رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت مدینہ - دفاعِ…

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت مدینہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 5

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے لیے روانہ ہوئے تو علی، ابوبکر اور آل ابوبکر رضی اللہ عنہم کے علاوہ کسی کو اس کی اطلاع نہ تھی اور جب نکلنے کا وقت موعود آیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر کے پچھلے دروازے سے نکلے۔ (الہجرۃ فی القرآن الکریم: 334) تاکہ مکمل رازداری میں اس سفر کا آغاز ہو، کسی کو اطلاع نہ ہونے پائے کیونکہ قریش سے خطرہ تھا کہ وہ آپ کا پیچھا کر کے اس سفر مبارک سے آپ کو روک دیں گے۔ (خاتم النبیین لابی زہرہ: جلد، 1 صفحہ 659)السیرۃ النبویۃ لابن کثیر: جلد، 2 صفحہ، 234) اور مکہ سے نکلتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر: جلد، 2 صفحہ، 230 تا 234) مکہ کے بازار ’’حزورۃ‘‘ میں کھڑے ہو کر فرمایا: 

واللّٰہ انک لخیر ارض اللّٰہ ، واحب ارض اللّٰہ ، الی اللّٰہ ولو لا انی اخرجت منک ما خرجت۔

(الترمذی: المناقب، باب فضل مکۃ جلد، 2 صفحہ، 722 علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ دیکھیے: صحیح الترمذی: 325 و صحیح ابنِ ماجہ: 3109)

’’اللہ کی قسم! اے مکہ اللہ کی سر زمین میں تو سب سے بہتر اور اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔ اگر مجھے تجھ سے نکالا نہ جاتا تو میں نہ نکلتا۔‘‘

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ چل پڑے۔

مشرکین مکہ نے آپ کا پیچھا کیا اور نقوش قدم کے سہارے جبل ثور تک پہنچ گئے، وہاں پہنچ کر نقوش گڈمڈ ہو گئے، کچھ نہ سمجھ سکے، پہاڑ کے اوپر چڑھے، غار کے پاس سے گذرے، دیکھا غار کے منہ پر مکڑی کا جالا ہے، کہا: اگر اس کے اندر کوئی گیا ہوتا تو مکڑی کا جالا نہ رہتا۔

(مسند احمد: ۱/۳۴۸، لیکن یہ روایت ضعیف ہے، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، السلسلۃ الضعیفۃ للالبانی: جلد، 3 صفحہ، 360 تا 364 (1129) مترجم)

ارشاد ربانی ہے:

وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ وَمَا هِيَ (سورۃ المدثر: آیت، 31)

ترجمہ: ’’تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔‘‘

تمام اسباب کو اختیار کرنے کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اسباب پر بھروسہ کر کے نہیں بیٹھے بلکہ اللہ رب العالمین پر مکمل بھروسہ رکھا اور نصرت وتائید کی پوری امید اللہ ہی سے وابستہ رکھی اور اللہ کی سکھائی ہوئی یہ دعا برابر پڑھتے رہے: (الہجرۃ النبویۃ المبارکۃ: 72)

وَقُل رَّبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَل لِّي مِن لَّدُنكَ سُلْطَانًا نَّصِيرًا (سورۃ الاسراء: آیت، 80)

ترجمہ: ’’اور یہ دعا کیا کریں کہ اے میرے پروردگار! مجھے جہاں لے جا اچھی طرح لے جا اور جہاں سے نکال اچھی طرح نکال، اور میرے لیے اپنے پاس سے غلبہ اور امداد مقرر فرما دے۔‘‘

اس آیت کریمہ کے اندر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دعا سکھائی ہے تاکہ آپ خود یہ دعا کریں اور آپ کی امت یہ سیکھے کہ وہ کس طرح اللہ تعالیٰ سے دعا کرے اور کس طرح اس کی طرف متوجہ ہو۔

آغاز و انجام کی سچائی سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پورا سفر آغاز و اختتام، اوّل و آخر اور درمیان سب سچائی کے ساتھ انجام پذیر ہو، اس موقع پر سچائی کی اس حیثیت سے بڑی قیمت و اہمیت ہے کہ مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کلام سے پھیر کر اللہ پر افتراء پردازی پر ابھارنا چاہتے تھے، اس کے لیے وہ ہر ممکن کوشش کر رہے تھے اور اسی طرح سچائی کے آثار و نتائج بے بہا ہیں، مثلاً ثبات، اطمینان، نظافت، اخلاص۔ وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْرًا ’’اور میرے لیے اپنے پاس سے غلبہ و امداد مقرر فرما دے‘‘ تاکہ میں اس کے ذریعہ سے حکومت وسلطنت اور مشرکین کی قوت پر غالب آجاؤں۔ اور {مِنْ لَّدُنْکَ} (اپنے پاس سے) کا کلمہ اللہ سے قرب و اتصال اور اس سے استمداد و التجا کی صحیح تصویر کشی کرتا ہے۔

صاحب دعوت وعزیمت کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اللہ کے سوا کسی اور سے غلبہ وقوت طلب کرے، یا اس کے سوا کسی اور کے غلبہ وقوت سے خوفزدہ ہو۔ اور اس کے لیے ممکن نہیں کہ وہ کسی ایسے حاکم یا صاحب جاہ و مرتبت کا سہارا لے کر نصرت ومدد حاصل کرے جو اللہ کی طرف متوجہ نہ ہو۔ اسلامی دعوت کی تو یہ شان ہے کہ وہ امراء و سلاطین کے دلوں کو فتح کرتی ہے اور وہ لوگ اس کے خادم و لشکر بن کر کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔ لیکن اگر دعوت امراء و سلاطین کی تابع بن جائے تو اس سے اس کو کوئی کامیابی نہیں مل سکتی۔ اسلامی دعوت تو اللہ تعالیٰ کا امر ہے، وہ امراء و سلاطین اور جاہ و حشمت والوں سے کہیں زیادہ ارفع و اعلیٰ ہے۔ (فی ضلال القرآن: جلد، 4 صفحہ، 2247)

جس وقت مشرکین نے غار کو گھیر لیا اور پورا غار ان کی نگاہوں کے سامنے آ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اطمینان دلایا اور اللہ کی معیت کا مژدہ سنایا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر ان میں سے کسی نے اپنے قدموں کی طرف نگاہ ڈالی تو ہمیں دیکھ لے گا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ما ظنک یا ابابکر باثنین اللّٰہ ثالثہما ’’اے ابوبکرؓ ان دونوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا خود اللہ تعالیٰ ہو۔‘‘

(البخاری: فضائل الصحابۃ، باب مناقب المہاجرین 3653، مسلم: 5381)

اللہ رب العالمین نے اس واقعہ کی تصویر کشی اس آیت کریمہ میں کی ہے:

إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّـهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا فَأَنزَلَ اللَّـهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَىٰ وَكَلِمَةُ اللَّـهِ هِيَ الْعُلْيَا ۗوَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (سورۃ التوبۃ: آیت، 40)

صفحہ 2 از 5