سیرت سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت…

سیرت سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ

  محقق کبیر مولانا نافع رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 6

آپ کا مراسلہ (خط) ہمیں پہنچ گیا ہے اس میں درج ہے کہ ملک روم نے انطاکیہ کی جانب کوچ کیا اور مسلمانوں کی اجتماعی قوت سے اس کے قلب میں اللہ تعالیٰ نے خوف ڈالا ہے۔ اللہ تعالی ہمیں کافی ہے اور اس کے لیے حمد و ثنا ہے۔ ہم نبی کریمﷺ کی معیت میں ہوتے تھے اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرماتا تھا۔ اور اپنے ملائکہ کرام کے ذریعے ہماری خصوصی نصرت فرماتا تھا۔ یہ وہ دین ہے جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے رعب ڈالا ہے اور وہی دین ہے جس کی آج ہم لوگوں کو دعوت دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی قسم! اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مجرموں کی طرح نہیں بنائے گا۔ (بلکہ اہلِ اسلام کو غالب کر دے گا) جب ان کفار کے ساتھ آمنا سامنا ہو تو اپنے معاونین سمیت ان کے خلاف قتال کرو۔ اللہ تعالیٰ آپ کو رسوا نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی ہے کئی بار قلیل جماعت کثیر جماعت پر باذن اللہ غالب رہتی ہے۔ پھر اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ ملک شام کی طرف فوج بعد از فوج روانہ فرمانے لگے۔

جوابی مکتوب کی اصل عبارت:

1: رد ابی بکر عـلـى يـزيـد بـن ابـی سـفـيـان فـابوبکر۔

بـسـم الـلـه الـرحـمـن الـرحـيـم امـابـعـد فقد بلغنی کتابك تذكـرفـيـه تـحـمـل ملك الى انطاكيه والقاء الله الرعب في قلبه من جموع المسلمين فان الله ولـه الـحـمـد قـد نصرنا و نحن مع رسول الله ﷺ بالرعب و امدّنا بملائكـه الـكـرام وان ذالك الـديـن الـذي نصرنا الـلـه بـه بـالـرعـب ہو ہذا الدين الذي نـدعـوالـنـاس إليه اليوم فوربك لايجعل الله المسلمين. فاذا الـقـيـتـمـوهـم فـانـهـد الـيـهـم بـمـن مـعـك وقـاتـلـهـم بـان الـلـه لـن يـخـذلك وقد نبانا الله تبارك وتعالى ان الـفئـۃ الـقـلـيـلـۃ تـغـلب الفئة الكثيرة باذن الله .... وجـعـل ابـوبـكـر يـبـعـث بـالامداد الى الـشـام مـددا كالـمـحـرمـيـن ۔۔۔ تـلـومـدد۔

جنگِ جمل میں سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی ہدایات:

جنگ یرموک دشمنان اسلام کے خلاف (علی الاختلاف اقوال) 10 ہجری 15 ہجری میں لڑی گئی اور اسلام میں جنگ نہایت اہم تھی۔ اس جنگ میں سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ اسلامی لشکر کے ایک حصہ یعنی میسرہ پر امیر تھے اور آپ کے والد گرامی سیدنا ابو سفیانؓ بن حرب ضعف و پیری کے باوجود شریک ہوئے اور دوسری آنکھ کی بھی قربانی پیش کر کے نابینا ہو گئے۔ اور بصارتِ چشمی سے معذور ہو گئے۔ اس موقع پر مسلمانوں کو شدید قتال کا سامنا کرنا پڑا، مگر سیدنا یزید رضی اللہ عنہ نے دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرح نہایت ثابت قدمی اور جرات کا مظاہرہ کیا۔ اس دوران بعض دفعہ سیدنا ابو سفیانؓ اپنے فرزند سیدنا یزیدؓ کو تاکید فرماتے تھے کہ:

فاتق الله يا بني! ولا يكونن احد من اصحابك بارغب فى الاجر والصبر في الحرب ولا اجراء على عدو الاسلام منك. فقال افعل ان شاء الله فقال يومئذ قتالا شديدا مكان من ناحيۃ القلب رضي الله عنه

(البدایہ والنہایہ لابن کثیر: صفحہ، 14 تحت یرموک)

مطلب یہ ہے کہ:  اے بیٹے! (صرف) اللہ تعالیٰ سے خوف کیجیے۔ آپ کے ساتھیوں میں سے کوئی فرد جنگی معاملہ کے متعلق اجر و ثواب میں آپ سے زیادہ راغب نہ ہوں اور دشمنانِ اسلام کے خلاف آپ سے زیادہ کوئی جرات مند نہ ہو، تو سیدنا یزیدؓ نے اپنے والد گرامی کے فرمان کے جواب میں عرض کیا ان شاء اللہ تعالیٰ آپ کی نصیحت پر عمل کروں گا۔

چنانچہ سیدنا یزیدؓ نے نہایت شدید قتال کیا (اور فتح مندی سے ہمکنار ہوئے آئے) یہ واقعہ قبل ازیں ہم نے کتابچہ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ تحت اپنے بیٹے کو وصایا درج کیا تھا.

اہم معرکہ میں فتح:

ملک شام کے علاقہ میں مختلف مقامات پر اہلِ اسلام کو دشمن کے ساتھ قتال کرنے اور معارضہ کے بہت مواقع پیش آئے۔ چنانچہ طبری نے ان ایام میں ایک جنگی معارضہ کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ: 

مخالفین کی افواج میں ایک توزرا نامی شخص بڑا جنگجو بہادر تھا۔ اس کے ساتھ سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ کا شدید مقابلہ ہوا اس کے بعد عام جنگ شروع ہوئی۔ قتال کے دوران ہی پیچھے سے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آپہنچے اور اہلِ اسلام میں مخالفین کے ساتھ سخت قتال کیا اور وہاں سے بھاگ جانے والوں کو بغیر دشمن کے لشکریوں کو قتل کر ڈالا اور ان میں سے کوئی بچ کر نہیں گیا۔ اس موقع پر مسلمانوں کو مال غنیمت (سواریاں لباس اور دیگر مال ومتاع) بے شمار حاصل ہوا- پھر تمام مال غنیمت کو سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ نے اپنے مجاہدین رفقاء اور سیدنا خالد بن الولید رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں حسب دستور تقسیم کر دیا۔

غنائم کی تقسیم کے بعد سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ دمشق کی طرف اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اپنے امیر جیش سیدنا ابو عبیدہ بن الجراحؓ کی طرف روانہ ہو گئے۔

وقد بلغ يزيد ابن ابي سفيان رضي الله تعالى عنه الذين فعل توزرا. فستقبله فاقتتلوا ولحق بهم خالد فهم يقتلون فاخذهم من خلفهم فقتلوا من ايديهم ومن خلفهم فاناموهم فلم يفلت منهم الا الشريد فاصاب المسلمون ماشاء و امن ظهرواداة و ثياب وقسم ذالك يزيد بن ابي سفيان على اصحابه و اصحاب خالد.ثم انصرف يزيد الى دمشق وانصرف خالد الى أبي عبيدة

(تاریخ طبری: صفحہ نمبر، 598،599 جلد ثالث تحت 15 ہجری طبع جدید مصر)

فتح مدینہ و دمشق:

شہر دمشق محاصرہ پر مؤرخین نے لکھا ہے صورت ذیل میں اکابر حضرات محاصرہ کئے ہوئے تھے۔ مدینہ دمشق کے بعد الشرق پر سیدنا خالد بن ولیدؓ ،باب توما پر سیدنا عمرو بن العاصؓ، باب الفرادیس پر سیدنا شرحبیل بن حسنہؓ، باب الجابیہ پر سیدنا ابو عبیدہ ابن الجراحؓ اور باب الصغیر جسے کسیان کہتے تھے اس پر سیدنا یزیدؓ بن ابی سفیانؓ محاصرہ کیے ہوئے تھے۔

(فتوح البلدان للبلازری: صفحہ، 127 تحت فتح مدینہ دمشق۔)

پھر ابو عبیدہ القاسم بن سلام نے اپنی تصنیف کتاب الاموال میں اس طرح تحریر کیا ہے کہ:

دخلها يزيد ابن ابي سفيان من الباب الصغير كسرا ودخلها خالد بن الوليد من الباب الشرقي صلحا.

(كتاب الانبال لابي العبيد بن القاسم بن سلام: صفحہ، 177 روايت، 478 تحت أمر دمشق و فتحها)

صفحہ 3 از 6