سیرت سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت…

سیرت سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ

  محقق کبیر مولانا نافع رحمہ اللہ

صفحہ 6 از 6

سیدنا یزید بن ابی سفیانؓ کی وفات کی خبر جب امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقؓ کو پہنچی تو آپ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بن ابی سفیانؓ کو ان کے برادر حضرت یزیدؓ کی جگہ ملک شام کا امیر اور حاکم مقرر کر کے حکمنامہ شام روانہ کیا اور پھر حضرت ابو سفیانؓ کو ان کے فرزند حضرت یزیدؓ کی وفات پر تعزیت کی اور حضرت یزیدؓ کی جگہ ان کے برادر خورد حضرت معاویہؓ کو امیر مقرر کرنے کی خبر دی تو حضرت ابو سفیانؓ نے عرض کیا کہ اے امیرالمؤمنین آپ نے صلہ رحمی کا تقاضا پورا کیا ہے اور قرابت داری کا لحاظ رکھا ہے۔

فـلـمـا مـات يـزيـد بن ابی سـفـيـان سـنـه بـضـع عـشره جاء الـبـريـد عـمـر ؓ بـمـوتـه رد عمر البريد الى الشام بولاية معاويه ؓ مكان اخيه يزيد ؓ ثم عزى اباسفيان في ابنه يزيد فقال يا اميرالمومنين! مـن ولـيـت مـكـانـه؟ قـال الخـوه مـعـاويـه ؓ قـال وصلت رحـمـا يا امير المؤمنين

اور علامہ الذہبی نے مضمون ہذا کو بعبارت ذیل ذکر کیا ہے: 

ثم توفي بزيد فنعاه عمر الی ابی سفیان فقال ومـن امـرت مـكـانـه ـ قـال مـعـاويـه ـ فـقـال وصلتك یا اميرالمومنين رحم، وقال خليفه ثم جمع عـمـر ؓ الـشـام كـلـهـا لـمـعـاويـه ؓ وأقره عثمان۔

یعنی خلیفہ ابنِ خیاط لکھتے ہیں کہ حضرت یزیدؓ بن ابی سفیانؓ کے انتقال کے بعد حضرت فاروق اعظمؓ نے شام کا تمام علاقہ حضرت معاویہؓ کے زیر تحویل کر دیا پھر حضرت عثمانؓ نے اپنے دور خلافت میں حضرت معاویہؓ کو اس منصب پر بر حال رکھا۔

اور علامہ الذھبی نے اپنی تصنیف سیر اعلام النبلاء کے دوسرے مقام میں اس مسئلہ کو بالفاظ ذیل درج کیا ہے ۔

وتوفى يزيد ؓ في الطاعون سنه ثماني عشره - ولما احتضر استعمل أخاه معاويه ؓ على عمله فاقره عمر ؓ علی ذالک احتراما ليزيد وتنفيذا لتوليتہ۔

یعنی 18 ہجری والے طاعون (عمواس) میں سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا اور جب سیدنا یزید رضی اللہ عنہ کی وفات قریب ہوئی تو انہوں نے اپنے منصب و مقام پر اپنے برادر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو عامل بنایا۔

پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس چیز کا علم ہوا تو انہوں نے یزیدؓ کی تولیت کے نفاذ کے احترام کرتے ہوئے معاویہؓ کو اسی منصب پر فائز رکھا اور تبدیل نہیں کیا۔

مندرجہ بالا عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک بہت اہم مقام و احترام تھا اور آپ نے سیدنا یزیدؓ کی صلاحیت اور اسلامی خدمات کی قدر دانی کے پیش نظر یہ صورت اختیار فرمائی۔

حاصل کلام:

حضرت یزیدؓ بن ابی سفیانؓ کے متعلق مختصر سا اجمالی تذکرہ ناظرین کرام کی خدمت میں گزشتہ سطور میں پیش کیا ہے اس پر انصاف کے ساتھ نظر فرمائی جائے۔

  1. سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ نسب کے اعتبار سے بہترین شرف کے حامل ہیں کہ حضرت ام المؤمنین ام حبیبہؓ کے علاتی (سوتیلے) برادر ہیں اور حضرت امیر معاویہؓ کے بھی سوتیلے برادر کلاں ہیں۔
  2. سیدنا یزید رضی اللہ عنہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ اسلام لانے کے بعد بلا تاخیر ملی کارناموں میں مصروف ہو گئے تھے اور اولاً اسلامی غزوات میں شریک ہو کر دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرح غنائم سے وافر حصہ حاصل کیا اور ان سے منتفع ہوئے۔ غزوہ حنین کے شرکاء کے لیے قرآن مجید میں ان کے استعجاب کثرت پر تنبیہ کا ذکر ہے لیکن پھر ساتھ ہی اللہ کریم جل مجدہ کی جانب سے اپنے پیغمبر کریمﷺ اور مؤمنین پر نزول سکینہ بیان فرمائی گئی ہے اور غیر مرئی (فوج ملائکہ) کے نزول کا بیان فرمایا گیا ہے۔ اس میں ایمان والوں کے لیے عمدہ فضیلت مذکور ہے۔ اور جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس وقت غزوہ حنین میں شریک ہوئے تھے ان میں حضرت یزیدؓ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ اور ان کے والد حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور ان کے برادر خورد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ 3 حضرات شامل و شریک تھے۔ فلہٰذا یہ حضرات بھی اس موقع کی خیر و برکت اور فضیلت کی اشیاء سے کاملاً منتفع ہوئے۔
  3. سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیان ؓ کو کاتبان نبویﷺ میں شامل ہونے کا بھی شرف حاصل ہوا اور منصب کتابت سے نوازے گئے۔
  4. اور سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ عہد نبویﷺ میں بعض قبائل کے لیے امیر و عامل بنائے گئے ۔
  5. نیز عہد رسالت میں انؓ پر پورا اعتماد کیا جاتا تھا اور آپ ایک اہم ذمہ دار شخصیت تھے۔ اس بناء پر نبی کریمﷺ کے ملاقاتیوں کو بعض دفعہ ان کے پاس ٹھہرایا جاتا تھا۔ یہ اعزاز بھی یزیدؓ بن ابی سفیانؓ کو حاصل ہوا۔
  6. روایت حدیث نبویﷺ کی فضیلت بھی انؓ کو حاصل ہوئی اور اس شرف سے مشرف ہوئے۔
  7.  علاقہ شام میں افواج اسلامی کے امیر بن کر فتوحات کثیرہ کے باعث ہوئے اور وہاں فروغ اسلام کے لیے بے شمار اہم خدمات سر انجام دیں اور اشاعت دین کا اہتمام کیا۔ ان چیزوں کا ذکر تاریخی کتب میں تفصیلات کے ساتھ موجود ہے اور مختصر سے حالات ہم نے بھی ذکر کر دیے ہیں۔ دورِ صدیقیؓ اور دورِ فاروقیؓ دونوں ایام میں موصوف کے ملی کارنامے قابل ستائیش ہیں۔
  8. دین اور اسلام کے احیاء اور فروغ میں ہی سیدنا یزیدؓ الخیر کی زندگی کا خاتمہ بالخیر ہوا اور طاعون کی بیماری سے شرف شہادت حاصل کیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اول سے آخر تک اپنی تمام عمر انہوں نے دینی خدمات میں اور اپنے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی رضا جوئی کے لیے صرف کر دی۔ یہ بخت اور نصیب انہی حضرات کا حصہ تھا۔ (رضی اللہ تعالیٰ عنهم اجمعین) لہٰذا یہ حضرات اسلام میں اپنے مرتبہ و مقام کے اعتبار سے مدح و ستائش کے لائق ہیں نہ کہ نفریت و مذمت کے قابل۔ اور ان تمام امور فضیلت اور ملی کارناموں کے باوجود اگر بعض لوگوں کو یہ حضرات اسلام کے دشمن نظر آتے ہیں تو یہ ان کی نظر و فکر کا قصور ہے یہ مجاہدین اسلام کا قصور نہیں۔ خوب غور فرمائیں۔

صفحہ 6 از 6