سیرت سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت…

سیرت سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ

  محقق کبیر مولانا نافع رحمہ اللہ

صفحہ 5 از 6

پس ان کی گردن اڑا دینی چاہیے۔ اس موقعہ پر حضرت علی المرتضٰیؓ بھی موجود تھے مگر خاموشی اختیار کیے ہوۓ تھے۔ سیدنا عمرفاروقؓ نے سیدنا علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے ابوالحسنؓ! آپ کی اس مسئلہ میں کیا رائے ہے؟ تو حضرت علی المرتضٰیؓ نے جواب میں فرمایا کہ میری رائے یہ ہے کہ انہیں پہلے اس فعل سے رجوع اور توبہ کرنے کا موقعہ فراہم کیا جائے اگر یہ لوگ اپنے اس فعل سے توبہ کر لیں تو ان کو شراب خوری کی بناء پر اسی (80) درے لگوائے جائیں اور اگر یہ اپنے مؤقف سے توبہ ہی نہ کریں تو ان کی گردن اڑ دی جائے کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے کلام کی تکذیب کی ہے۔ اور اپنے دین میں انہوں نے ایسی چیز کو مشروع کیا ہے، جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں فرمایا۔

چنانچہ ان لوگوں سے توبہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تو انہوں نے اپنے مؤقف سے رجوع کر کے توبہ کر لی اور پھر انہیں شراب خوری کی سزا کے طور پر اسی درے لگوائے گئے۔ اکابر محدثین نے اس واقعہ کو بعبارت ذیل نقل کیا ہے۔ (7458)

شـرب قـوم مـن اهـل الـشـام الـخـمـر و عليـهـم يـزيـد بـن ابـي سـفـيـان وقـالـوا هـي لـنـاحـلال و تائولوا هذه الايه - "ليس على الذين آمنوا وعـمـلـوا الـصـلـحت جناح فيما طـعـمـوا" قال: و كـتـب فـيـهـم الـى عـمـر فـكـتـب ان ابـعـث بـهـم الـى قـبـل ان يـفـسـدوا مـن قـبـلـك فـلـمـاقـد مـوا عـلـى عـمـر استشـار فـيـهـم الـنـاس فـقـالوا: يا امـيـر الـمـومـنـيـن! تـرى انـهـم قـد كـذبـوا عـلـى الـلـه وشـرعـوا فـي ديـنـهـم مالم یاذن۔ 

مقام سرغ میں ملاقات:

ملک شام کی فتوحات کی طرف سیدنا عمر فاروقؓ کی خاص توجہ تھی۔ وہاں اسلامی جیوش کے امراء بڑی محنت کے ساتھ کام پر لگے ہوئے تھے اور فتوحات کا سلسلہ شروع تھا۔ پھر ان حالات میں حضرت عمر فاروقؓ کا وہاں خود تشریف لے جانا بعض دفعہ ضروری ہو جاتا تھا۔ اس سلسلہ میں مؤرخین نے تصریح کی ہے کہ کم و بیش چار دفعہ عمر فاروقؓ ملک شام میں تشریف لے گئے۔ دو بار 16 ہجری میں اور دو بار 17 ہجری میں۔ مؤرخ طبری نے اس مسئلہ کو بعبارت ذیل ذکر کیا ہے۔ فاتى عمرؓ الشام اربـع مـرات مـرتـيـن فـي سـنه سـتـه عـشـرومـرتـيـن سنه سبع عشرة .... الخ

چنانچہ 17 ہجری میں ایک دفعہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ شام کی طرف عازم سفر ہوئے متعدد مهاجرین و انصار حضرات شریک سفر اور ہم رکاب تھے۔ سرغ کے مقام پر جاکر فروکش ہوئے۔ علاقہ کے امراء الجیوش کو اطلاع ملی تو ذیل حضرات سیدنا فاروق اعظمؓ کی ملاقات کے لیے حاضر خدمت ہوئے۔سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ، سیدنا یزید بن ابی سفيان رضی اللہ عنہ اور سیدنا شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ یہ حضرات جیوش کے امراء تھے اور حضرت سیدنا ابو عبیدہ بن الجراحؓ امیر الامراء تھے۔

حتى نزل بسرع لـقـيـه أمـراء الاجناد ابوعبيده بـن الـجـراح ؓ يـزيـد بن ابی سفیانؓ و شـرحـبـيـل بـن حسنہؓ

ان اکابرین حضراتؓ کے اجتماع ہذا میں علاقہ کے اہم حوائج اور احوال امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروقؓ کی خدمت میں پیش کیے گئے۔

اس ضمن میں ان حضرات نے اطلاع دی کہ:  فاخبروه أن الارض سقيمہ

یعنی جس علاقہ کی طرف حضرت تشریف لے جانا چاہتے ہیں وہاں کی فضا خراب ہے اور بیماری پھیلی ہوئی ہے۔

اس موقعہ پر مختلف مشورے پیش ہوئے اور آگے سفر جاری رکھنے یا یہاں سے واپس ہونے میں بحث تبحیث ہوئی۔ آخر کار بقول مؤرخین حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ کے مشورہ اور قول کو ترجیح دی گئی اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ واپس مدینہ طیبہ تشریف لائے۔

حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ذیل فرمان نبویﷺ سب حضرات کے سامنے بیان کیا کہ آنجنابﷺ کا ارشاد ہے کہ کسی شہر یا علاقہ میں بیماری کی وبا معلوم کرو تو اس مقام میں مت جاؤ اور جہاں تم مقیم ہو وہاں وبا پھیل جائے وہاں سے بھاگ کر مت نکلو۔

اذا سمعتم بهذا الوباء ببلد فلا تـقـدمـوا عـلـيـه۔ واذاوقع وانـتـم بـه فـلا تـخـرجـوا قـرارا مـنه ...... الخ

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث مبارکہ سن کر فرمایا:

فلله الحمد الصرفوا ايها الناس فانصرف بھم۔

مختصر یہ ہے کہ اس مسئلہ پر حضرت عبد الرحمٰنؓ کے قول پر فیصلہ ہو جانے کے بعد حضرت عمر فاروقؓ اور ان کے ہم سفر حضرات مدینہ طیبہ کی طرف واپس تشریف لائے اور لشکروں کے امراء حضرات اپنے اپنے علاقہ جات کی طرف حسب موقع ہدایات لے کر واپس ہوئے۔ واقعہ ہذا کے ذریعہ سے واضح ہوا کہ سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ اپنے منصب کے لحاظ سے ایسے اہم مراحل میں شامل ہوتے اور ضروری مجالس میں شرکت کرتے تھے اور ملی خدمات سر انجام دینے میں پیش پیش رہتے اور فروغ اسلام کے لیے ہمہ وقت مصروف رہتے تھے۔

وفات:

سیدنا یزید رضی اللہ عنہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں ملک شام کے بعض علاقوں کا والی مقرر فرمایا تھا۔ جیسا کہ ماقبل میں بیان ہوا۔ اپنے عہدہ ولایت کے دوران دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی معیت اور رفاقت کے ساتھ بہت سے علاقوں کو فتح کیا۔ یرموک، اجنادین، اردن، فلسطین، حمص اور قیساریہ وغیرہ مقامات میں ان کے فاتحانہ کارنامے ایک امتیازی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان ایام میں دمشق کو فتح کر کے اسے اپنا مرکز قرار دیا ہوا تھا اور وہاں اقامت پذیر تھے۔ اتفاق سے اس علاقے میں طاعون (عمواس) کی وبا پھیل گئی جس میں متعدد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ وغیرھم کا انتقال ہوا اور سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے بھی دمشق میں اس مرض سے 18 ہجری میں وفات پائی اور بعض مؤرخین نے اس طرح بھی لکھا ہے کہ سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال دمشق میں فتح قیساریہ کے بعد 19 ہجری میں ہوا اور ان سے آگے ان کی نسل نہیں جاری ہوئی۔

حافظ ابنِ کثیر رحمۃ اللہ نے لکھا ہے:

صفحہ 5 از 6