رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت مدینہ - دفاعِ…

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت مدینہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 5

’’اگر تم اس (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مدد نہ کرو تو اللہ ہی نے ان کی مدد کی، اس وقت جب کہ انہیں کافروں نے (دیس) سے نکال دیا تھا، دو میں سے دوسرا، جب کہ وہ دونوں غار میں تھے جب یہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کر، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پس جناب باری نے اپنی طرف سے تسکین اس پر نازل فرما کر ان لشکروں سے اس کی مدد کی جنہیں تم نے دیکھا ہی نہیں، اس نے کافروں کی بات پست کر دی اور بلند و عزیز تو اللہ کا کلمہ ہی ہے۔‘‘

جب آپ کی تلاش میں مشرکین کی نقل وحرکت میں کمی آگئی اور وہ آپ کو گرفتار کرنے کے سلسلہ میں مایوس و ناامید ہو گئے تو غار میں تین راتیں گذارنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ غار سے باہر نکلے۔ اس سے قبل ہم یہ بیان کر چکے ہیں کہ سفر ہجرت کے لیے بنو دیل کے عبداللہ بن اریقط نامی شخص کو راستہ کی رہنمائی کے لیے پہلے طے کر لیا گیا تھا اگرچہ وہ مشرک تھا لیکن اس پر مکمل اطمینان ہو جانے کے بعد سواریاں اس کے حوالہ کر دی گئی تھیں اور اس سے یہ بات طے پائی تھی کہ وہ تین راتوں کے بعد ان سواریوں کو لے کر وہاں حاضر ہوگا۔ وعدہ کے مطابق وہ وقت مقررہ پر وہاں پہنچا اور آپ دونوں کو لے کر عام راستہ سے ہٹ کر غیر معروف و معہود راستہ سے چلا، تاکہ پیچھا کرنے والے کفار ومشرکین کو سراغ نہ مل سکے۔

(المستفاد من قصص القرآن: زیدان، جلد، 2 صفحہ، 101)

سفر ہجرت میں آپ کا گذر وادی قدید (وادی قدید موجودہ سڑک سے تقریباً 8 کلو میٹر پر واقع ہے، اسی وادی میں بنو خزاعہ آباد تھے۔) میں ام معبد عاتکہ بنت خالد الخزاعیہ کے خیمہ کے پاس سے ہوا، ان کے بھائی حبیش بن خالد الخزاعی نے ان کا واقعہ بیان کیا ہے، سیرت نگاروں نے اپنی تصانیف میں اس کو جگہ دی ہے۔ علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ اس قصہ سے متعلق فرماتے ہیں: ’’یہ قصہ مشہور ہے اور مختلف طرق سے مروی ہے جس سے اس کو تقویت مل جاتی ہے۔‘‘

(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 3 صفحہ، 188)

قریش نے مکہ میں یہ عام اعلان کر رکھا تھا کہ جو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ یا مردہ لائے گا اس کو سو اونٹ انعام میں دیے جائیں گے۔ یہ خبر مکہ کے قرب وجوار میں آباد قبائل عرب میں بھی پھیل چکی تھی۔ سراقہ بن مالک بن جعشم کو یہ انعام حاصل کرنے کا شوق دامن گیر ہوا، اس نے یہ انعام حاصل کرنے کی پوری کوشش کی، لیکن اللہ رب العزت کی قدرت پر کون غالب آسکتا ہے، اللہ کا کچھ ایسا کرنا ہوا کہ نکلے تو تھے گرفتار کرنے کے لیے لیکن آپ کی طرف سے دفاع کرنے والا بن کر لوٹے۔

(السیرۃ النبویۃ للصابی: جلد، 1 صفحہ، 543)

جب مسلمانان مدینہ کو مکہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کوچ کرنے کی خبر ملی توبے حد خوش ہوئے اور آپ کے انتظار میں روزانہ صبح مدینہ سے باہر نکلتے اور دوپہر تک انتظار کرتے، جب گرمی کی شدت بڑھ جاتی تو واپس ہو جاتے، ایک دن جب انتظار کر کے اپنے گھروں کو واپس ہو گئے تو ایک یہودی اپنے مکان پر کسی کام سے چڑھا۔ اس کی نگاہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رفقاء پر پڑی جو نہایت سفید اور صاف وشفاف لباس میں ملبوس تھے۔

یہودی اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکا اور بلند آواز سے پکارا: عرب کے لوگو! یہ تمہارا نصیب آ پہنچا ہے جس کا تمہیں انتظار تھا۔ یہ آواز سن کر مسلمان اسلحہ لے کر استقبال میں نکل پڑے اور حرہ کے پیچھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ دائیں جانب مڑے اور قبا میں بنو عوف کے پاس نزول فرمایا۔ یہ دوشنبہ (حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: دو شنبہ کا دن ہونا ہی صحیح ہے، جمعہ کہنا شاذ ہے۔ الفتح: جلد، 4 صفحہ، 544) کا دن اور ربیع الاوّل کا مہینہ تھا۔ (الہجرۃ فی القرآن الکریم: 351، البخاری: مناقب الانصار، باب الہجرۃ 3906) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دھوپ پڑنے لگی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی چادر سے سایہ کیا، تب آنے والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانا، ورنہ بہت سے لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہی رسول اللہ سمجھ رہے تھے۔

(الہجرۃ فی القرآن الکریم: 352، البخاری: مناقب الانصار، باب الہجرۃ 3906)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہنچنے کا دن خوشی ومسرت کا دن تھا، ایسا دن مدینہ پر نہیں آیا تھا۔ لوگوں نے عید کی طرح اچھے اور خوبصورت کپڑے زیب تن کیے، اور حقیقت میں یہ عید ہی کا دن تھا کیونکہ آج کے دن اسلام مکہ کے تنگ دائرہ سے نکل کر با برکت سر زمین مدینہ کے وسیع میدان میں داخل ہوا اور پھر وہاں سے پوری روئے زمین میں پھیلا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل مدینہ کو جس شرف ومنزلت سے نوازا اور جو فضیلت ان کو بخشی اس کا انہیں بخوبی احساس تھا۔ ان کا شہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم کے لیے پناہ گاہ قرار پایا، اور پھر نصرت اسلام کا مرکز بنا۔ اسی طرح تمام خصائص و عناصر کے ساتھ اسلامی نظام کا مرکز قرار پایا، اسی لیے مدینہ والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر خوشی ومسرت کے ساتھ ((اللہ اکبر جاء رسول اللہ، اللہ اکبر جاء محمد)) کا نعرہ لگاتے ہوئے آپ کے استقبال میں نکل پڑے۔

(الہجرۃ فی القرآن الکریم: 352، البدایۃ والنہایۃ: جلد، 3 صفحہ، 197)

اس عظیم استقبال کے بعد، جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں دیکھی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر قیام پذیر ہوئے،(الہجرۃ فی القرآن الکریم: 354) اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خارجہ بن زید الخزرجی الانصاری رضی اللہ عنہ کے گھر قیام فرمایا۔

صفحہ 3 از 5