سیرت سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت…

سیرت سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ

  محقق کبیر مولانا نافع رحمہ اللہ

صفحہ 4 از 6

اور سیدنا یزید رضی اللہ عنہ بن ابی سفیانؓ نے فلسطین اور اردن کے علاقہ جات میں بہت فتوحات حاصل کیں اور بصری وغیرہ کو صلح کے ساتھ فتح کیا۔ 

(فتوح البلدان للبلازری: صفحہ، 133 تحت فتح مدینہ و دمشق)

فتوحات سواحل دمشق:

نیز دمشق کے علاقہ کی فتوحات کے سلسلہ میں مؤرخ ابنِ اثیر نے الکامل میں لکھا ہے کہ جب فتح مدینہ دمشق تمام ہو گئی تو اسلامی عساکر کے امیر سیدنا ابو عبیدہؓ بن الجراح نے سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ کو امیر دمشق مقرر فرمایا اور خود مقام فحل کی جانب روانہ ہوئے۔

سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے سواحل دمشق مقامات کی طرف اپنا لشکر سمیت عازم سفر ہوئے۔ صیدہ، عرقہ جیل اور بیروت وغیرہ یہ دمشق کے سواحل پر شمار ہوتے تھے سیدنا یزیدؓ موصوف کے لشکر کے مقدمہ الجیش پر ان کے برادر خورد سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بن ابی سفیانؓ امیر نگران مقرر تھے۔ مذکورہ کئ مقامات کے لوگوں کو وقتی مصالحت کے تحت وہاں سے نکال کر جلا وطن کیا اور سواحل کے دیگر مواضع کو فتح کرکے اسلام کے زیر نگیں کردیا اور خصوصاً عرقہ وغیرہ کو سیدنا معاویہؓ نے سیدنا یزیدؓ موصوف کی نگرانی و تولیت کے تحت خود فتح کیا

لما استخلف ابو عبيده يزيد بن ابي سفيان رضي الله تعالى عنهما على دمشق وسار الى فحل سار يزيد الى مدينه صيدا وعرقه و جبيل و بيروت وهي سواحل دمشق على مقدمته اخوه معاوية رضي الله تعالى عنه ففتحها يسيرا. وجلاء كثيرا من اهلها وتولى فتح عرقه معاوية بنفسه في ولاية يزيد

(الكامل لابن الاثير الجزري ص 296جلد 2 تحت ذكر فتح بلادي ساحل دمشق)

تین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا طلب کیا جانا:

ملک شام میں اسلامی فتوحات کا سلسلہ جاری تھا کہ حضرت صدیق اکبرؓ 13 ہجری میں انتقال فرما گئے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ان کے بعد خلیفہ منتخب ہوئے اس دور میں کثرت فتوحات کی بناء پر دینی مسائل کی تعلیم کی ضرورت بڑھ گئی تو اس وقت سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ نے حضرت عمرؓ کی خدمت میں مکتوب(خط) ارسال کیا کہ

فلما استخلف عمر كـتـب يـزيـد بـن ابـی سـفـيـان اليه ان اهل الشام كثير وقد احـتـاجـوا الـى مـن يـعـلـمـهـم الـقـرآن ويـفـقـهـهـم فـقـال عـيـنـونـي بثلاثه فخرج معاذ وابو درداء وعباده (بن الصامت)

یعنی سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ نے سیدنا فاروق اعظمؓ کو لکھا کہ ارضِ شام میں کثرت سے اسلام پھیلا ہے اب یہاں ان کو قرآنی تعلیم اور دینی مسائل سمجھانے کی ضرورت درپیش ہے اس مقصد کے لیے کم از کم تین حضرات روانہ فرما کر ہماری اعانت کیجئے، تو حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی جانب سے اس کام کے لیے تین انصاری صحابہ سیدنا معاذ بن جبلؓ سیدنا ابودرداءؓ اور سیدنا عبادة بن صامتؓ کو شام بھیجا گیا تھا۔ ان حضرات نے علاقہ شام میں پہنچ کر دینی تعلیمات بڑے احسن طریقہ سے سر انجام دیں اور ملک کے مختلف جوانب و اطراف میں ملی خدمات کا فریضہ ادا کیا اور تعلیم عام کر کے اسلام کے فروغ کا باعث ہوئے۔

یہ تمام پروگرام سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ کی نگرانی میں ہوا۔

ایک مراسلہ فاروقیؓ:

سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ جس دور میں شام کے علاقے میں فتوحات کے سلسلہ میں مقیم تھے اس زمانے میں مرکز اسلام مدینہ طیبہ سے حضرت سیدنا عمر فاروقؓ کی جانب سے مختلف احکامات اور ہدایات جاری ہوتے تھے، اس ضمن میں صاحب کنز العمال علی متقی الہندی نے ایک فاروقیؓ مکتوب کا ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو ایک مراسلہ ارسال کیا اور ہدایت فرمائی کہ:

حسبِ دستور ایک اسلامی لشکر روانہ کیجئے اور ربیعہ کے قبیلہ سے ایک شخص کو اس کا امیر جیش بنا کر اس کو پرچم دیجئے کیونکہ میں نے ایک بار نبی کریمﷺ سے سنا کہ آپﷺ نے فرمایا کہ وہ جیش شکست نہیں کھائے گا جس کا جھنڈا ربیعہ قبیلہ کے شخص کے ہاتھ میں ہو گا۔

عن خالد بن معدان ان عمر بن الخطاب كـتـب الـى یـزيـد بن ابی سفیان) ان ابعث حـيـثـا وادفع لواء هـم الـي رجـل مـن ربـيـعـه فـانی سمعت رسول الله صلى الله عـلـيـه وسـلـم يـقـول لا يهزم جـيـش لـواء هـم مـع رجـل مـن ربـيـعـة۔

چنانچہ سیدنا فاروق اعظمؓ کی ہدایات کی روشنی میں سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ نے عمل در آمد کیا اور مجاہدانہ کارنامے سرانجام دیئے اور فروغ اسلام کی خاطر مساعی کیں۔

شرب خمر کا واقعہ:

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ ملک شام میں اپنی فتوحات کے سلسلہ میں علاقہ دمشق کے والی اور حاکم تھے۔ ان کی امارت کے ایام میں اہلِ شام کے بعض لوگ شراب خوری کے مرتکب ہوئے اور ساتھ ہی یہ دعویٰ کرنے لگے کہ یہ فعل ہمارے لیے حلال ہے، اور قرآن مجید کی آیت

لَـيۡسَ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِيۡمَا طَعِمُوۡۤا اِذَا مَا اتَّقَوا ۔۔۔ الخ (سورۃ المائدہ: آیت نمبر، 93) سے اپنے اس فعل کا غلط جواز پیدا کرنے کے لیے اس میں تاویل کرنے لگے۔ اس صورت حال سے سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ نے امیر المؤمنین حضرت عمرؓ کو بذریعہ مکتوب مطلع کیا۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے جواباً حکم نامہ ارسال فرمایا کہ اس سے قبل کہ یہ لوگ کسی فساد کا باعث بنیں انہیں ہماری طرف بھیج دیں۔

چنانچہ جب یہ لوگ حضرت عمر فاروقؓ کی خدمت میں پیش کیے گئے تو اس مسئلہ کے متعلق آپ نے اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ طلب فرمایا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اے امیر المؤمنینؓ! ہماری رائے میں ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے کلام کی غلط تاویل کرتے ہوئے تکذیب کی ہے اور دین میں ایسی چیز کو مشروع قرار دیا ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں فرمایا۔

صفحہ 4 از 6