادہ معزز اور اس کے خاندان کے افراد زیادہ طاقتور ہیں وہ سیدنا عثمان بن عفانؓ ہیں۔ رسول اللہﷺ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: تم قریش کے پاس جاؤ اور انہیں بتاؤ کہ ہم کسی سے قتال کرنے نہیں آئے ہیں، ہم خانہ کعبہ کی زیارت اور اس کی حرمت کی تعظیم کے لیے آئے ہیں، ہمارے ساتھ ہدی کے جانور ہیں ہم انہیں ذبح کریں گے اور واپس ہو جائیں گے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس مہم پر روانہ ہوئے، بلدح مقام پر پہنچے تو قریش کے لوگ انہیں وہاں ملے، انہوں نے آپؓ سے سوال کیا کہاں جا رہے ہیں؟ فرمایا: مجھے رسول اللہﷺ نے تمہارے پاس بھیجا ہے۔ وہ تمہیں اللہ اور اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں، یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے دین کو ظاہر اور اپنے نبیﷺ کو غالب کر کے رہے گا۔ اگر یہ منظور نہیں ہے تو تم ان کا راستہ چھوڑ کر خاموش ہو جاؤ، دوسروں کو اس کے لیے چھوڑ دو، اگر وہ محمدﷺ پر غالب آ گئے تو تمہارا مقصد پورا ہو گیا اور اگر محمدﷺ غالب آ گئے تو پھر تمہیں اختیار ہو گا چاہے تم اس دین میں داخل ہو جاؤ جس میں لوگ داخل ہوئے ہیں یا پھر تم ان سے اس حالت میں قتال کرو جب کہ تمہاری تعداد زیادہ ہو اور قوت و طاقت حاصل ہو، کیوں کہ فی الحال جنگ نے تمہیں کمزور کر دیا ہے اور سورماؤں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنی گفتگو جاری رکھے ہوئے تھے جو کفار کو ناگوار گزر رہی تھی، وہ آپؓ کی باتوں کو یہ کہہ کر ٹالتے جاتے تھے کہ جو آپؓ کہہ رہے ہیں ہم نے سن لیا ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ وہ زبردستی مکہ میں داخل نہیں ہو سکتے، آپؓ واپس جائیں اور اپنے ساتھی سے کہہ دیں کہ وہ یہاں نہیں آ سکتے۔ یہ موقف دیکھ کر ابان بن سعید بن العاص نے آپ کو خوش آمدید کہا اور پناہ دی اور کہا آپ اپنی مہم سے رکیں نہیں پھر وہ اپنے گھوڑے سے اترا اور سیدنا عثمانؓ کو اپنے ساتھ سوار کر لیا اس طرح سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مکہ میں داخل ہوئے۔فرداً فرداً سردارانِ قریش سے ملاقات کی۔ ابو سفیان بن حرب، صفوان بن امیہ وغیرہم جن سے بلدح میں ملاقات کی تھی، اور وہ لوگ جن سے صرف مکہ میں مقالات ہوئی سب ہی آپ کی بات کو یہ کہہ کر ٹالتے رہے کہ ’’محمدﷺ کبھی مکہ میں داخل نہیں ہو سکتے۔‘‘ 

(زادالمعاد: جلد، 3 صفحہ، 290 السیرۃ النبویۃ، ابنِ ہشام: جلد، 3 صفحہ، 344)

مشرکین نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے پیش کش کی کہ وہ خانہ کعبہ کا طواف کر لیں، لیکن آپؓ نے انکار کر دیا۔ 

(زادالمعاد: جلد، 3 صفحہ، 290)

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مستضعفینِ مکہ کو رسول اللہﷺ کا پیغام پہنچایا، اور جلد مشکلات سے نجات پانے کی بشارت سنائی۔ 

(زادالمعاد: جلد، 3 صفحہ، 290) 

اور ان سے زبانی پیغام رسول اللہﷺ کو سلام بھیجا تھا اور یہ کہا تھا کہ جو ذات آپﷺ کو حدیبیہ پہنچا سکتی ہے وہ اس بات پر قادر ہے کہ آپﷺ کو مکہ کے اندر داخل کر دے۔

(غزوۃ الحدیبیۃ، ابو فارس: صفحہ، 85)

ابھی آپؓ مکہ ہی میں اپنی مہم میں لگے ہوئے تھے کہ مسلمانوں میں یہ افواہ گردش کرنے لگی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ قتل کر دیے گئے، ان حالات کے پیشِ نظر رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مشرکین سے قتال کے سلسلہ میں بیعت کی دعوت دی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپﷺ کی اس دعوت پر لبیک کہتے ہوئے آپﷺ کے ہاتھوں پر موت کی بیعت کی۔ (صحیح البخاری: صفحہ، 4169)

صرف جد بن قیس نے اپنی منافقت کی وجہ سے بیعت نہ کی۔

(السیرۃ النبویۃ فی ضوء المصادر الأصلیۃ: صفحہ، 486)

ایک روایت میں ہے کہ یہ بیعت صبر کی تھی۔ (صحیح البخاری: صفحہ، 4169) 

اور ایک روایت میں ہے کہ عدم فرار کی بیعت تھی۔ (صحیح مسلم: صفحہ، 1856)

صفحہ 1 از 2