رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت مدینہ - دفاعِ…

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت مدینہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 5

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت مدینہ

جب قریش کی ایذا رسانی حد سے بڑھ گئی اور مسلمانوں کو ستانے میں انہوں نے کوئی کسر باقی نہ رکھی، مسلمانوں کے لیے دین پر عمل پیرا رہنا ممکن نہ رہا، تو اس کے نتیجہ میں دو بار ہجرت حبشہ پیش آئی اور مسلمان دین و ایمان کو محفوظ رکھنے کے لیے ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ ہجرت حبشہ کے بعد پھر ہجرت مدینہ کا وقت آیا۔ دیگر صحابہ کی طرح ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کی اجازت چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا تعجل لعل اللّٰہ یجعل لک صاحبا۔ (تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: 107)

’’جلدی نہ کیجیے شاید اللہ تعالیٰ آپ کو میری صحبت میں ہجرت نصیب کرے۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے بعد آپ کی یہی تمنا رہی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں ہجرت کا موقع ملے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا واقعہ ہجرت بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزانہ صبح یا شام ہمارے گھر تشریف لاتے، لیکن جب ہجرت کا الٰہی حکم آیا تو آپ دوپہر میں ہمارے یہاں تشریف لائے۔ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو اس وقت آتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: اس وقت آپ کے آنے کا مطلب ہے کہ ضرور کوئی اہم بات واقع ہوئی ہے۔ آپ گھر میں تشریف لائے، ابوبکر رضی اللہ عنہ چارپائی سے ہٹ گئے اور آپ چارپائی پر جلوہ افروز ہوئے۔ اس وقت وہاں صرف میں اور میری ہمشیر اسماء تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یہاں جو ہیں ان کو ذرا یہاں سے ہٹنے کو کہو۔

ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں، بات کیا ہے؟ یہاں تو صرف میری یہ دونوں بیٹیاں ہیں؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہجرت کا حکم آ گیا۔

ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: مجھے آپ کی رفاقت چاہیے؟

آپ نے فرمایا: تم بھی ہمارے ہی ساتھ چلو گے۔

یہ مژدہ سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے،(سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:) آج سے پہلے مجھے یہ خبر نہ تھی کہ کوئی خوشی میں بھی روتا ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فوراً دو اونٹنیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کرتے ہوئے عرض کیا: یا رسول اللہ! آج ہی کے لیے یہ دو اونٹنیاں میں نے پال رکھی تھیں۔ پھر بنو دیل بن بکر کے ایک فرد عبداللہ بن اریقط کو راستہ کی رہنمائی کے لیے اجرت پر رکھا جو مشرک تھا، اور یہ دونوں اونٹنیاں اس کے حوالے کر دیں تاکہ وقت مقررہ تک ان کی دیکھ بھال کرے۔

(السیرۃ النبویۃ لابن کثیر: جلد، 2 صفحہ، 233 اور 234)

صحیح بخاری میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے جو روایت ہجرت سے متعلق وارد ہے اس میں اہم تفاصیل آئی ہیں۔ اس روایت میں یوں آیا ہے:

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے: ہم دوپہر کی گرمی میں گھر کے اندر بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا: او دیکھو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر مبارک ڈھانکے ہوئے تشریف لا رہے ہیں۔ یہ وقت آپ کی آمد کا نہ تھا۔

آپ نے پہنچ کر ابوبکر سے کہا: جو لوگ یہاں ہیں ان کو ذرا یہاں سے دور کریں۔

ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یہ آپ ہی کے گھر والے ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہاں سے نکل جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: مجھے بھی آپ کی رفاقت چاہیے؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ضرور۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دو اونٹنیاں حاضر کیں۔

عرض کیا: ان میں سے ایک آپ کے لیے ہے، آپ لے لیجئے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بشرط قیمت۔

ام المومنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم نے آپ دونوں کے لیے اچھے طریقے سے سامان سفر تیار کیا اور توشہ تیار کر کے ایک تھیلے میں رکھا، اسماء نے اپنی کمر بند پھاڑ کر تھیلے کو باندھ دیا، اسی وجہ سے ان کا نام ’’ذات النطاقین‘‘ پڑ گیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ غار ثور میں پناہ گزیں ہوئے اور تین راتیں وہاں چھپے رہے۔ عبداللہ بن ابوبکر جو انتہائی ذہین اور فہم و فراست کے مالک نوجوان تھے، غار میں جا کر آپ لوگوں کے ساتھ رات گذارتے اور آخری شب میں وہاں سے مکہ آجاتے گویا کہ آپ نے مکہ ہی میں لوگوں کے ساتھ رات گذاری ہے۔ دن بھر مکہ میں آپ دونوں سے متعلق جو سازشیں ہوتیں ان کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیتے اور جب رات کی تاریکی چھا جاتی تو غار میں پہنچ کر تمام خبریں پہنچا دیتے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام عامر بن فہیرہ کچھ رات گئے بکریاں لے کر وہاں سے گذرتے اور تازہ تازہ دودھ نکال کر آپ دونوں کو پیش کرتے اور صبح سے قبل آخری شب کی تاریکی میں وہاں سے کوچ کر جاتے، تینوں رات یہی کیفیت رہی۔ بنو عبد بن عدی کی شاخ بنو دیل کے ایک شخص کو جو راستے کا ماہر تھا، اجرت پر راستہ دکھانے کے لیے طے کیا، یہ شخص آل عاص بن وائل سہمی کا پکا حلیف تھا اور کفار قریش کے دین پر قائم تھا، جب اس کے سلسلہ میں اچھی طرح اطمینان ہو گیا تو اپنی دونوں اونٹنیاں اس کے حوالے کیں اور تین راتوں کے بعد غارِ ثور کے پاس صبح سویرے آنے کو کہا۔ عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ بھی آپ لوگوں کے ساتھ ہو لیے، اس طرح یہ چار نفری قافلہ ہجرت پر روانہ ہوا اور وہ راستہ بتانے والا آپ لوگوں کو ساحلی راستہ سے لے کر روانہ ہوا۔(البخاری: مناقب الانصار، باب ہجرۃ النبی صلي الله عليه وسلم ، رقم: 395)

صفحہ 1 از 5