رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت مدینہ - دفاعِ…

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت مدینہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 5

مختلف چیلنجوں اور مشکلات کا سفر شروع ہوا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام پر غالب آئے اور امت اسلامیہ اور اسلامی حکومت کو روشن مستقبل میں پہنچایا، جس نے روم و فارس کی عظیم سپر طاقتوں پر غلبہ حاصل کرنے کے بعد ایمان و تقویٰ اور عدل واحسان کی بنیاد پر تابناک انسانی تہذیب وتمدن کو وجود بخشا۔ (الہجرۃ فی القرآن الکریم: 355) ابوبکر رضی اللہ عنہ آغاز دعوت سے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک آپ کا دایاں بازو رہے۔ آپ پوری خاموشی اور گہرائی سے سرچشمہ نبوت سے ایمان و حکمت، یقین وعزیمت اور تقویٰ و اخلاص کے گہر چن رہے تھے۔ اس صحبت و رفاقت کے نتیجہ میں صلاح و صدیقیت، ذکر و بیداری، محبت و صفا، عزیمت و منصوبہ بندی، اخلاص وفہم کے ثمرات سے آپ کا دامن بھر گیا اور سقیفہ بنو ساعدہ، لشکر اسامہ کی روانگی اور فتنہ ارتداد کا قلع قمع کرنے کے سلسلہ میں قابل داد موقف نمایاں ہوا اور آپ نے فساد کے بعد اصلاح، تخریب کے بعد تعمیر، تفریق کے بعد جمع اور انحراف کے بعد تقویم کا عظیم کارنامہ انجام دیا۔

(فی التاریخ الاسلامی: شوقی ابوخلیل، 226)

دروس وعبر:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں ہجرت کے واقعہ میں مختلف دروس وعبر اور فوائد ہیں:

اوّلاً: ارشاد ربانی ہے:

إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّـهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا فَأَنزَلَ اللَّـهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَىٰ وَكَلِمَةُ اللَّـهِ هِيَ الْعُلْيَ وَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (سورۃ التوبۃ: آیت، 40)

ترجمہ: ’’اگر تم ان نبی( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مدد نہ کرو تو اللہ ہی نے ان کی مدد کی اس وقت جب کہ انہیں کافروں نے (دیس سے) نکال دیا تھا، دو میں سے دوسرا جبکہ وہ دونوں غار میں تھے، جب یہ اپنے ’’ساتھی‘‘ سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کر، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پس جناب باری نے اپنی طرف سے تسکین اس پر نازل فرما کر ان لشکروں سے اس کی مدد کی جنہیں تم نے دیکھا ہی نہیں۔ اس نے کافروں کی بات پست کر دی اور بلند وعزیز اللہ کا کلمہ ہی ہے۔ اللہ غالب ہے، حکمت والا ہے۔‘‘

اس آیت کریمہ سے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت سات (7) طریقوں سے ثابت ہوتی ہے:

٭ کفار نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نکلنے پر مجبور کیا:

کفار مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے نکلنے پر مجبور کیا، جس کا لازمی تقاضا ہے کہ انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی مکہ سے نکلنے پر مجبور کیا اور یہی حقیقت ہے۔

جس وقت کفار مکہ نے رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے نکالا اور اللہ کی مدد شامل حال ہوئی اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے، آپ دو میں سے دوسرے تھے اور اللہ تعالیٰ تیسرا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ثَانِيَ اثْنَيْنجن مقامات پر دیگر صحابہ آپ کے ساتھ نہ ہوتے وہاں ابوبکر رضی اللہ عنہ ضرور آپ کے ساتھ ہوتے، جیسے سفر ہجرت میں، بدر کے دن سائبان میں ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی آپ کے ساتھ تھے۔ اسی طرح قبائل عرب کی طرف دعوت کے لیے آپ نکلتے تو اکابر صحابہ میں سے ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ ہوتے۔ صحبت ورفاقت کی یہ خصوصیت باتفاق علمائے سیرت آپ ہی کو حاصل تھی۔

آپؓ ہی یار غار ہیں:

یار غار ہونے کی فضیلت نص قرآنی سے ثابت ہے۔ بخاری ومسلم میں انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم غار میں تھے، ہم نے مشرکین کے قدموں کو اپنے سروں کے اوپر دیکھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر ان میں سے کسی نے اپنے قدموں کو دیکھا تو ہمیں دیکھ لے گا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یا ابابکر ما ظنک باثنین اللہ ثالثہما (البخاری: فضائل الصحابۃ، 3653، مسلم: 1854)

’’اے ابوبکر! ان دونوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہو؟‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے اور اس کی صحت پر اہل علم کا اتفاق ہے۔ اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ اس کے مفہوم پر قرآن کی دلالت موجود ہے۔

(منہاج السنۃ: جلد، 4 صفحہ، 240 اور 241)

٭ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب مطلق (ہمہ وقتی ساتھی) ہیں:

ارشاد ربانی ہے:

{اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہِ}

’’جب یہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے۔‘‘

آپ کی صحبت و رفاقت صرف غار کے ساتھ خاص نہیں بلکہ آپ کو رفاقت مطلقہ حاصل تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں کارہائے نمایاں انجام دیے، جس میں کوئی دوسرا آپ کا شریک نہیں لہٰذا کامل صحبت و رفاقت آپ ہی کے لیے خاص ہے۔ سیرت کے ماہرین کا اس میں کوئی اختلاف نہیں، اسی لیے علماء نے کہا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فضائل میں وہ خصائص ہیں جن میں دوسرا کوئی آپ کا شریک نہیں۔(منہاج السنۃ: جلد، 4 صفحہ، 242 تا 245)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑے مہربان اور مشفق تھے:

رسول اللہ کا یہ فرمان (لَا تَحْزَنْ)’’غم نہ کرو‘‘ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑے مہربان اور آپ کو چاہنے والے، آپ کی نصرت و تائید میں فکر مند رہنے والے تھے، اسی لیے ان کو غم لاحق ہوا۔ انسان جب اپنے محبوب پر خوف کھاتا ہے تو غمگین ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ میں خوفزدہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ کہیں کفار آپ کو قتل نہ کر دیں اور پھر اسلام کا سلسلہ ہی ختم ہو جائے۔ اسی لیے سفر ہجرت میں کبھی آپ کے آگے کبھی پیچھے چلتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس کی وجہ ان سے دریافت کی تو بتلایا: جب آپ کی گھات میں بیٹھنے کا خیال آتا ہے کہ کہیں دشمن سامنے سے حملہ آور نہ ہو جائے تو سامنے آ جاتا ہوں اور جب آپ کی تلاش میں نکلنے کا خیال آتا ہے کہ کہیں دشمن پیچھے سے حملہ آور نہ ہو جائے تو پیچھے ہو جاتا ہوں۔

(ابوبکر الصدیق: افضل الصحابۃ واحقہم بالخلافۃ: 43)

صفحہ 4 از 5