رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت مدینہ - دفاعِ…

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت مدینہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 5 از 5

فضائل صحابہ میں امام احمد رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اور کبھی آگے چلتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا: یا رسول اللہ! جب آپ کے سامنے سے دشمن کے آنے کا خوف محسوس کرتا ہوں تو آپ کے آگے آ جاتا ہوں۔ جب غار میں پہنچے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ٹھہریں پہلے میں غار صاف کر دوں…… جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دیکھا غار میں ایک سوراخ ہے تو اس پر اپنا قدم رکھ کر بند کیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہو سکتا ہے اس میں سانپ و بچھو ہوں، وہ مجھی کو ڈنک ماریں آپ اس سے محفوظ رہیں۔ (منہاج السنۃ: جلد، 4 صفحہ، 262 اور 263) آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف گوارا نہ تھی بلکہ آپ یہ گوارا نہیں کر سکتے تھے کہ آپ کے ہوتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کیا جائے، آپ جان و مال اور اہل و عیال سب کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر قربان کرنے کے لیے تیار رہتے تھے اور یہ تو ہر مومن کا فریضہ ہے، صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں سب سے آگے تھے۔

(منہاج السنۃ: جلد،4 صفحہ، 263)

اللہ تعالیٰ کی معیت خاصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے:

(إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا)’’یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘ کا ارشاد اس بات کی صریح دلیل ہے کہ آپ کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس معیت کا شرف حاصل تھا جس میں مخلوق میں سے کوئی آپ کا شریک نہیں، یہ آپ ہی کا نصیب تھا…… یہاں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ کی نصرت و تائید اور دشمن سے مقابلہ میں تعاون ومدد ان کے شامل حال رہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خبر دی کہ ابوبکر! اللہ ہماری بھی مدد کرے گا اور تمہاری بھی، ہم پر دشمن غالب نہیں آئیں گے۔ ارشاد ربانی ہے:

إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ (سورۃ غافر: آیت، 51)

’’یقینا ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی مدد زندگانی دنیا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جب گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے۔‘‘

یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے انتہائی درجہ کی مدح و تعریف ہے کیونکہ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اس ایمان کی شہادت دی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے لیے الٰہی نصرت و تائید کا متقاضی ہے حالانکہ ان حالات میں اگر نصرت الٰہی شامل حال نہ ہو تو عام طور سے لوگ ناکام ہو جاتے ہیں۔

(منہاج السنۃ: جلد، 4 صفحہ، 242 اور 243)

ڈاکٹر عبدالکریم زیدان اس آیت کریمہ میں معیت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ کے ارشاد (إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا)سے جو زبانی معیت مستفاد ہوتی ہے وہ اس معیت سے اعلیٰ وارفع ہے جو اہل تقویٰ واحسان کو حاصل ہوتی ہے، جو اس قول الٰہی میں مذکورہے: إِنَّ اللَّـهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوا وَّالَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ (سورۃ النحل: آیت، 128) ’’یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ پرہیز گاروں اور نیکو کاروں کے ساتھ ہے۔‘‘ کیونکہ (إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا) میں جس معیت کا ذکر ہے وہ کسی صفت و فعل کے ساتھ مقید نہیں جیسا کہ یہاں تقویٰ واحسان کی صفت سے مقید ہے۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ذات کے ساتھ مطلق ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص ہے اور اس معیت کی تائید آیات و معجزات اور خوارق عادات سے کی گئی ہے۔‘‘

(المستفاد من قصص القرآن: جلد، 2 صفحہ، 100)

سکینت و نصرت کے نزول کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق رہے:

ارشاد الہٰی ہے:

فَأَنزَلَ اللَّـهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا (سورۃ التوبۃ: آیت، 40)

ترجمہ: ’’پس جناب باری نے اپنی طرف سے تسکین اس پر نازل فرما کر ان لشکروں سے اس کی مدد کی جنہیں تم نے دیکھا ہی نہیں۔‘‘

جب خوف کی حالت میں آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں رہے تو بدرجہ اولیٰ نصرت وتائید کے نزول کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں رہے، اس لیے دلالت کلام اور دلالت حال کی وجہ سے اس حالت میں رفاقت کے ذکر کرنے کی ضرورت نہ رہی اور جب یہ بات واضح ہے کہ آپ اس حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو جو نصرت و تائید اور سکینت کا نزول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوا اس میں دوسروں کی بہ نسبت سب سے بڑا حصہ آپ کو نصیب ہوا۔ یہ قرآن کی بلاغت اور حسن بیان میں سے ہے۔


صفحہ 5 از 5